نہایت اعلیٰ کلام اور جداگانہ طرزِ نگارش!!!
سہ غزلہ کی صورت میں بہت عمدہ پیشکش ہے۔
سبھی اشعار خوب ہیں۔
نوازش ، بہت بہت شکریہ لا المٰی! اس قدر افزائی پر ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔ سخنوروں کی طرف سے داد و تحسین الگ ہی حیثیت رکھتی ہے ۔ بہت ممنون ہوں ۔
اپنی معلومات میں اضافے کے لیے آپ سے ایک معمولی وضاحت درکار ہے۔ کیا اول غزل کے مطلع میں“ہزار ماتم“ کے ساتھ “ہے” کا استعمال درست ہے، ہزار کی مناسبت سے یہاں “ ہیں” کا محل نہیں؟
یا پھر لفظ "آگہی" ہی کا تسلسل دوسرے مصرعے تک ہے۔
ہزار ماتم کہنا نہ صرف درست ہے بلکہ فصیح ہے ۔ آتش کا یہ مشہور شعر آپ کی نظر سے یقیناً گزرا ہوگا:
سفر ہے شرط ، مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
اس موضوع پر مزید تفصیل کے لئے میرا یہ مراسلہ اور اس کے نیچے کا مراسلہ ضرور دیکھ لیجئے ۔
میں وہ پیاسا ہوں جس کی سیرابی
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے
میری ایک طالب علمانہ رائے ہے اگر گراں خاطر نہ ہو تو۔۔۔اس شعر کے مصرع اولیٰ پر ایک بار نظرِ ثانی کر لیجئے۔
" آب “ کے مقابلے میں “سنگ“ سے بھی پیاس کا بجھ جانا یا سیراب ہونا، قدرے عجیب معلوم ہو رہا ہے۔
یقیناً یہاں سیرابی کی نوعیت مختلف ہوگی اور اگر میں درست سمجھی ہوں تو اس سے مراد ہجرِ اسود کا بوسہ لینا ہے جس کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔ اگر مناسب لگے تو یہی مفہوم الفاظ بدل کر ادا کیجئے۔
ذیل میں ایک تجویز ہے اگر آپ کو بہترمعلوم ہو۔
میری تشنہ لبی مٹانے کو
سنگِ اسود ہے آبِ زمزم ہے
یا پھر اپنے ذوقِ سلیم کے مطابق کچھ اور کہہ کر دیکھیے۔
یہ شعر تو بہت سوچ سمجھ کر لکھا تھا میں نے ۔ آپ اس شعر تک پہنچ بھی گئیں اور نہیں بھی پہنچیں ۔
آپ اس شعر تک اس لحاظ سے تو پہنچ گئیں کہ یہاں مراد سنگِ اسود کا بوسہ لینا ہے اور یقیناً اس شعر میں ایک مختلف قسم کی سیرابی کی بات ہورہی ہے ۔ لیکن آپ پیاس اور سیرابی کے مفاہیم کو درست سمت میں نہیں دیکھ رہیں ۔
تشنہ لبی اور پیاس ہم معنی نہیں ہیں ۔ تشنہ لبی کے معنی تو محدود ہیں یعنی پانی کی پیاس (پیاس سےہونٹوں کا خشک ہونا)۔ اس کے برعکس پیاس اور پیاسا کے معنی بہت وسیع ہیں ۔ ان الفاظ کا اطلاق بہت ساری ضرورتوں پر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یوں تو کہہ سکتا ہے کہ میں محبت کا پیاسا ہوں یا مجھے علم کی پیاس ہے لیکن ان مفاہیم کو تشنہ لبی کے الفاظ کی مدد سے بیان نہیں کہا جاسکتا ۔ اسی طرح سیرابی کا لفظ بھی وسیع ہے اور کسی بھی قسم کی تسکین کے لئے عام مستعمل ہے ۔ جیسے فلاں منظر دیکھ کر آنکھیں سیراب ہوگئیں یا فلاں کلام سن کر روح سیراب ہوگئی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
چونکہ اس شعر میں پیاس سے مراد عقیدت اور عبودیت کی تڑپ کا اظہار ہے اسی لئے صرف پیاسا نہیں کہا گیا بلکہ " میں
وہ پیاسا ہوں ۔۔۔" کے الفاظ استعمال کئے گئے ۔ یعنی میں اس قسم کا پیاسا ہوں کہ جس کی پیاس سنگِ اسود کو چومنے اور آبِ زمزم نوش کرنے سے سیراب ہوگی ۔ ۔ ظاہر کہ یہ دونوں عمل بذاتِ خود کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ مقصد تو ربِّ کعبہ کے آستانے پر حاضری اور سجدہ ریزی ہے کہ یہی عبودیت کی معراج ہے ۔
پیاس ، سیرابی ، سنگِ اسود اور زمزم کے مربوط تلازمات تو شعر کی خوبی میں شمار کئے جائیں گے ۔ مراعات النظیر کی صنعت کہلائیں گے ۔
اس شعر میں پیاس کی جگہ تشنہ لبی لانے سے شعر سطحی ہوجائے گا اور لسانی لحاظ سے غلط بھی ہوجائے گا کہ تشنہ لبی پتھر چومنے سےختم نہیں ہوتی ۔ امید کہ اب اس شعر کی پرتیں کچھ کھل گئی ہونگی ۔