یہاں تو پیپر ری چیک ہو گیا!!!
کیسا سقم ہے ضرور آگاہ کیجئے ۔ مجھ پر واضح نہیں ہو سکا۔
جی ضرور۔ ذیل میں لکھتا ہوں
اب پانیوں کا ناؤ سے ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
چونکہ یہ شعر ناؤ کے نقطۂ نظر سے کہا گیاہے اس لیے ناؤ کے ناطے کی بات ہونا چاہیے نہ کہ پانیوں کے ناطے کی۔ یعنی مصرع اول یوں ہونا چاہیے:
اب پانیوں سے ناؤ کا ناطہ نہیں رہا
دوسری بات یہ کہ پانیوں کا لفظ اُس سیاق و سباق میں درست ہوتا ہے جب زندگی کے ایک سے زیادہ مراحل /مشکلات/ سلسلوں کی بات ہو ۔ لیکن اس شعر کے دوسرے مصرع میں واحد دریا کا ذکر ہے کہ جو چڑھا ہوا تھا اور اب اتر گیا۔ اس لیے مصرعِ اول میں پانیوں کے بجائے پانی کا محل ہے۔ اسے یوں کر کے دیکھیے:
طغیانیوں سے ناؤ کا ناطہ نہیں رہا
کرنا تھا جس کو پار وہ دریا اتر گیا
منزل نہ راہِ شوق، نہ ہی کوئی رہنما
ہر شخص ابتلائے سفر میں ہے مبتلا
مصرع اول میں جو روز مرہ اسلوب آپ نے استعمال کیا ہے اس میں " ہی "کی گنجائش نہیں۔ اصولاً یوں ہونا چاہیے: منزل نہ راہِ شوق نہ کوئی رہنما ۔ جیسے کہتے ہیں: نہ آدم نہ آدم زاد ، نہ نماز نہ روزہ وغیرہ
اسے یوں کر دیکھیے:
منزل نہ راہِ شوق نہ اب کوئی رہنما
ہر شخص ابتلائے سفر میں ہے مبتلا
مہندی لگے جو ہاتھ پہ، یا زخم ہوں ہرے
چڑھتا نہیں ہے ہر کسی پر رنگ ایک سا
اس شعر میں لفظ جو کا کوئی محل نہیں ہے ۔ اس کی نثر بنا کر دیکھیے تو واضح ہوجائے گا۔
جو ہاتھ پر مہندی لگے یا زخم ہرے ہوں
یہ جملہ بے معنی ہے ۔ "جو " ضمیر موصول ہے اور اسے استعمال کرنے کے بعد صلہ آنا ضروری ہے ۔ جیسے جو لوگ چلے گئے تھے وہ آگئے ، جو بات میں چاہتا تھا وہ ہوگئی ۔ وغیرہ ۔
جو کا لفظ "اگر "کے معنوں میں استعمال کیا جائے تو پھر بعد کا فقرہ تو سے شروع کرنا ہوتا ہے ۔ جیسے : مہندی لگے جو ہاتھ پر تو ماتھا نہ پونچھئے ۔ وہ آئیں جو یہاں تو دروازہ نہ کھولیے ۔ وغیرہ
ڈھلتا رہا خیال کسی صورتِ بتاں
اڑتی رہی تھی خاک حقیقت کی جا بجا
صورتِ بتاں کی ترکیب سے پہلے "کسی" کا لفظ نہیں آئے گا۔ صورتِ بتاں کا مطلب ہوتا ہے بتوں کی طرح ، مثلِ بتاں ، بتوں کی صورت۔
کسی بت کی طرح ، کسی بت کی مثل ، کسی بت کی صورت تو ٹھیک ہے لیکن کسی صورتِ بتاں درست نہیں ۔