آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے

ظہیراحمدظہیر — اپریل 24، 2020 1:30 صبح
ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔
٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے
بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے
دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے
آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے
۔ ق ۔
جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے
نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے
۔


شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے
٭٭٭
مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے
آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے
اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے

٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 24، 2020 2:25 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی. پہلی غزل کا مطلع تو بہت ہی اعلی ہے.
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 24، 2020 3:45 صبح
ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔
٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے
بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے
دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے
آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے
۔ ق ۔
جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے
نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے
۔


شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے
٭٭٭
مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے
آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے
اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے

٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹
خوبصورت خوبصورت۔ کیا بات ہے صاحب! کیا بات ہے!
محمد تابش صدیقی — اپریل 24، 2020 4:31 صبح
لاجواب۔
کیا ہی اچھے اشعار ہیں۔
آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے
بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے
دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے
نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے
فرخ منظور — اپریل 28، 2020 9:27 صبح
واہ کیا اچھا دو غزلہ ہے ظہیر بھائی
خوش رہیے۔
شکیل احمد خان23 — اپریل 29، 2020 7:21 شام
ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔
٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے
بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے
دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے
آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے
۔ ق ۔
جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے
نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے
۔


شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے
٭٭٭
مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے
آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے
اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے

٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹
ہر شعر معنی و مفہوم کا جہانِ بیکراں لیے گردشِ دوراں اور مائل بہ۔۔۔۔ بلکہ روبہ زوال قدروں کا بہترین عکاس وترجمان و نوحہ خواں و فریاد کناں۔محترم آپ کی تخلیقات میں مجھ ایسے مبتدی کے سیکھنے کا جو بیش بہا سامان پایا جاتا ہے اُسے دیکھ کرذہن میں آتشؔ کا استفہام تازہ ہو جاتاہے : قارون نے لُٹایا رستے میں خزانہ کیا؟
فریب زارِ نظر۔۔۔میکانیات۔۔۔غبارِ وقت۔۔۔۔تمثیل گاہِ وقت ۔۔۔۔۔کوئے ستم جیسی نادرہ کارترکیبوں اور لفظیات نے تو اپنی طرف کھینچا مگر اِس شعر نے تو جیسے مجھے جکڑ ہی لیا ہے:
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر۔۔۔۔۔وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے(غالب) خدا آپ کے علم و فضل میں برکت فرمائے ، آمین!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 30، 2020 10:58 شام
بہت خوب ظہیر بھائی. پہلی غزل کا مطلع تو بہت ہی اعلی ہے.
آداب! بہت نوازش راحل بھائی ! اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 30، 2020 10:59 شام
خوبصورت خوبصورت۔ کیا بات ہے صاحب! کیا بات ہے!
آداب عرض ہے خلیل بھائی! ذرہ نوازی ہے ! سپاس گزار ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 30، 2020 11:00 شام
لاجواب۔
کیا ہی اچھے اشعار ہیں۔
نوازش! بہت بہت شکریہ تابش بھائی! آپ ہمیشہ قدر افزائی کرتے ہیں ۔ اللہ خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 30، 2020 11:01 شام
واہ کیا اچھا دو غزلہ ہے ظہیر بھائی
خوش رہیے۔
آداب! بہت نوازش فرخ بھائی! عزت افزائی کے لئے ممنون ہوں ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — اپریل 30، 2020 11:10 شام
ہر شعر معنی و مفہوم کا جہانِ بیکراں لیے گردشِ دوراں اور مائل بہ۔۔۔۔ بلکہ روبہ زوال قدروں کا بہترین عکاس وترجمان و نوحہ خواں و فریاد کناں۔محترم آپ کی تخلیقات میں مجھ ایسے مبتدی کے سیکھنے کا جو بیش بہا سامان پایا جاتا ہے اُسے دیکھ کرذہن میں آتشؔ کا استفہام تازہ ہو جاتاہے : قارون نے لُٹایا رستے میں خزانہ کیا؟
فریب زارِ نظر۔۔۔میکانیات۔۔۔غبارِ وقت۔۔۔۔تمثیل گاہِ وقت ۔۔۔۔۔کوئے ستم جیسی نادرہ کارترکیبوں اور لفظیات نے تو اپنی طرف کھینچا مگر اِس شعر نے تو جیسے مجھے جکڑ ہی لیا ہے:
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر۔۔۔۔۔وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے(غالب) خدا آپ کے علم و فضل میں برکت فرمائے ، آمین!
بہت شکریہ شکیل بھائی! بہت نوازش! اس قدر عزت افزائی پر بہت ممنون ہوں ۔ یہ ذرہ نوازی ہے آپ کی ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے! فلاحِ دارین نصیب فرمائے۔ آمین ۔
ایک چھوٹی سی گزارش یہ ہے کہ اسمِ گرامی کے آگے سے 23 کا عدد ہٹوالیجئے ۔ یہ کچھ ٹھیک نہیں لگتا ۔ سخنوروں کا نام بھی شاعرانہ ہونا چاہئے ۔ اگر 23 کے اس عدد کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہے تو اس بے طلب مشورے کے لئے پیشگی معذرت خواہ ہوں ۔
مریم افتخار — اپریل 30، 2020 11:26 شام
اگر 23 کے اس عدد کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہے تو اس بے طلب مشورے
عمومی طور پر مطلوبہ یوزر نیم دستیاب نہ ہونے کے باعث ایسا کیا جاتا ہے. :) :)
مریم افتخار — اپریل 30، 2020 11:29 شام
آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے
ہم تو خود کو اس قابل بھی نہیں پاتے کہ ایسے اچھے اشعار کی داد دے سکیں. دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلم کو اسی طرح آپ کے لیے مسخر کیے رکھیں! :) :)
شکیل احمد خان23 — مئی 1، 2020 4:06 صبح
عمومی طور پر مطلوبہ یوزر نیم دستیاب نہ ہونے کے باعث ایسا کیا جاتا ہے. :) :)
میری شہزادی بہن نے بالکل دُرست کہا،محترم !
میں خود بھی اپنے نام کے ساتھ اِن اعدا د سے جُز بُزہورہتا ہوں مگر اب مریم بی بی صاحبہ اور محترم خلیل الرحمٰن صاحب ہی سے اپیل ہے، کچھ علاج اِس کا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 1، 2020 6:14 صبح
میری شہزادی بہن نے بالکل دُرست کہا،محترم !
میں خود بھی اپنے نام کے ساتھ اِن اعدا د سے جُز بُزہورہتا ہوں مگر اب مریم بی بی صاحبہ اور محترم خلیل الرحمٰن صاحب ہی سے اپیل ہے، کچھ علاج اِس کا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مندرجہ ذیل لنک پر جاکر اپنی شکایت درج کروادیجیے تاکہ منتظمین متوجہ ہوں۔
سید رافع — مئی 1، 2020 7:59 صبح
شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

بہت خوبصورت کلام ہے۔ اللہ آپکو عافیت و سلامتی سے رکھے۔اگر اجازت ہو تو کیا بطور طالب علم ایک سوال کر سکتا ہوں۔ کیا شاعری کو اخبار کی طرح ہونا چاہیے کہ جو دیکھا بیان کیا یا کسی عمدہ محقق کی مسائل حل کرتی ہوئی کتاب کی طرح؟ میں نے یہ اس لیے پوچھا کہ لوگ خبر سے زیادہ امید افزا خبر کے متلاشی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اگر میں سوال صحیح طریقے سے نہ پوچھ پایا ہوں تو اسے میری کم علمی پر محمول کیجیے گا۔
الف عین — مئی 1، 2020 7:59 صبح
بہت خوب، اس کو تو 'سمت' کے لئے منتخب کر لیتا یوں اگلے شمارے کے لئے
شکیل احمد خان23 — مئی 1، 2020 8:27 صبح
مندرجہ ذیل لنک پر جاکر اپنی شکایت درج کروادیجیے تاکہ منتظمین متوجہ ہوں۔
محترم محولہ ربط دیکھنے میں نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 1، 2020 9:33 شام
ہم تو خود کو اس قابل بھی نہیں پاتے کہ ایسے اچھے اشعار کی داد دے سکیں. دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلم کو اسی طرح آپ کے لیے مسخر کیے رکھیں! :) :)
بہت بہت شکریہ مریم! اس قدر افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ۔ سخنوروں کی طرف سے کلمۂ تحسین شاعر کے لئے سرمایہ ہوتا ہے ۔ اللہ کریم آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائے اور انہیں بے زوال رکھے! آمین
ظہیراحمدظہیر — مئی 1، 2020 9:38 شام
بہت خوب، اس کو تو 'سمت' کے لئے منتخب کر لیتا یوں اگلے شمارے کے لئے
بہت شکریہ! استادِ سخن طرف سے حوصلہ افزائی اور پذیرائی پر سراپا سپاس ہوں ۔
اللہ کریم آپ کا سایہ سلامت رکھے ، صحت و تندرستی قائم و دائم رکھے، آپ کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے! آمین ۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D9%88%DA%A9%DB%8C%D8%A7%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%DB%92.111511/