گویا اگر اس مصرع کو کچھ بھی حذف کیے بغیر یوں کر دیا جائے:
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو، یہ راحیلؔ میاں دستک تھی
فعل + فعولن + فعل + فعولن + فعلن + فعل + فعولن + فعلن
تو اس صورت میں اعتراض رفع ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ کوئی طاق سبب ایسا نہیں رہ جاتا جو ثقیل ہو۔
لیکن اس صورت میں سلمان بھائی اور ان کے استادِ گرامی بھی کیا راضی ہو جائیں گے جو ایک رکن کو اضافی قرار دے رہے ہیں؟
عمومی طور پر ہر بحر اور خصوصی طور پر اس بحر میں الفاظ کی نشست و برخاست سے اوزان بدلتے اور ارکان کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں. جس کی تازہ مثال آپ کا یہ ری ارینج کیا ہوا مصرح ہے، جو پہلے ایک رکن کی زیادتی اور ناگوار سی اٹکن کا مریض تھا لیکن اب وزن میں پورا ہو کر رواں ہو گیا ہے. راحیل صاحب یہ الفاظ کی نشست و برخواست ہی کا جادو ہے کہ کسی مصرح میں دو جگہ پر ایسے الفاظ آئیں جن کا آخری حرف اسقاط کے عمل سے گزرے اور اگلے اکہرے لفظ کے ساتھ متصل ہو کر دو رکنی بنائے تو پورے مصرع میں ایک رکن کی اضافی گنجائش نکل آتی ہے..
چلیے، اتفاق کی ایک راہ تو نکلی۔ میں
مزمل شیخ بسمل کا بالخصوص شکرگزار ہوں کہ وہ فیس بک پر میری درخواست کے نتیجے میں وقت نکال کر تشریف لائے اور اپنی آرا سے نوازا۔
لیکن 'مری تعمیر میں مضمر تھی اک صورت خرابی کی' کے مصداق اس راہ میں کئی اور سوالات کے ناگ پھنکار رہے ہیں جن کی جانب میں احباب کی توجہ چاہتا ہوں۔
1۔ ہم مصرع میں ترتیب کی تبدیلی پر متفق تو ہو گئے ہیں مگر اصل اعتراض کچھ اور تھا۔
میرے خیال میں" رہے ہو" میں "ہو "زائد ہے بحر کے حساب سے فاضل ہے۔
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو ، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
عاطف صاحب سے متفق ہؤں. معاملہ راحیل پر اٹکتا ہے،
شعر سمجھ کر جھوم اُٹھے، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
آپ نے رہے ہو میں ہو کا واؤ اور راحیل کا الف بھی ساقط کر کے باندھا ہے ۔ اس طرح تقطیع (میرےعروضی فہم یا بدفہمی کے مطابق ) بحر کی حد میں آجاتی ہے۔لیکن بادی النظر میں میرا شعری و عروضی ذوق اس کا متحمل نہ ہوسکا ۔
غالبا اس اشکال کی وجہ یہ ہوئی کہ میرا ذہن واؤ کے بعد فوراً ہی ا کے سقوط کو قبول نہ کرپایا۔
یا تو "جھوم رہے ہو" کو "جھوم اٹھے" کرلیں یا پھر راحیل میں الف حذف کرکے لکھیں۔ تاکہ بادی النظر میں غلطی کا امکان نہ رہے۔
اب سرا کسی طرف سے بھی پکڑ لیا جائے، عروضی اور علمی اعتبار سے آخری نتیجہ یہی نکلے گا کہ مصرع میں "ہو" یعنی ایک رکن اضافی ہے۔
یہ سب ابتدائی اعتراضات مصرعے میں کہیں ایک اضافی رکن کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن اصلاح شدہ مصرعے میں، جس پر سب نے اتفاق کیا، نہ صرف یہ کہ کوئی رکن حذف نہیں کیا گیا بلکہ ایک حرف تک اور ساقط نہیں ہوا۔ یہ عجیب بات نہیں؟
2۔ عروض کے دائروں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر بحروں میں حرکات و سکنات کی تعداد بالکل برابر ہوتی ہے مگر ترتیب بدلنے سے بحر بدل جاتی ہے۔ لیکن ہماری اصلاح میں تو بحر بھی نہیں بدلی۔ ارکان میں بھی سرِ مو فرق نہیں پڑا۔
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو، راحیلؔ میاں یہ دستک تھی
شعر سمجھ کر جھوم رہے ہو، یہ راحیلؔ میاں دستک تھی
پھر مصرعے کی ہئیتِ اولیں کو غیرموزوں قرار دینا چہ معنیٰ دارد؟
3۔ جہاں تک مزمل بھائی کے قاعدے کا تعلق ہے تو اس کا مدار غالباً اس خیال پر ہے:
اب بحر کے ارکان کی طرف آئیں تو یہ بحر اپنی بنیاد میں 16 اسباب رکھتی ہے۔
کیا میرے عزیز دوست چوک گئے؟
بحرِ ہندی کی رائج کلاسیکی شکل 15 اسباب کے ساتھ ہے۔ مثالیں واضح ہوں:
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
(میرؔ)
ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سررشتے، بھول گئے
(انشاؔ)
ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی
(جونؔ)
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے
(جرأتؔ)
لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا مے خانہ ہے
(میرا جی)
یہ البتہ ہے کہ میں نے نسبتاً کم مروج شکل میں غزل پورے 16 اسباب کے ساتھ کہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مزمل صاحب کا مجوزہ قاعدہ کیا اس صورت میں بھی لاگو ہو گا؟
اب قاعدہ یہ ہے کہ مذکورہ بحر میں ہر طاق سبب (فع) بطورِ سبب خفیف ہی آئے گا۔ یعنی یہ کہ ہر طاق فع کے عین کو ساکن رکھنا لازم ہے۔ اور جفت میں اختیار ہے کہ متحرک برتیں یا ساکن۔
کچھ نظائر 16 اسباب کے ساتھ بھی ملاحظہ ہوں:
اللہ اگر توفیق نہ دے، انسان کے بس کا کام نہیں
(جگرؔ)
آزاد منش رہ دنیا میں، پروائے امید و بیم نہ کر
(جوشؔ)
انشاؔ جی، اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
(ابنِ انشاؔ)
اب ذرا غور فرمائیں تو جگرؔ کے مصرع میں تیسرا، ساتوں، گیارہواں اور پندرہواں سبب ثقیل ہے۔ جوشؔ کے مصرع میں تیسرا، گیارہواں اور پندرہواں سبب اور ابنِ انشاؔ کے مصرع میں تیسرا، ساتوں، گیارہواں اورتیرہواں سبب ثقیل ہے۔ یاد رہے کہ یہ ان غزلیات کے مطلعوں کے صرف مصرع ہائے اولیٰ ہیں۔ قس علیٰ ہٰذا!
جبکہ مصرعِ زیرِ بحث میں فقط ایک جگہ یہ رعایت لی گئی تھی جیسا کہ مزمل صاحب خود فرماتے ہیں:
آپ نے مذکورہ مصرع میں گیارھواں (طاق) سبب متحرک عین کے ساتھ باندھ دیا ہے جس کی وجہ سے مصرع بحر سے ساقط ہوگیا ہے۔
ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ آئندہ گفتگو میں ہمیں سند کا تقاضا بار بار نہ کرنا پڑے!
سند کے لیے میں یہی کہوں گا کہ علمِ عروض پر کوئی بھی مستند کتاب ملاحظہ فرما لیں۔

چند نام میں ذکر کردیتا ہوں:
قواعد العروض از قدر بلگرامی۔
بحر الفصاحت از نجم الغنی رامپوری
آئینۂ بلاغت از مرزا عسکری
چراغِ سخن از مرزا یاس عظیم آبادی
آہنگ اور عروض از کمال احمد صدیقی
بارِ ثبوت مدعی کے نازک کاندھوں پر۔
میرا کوئی اعتراض ناگوار گزرا ہو تو میں اپنے دوست کا ماتھا چوم کر جپھی پا کر معافی چاہتا ہوں.
لو یو راحیل صاحب
ناگوار گزرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بھائی۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک مفید، خرد افروز اور تعمیری بحث اس بہانے آغاز ہوئی۔ لو یو، ٹو!
میں نےاپنے استاد گرامی سے رائے لی تو انہوں نے بھی بسمل صاحب کے دلائل اور موقف کی تائید کی ہے۔
سلمان بھائی۔ اپنے استادِ گرامی کا تعارف کروائیے یا کم از کم اسمِ گرامی سے تو ضرور مطلع فرمائیے۔ عین ممکن ہے کہ اس قضیے کے فیصل ہونے تک ہم بھی ان کے مرید ہو جائیں!

یہاں یہ صراحت ازبس ضروری ہے کہ میں اس بحث میں قطعی طور پر کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوں۔ میرے شعور، تحت الشعور اور لاشعور میں یہ امکان پوری قوت سے جگمگا رہا ہے کہ میرا مصرع غیر موزوں ہو سکتا ہے۔ لیکن اس امکان کی روشنی سے حقیقت کو منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ میرے فاضل دوست دلائل کے دریچے وا فرمائیں۔ میں انھیں مایوس نہیں کروں گا!


بالفاظِ دیگر، میں اس مصرعے کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ محض اپنے عروضی فہم کو آزمانا چاہ رہا ہوں۔ اگر اس فہم میں کوئی جھول سامنے آتا ہے تو آپ نہ صرف اس مصرعے کو بلکہ اور بہت سے مصرعوں کو بھی بدلا ہوا پائیں گے۔ کیونکہ مبینہ عیب اسی غزل میں چند اور جگہوں پر بھی موجود ہے جن کی جانب یقیناً احباب کا دھیان نہیں گیا۔
