میری گزارش کو اگر "دخل در معقولات" نہ سمجھا جائے تو عرض کروں؟ کسی جرح میں نہ ڈالئے گا، نظر انداز کرنے کا حق آپ کو بہر حال حاص ہے۔
مصرع کے آخر میں یائے معروف یا مجہول؛ واوِ مجہول واقع ہو اور اس سے پہلے ہمزہ ہو، اس کی تو بہت مثالیں ہیں کہ ایسی یاے یا واو کو گرا بھی دیتے ہیں (گرانا لازم نہیں ہے)۔ یہ اسقاط ہمزہ کے سوا کوئی اور حرف ہو تو وہاں ایسی یاے یا واو کو گرانے کی کوئی مثال اتفاق سے میری نظر سے نہیں گزری۔ سو میں یہ گمان کرتا ہوں کہ ایسا اسقاط صرف ہمزہ کے ساتھ خاص ہے۔؛ اور دوہے میں تو یہ بہت عام ہے۔ دیگر شاعری میں بھی ہے۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ کسی وزن کے آخر میں ہجائے کوتاہ کا واقع ہونا اور یاے، واو کو گرا کر ہجائے کوتاہ باقی رہ جانا دو مختلف مظاہر ہیں۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ مثلاً ہم مصرع کے آخر میں "باتیں کتابی" کی یاے کو گرا دیتے ہیں تو صوت بچتی ہے "باتیں کتاب"۔ یہ صورت میرے نزدیک مستحسن نہیں۔
اسقاط یا گرانا (جو بھی نام آپ دے لیجئے) اور ایصال ایک سہولت ہے، لازم قطعاً نہیں ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے میں اگر آپ کے شعر کا حسن جاتا ہو، جمالیات اور نرماہٹ متاثر ہوتی ہو، کوئی معنوی اِشکال پیدا ہوتا ہو، شعر اپنے شعری مقام سے ہٹتا ہو، (وغیرہ) تو اس سہولت کو کام میں نہ لانا اولیٰ۔ لہٰذا اس پر اصرار نہیں کیا جانا چاہئے یعنی اسے لازم قرار نہ دیا جائے۔
تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ بسا اوقات ایصال سے شعر میں روانی بڑھتی ہے یعنی بہتری آتی ہے۔
برائے توجہ جناب
سلمان دانش جی ، جناب
ظہیراحمدظہیر ، جناب
الف عین ۔