اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو

شاکرالقادری — جولائی 28، 2012 8:43 صبح
کس نے
محمداحمد — جولائی 28، 2012 9:13 صبح
اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو
جیت ہو اور نا کسی کی مات ہو
اردو محفل میں آپ کی پہلی غزل ہم نے آج پہلی بار پڑھی اور خوب لگی بلکہ بہت خوب لگی۔
مہ جبین — جولائی 28، 2012 4:53 شام
زخم دل کے چین سے رہنے نہ دیں
روزِ روشن ہو کہ کالی رات ہو
واہ واہ پہلی غزل بہت ہی خوب کہی آپ نے
ویسے آپ جیسے کہنہ مشق شاعر کے کلام کی داد دیں تو اسے کہتے ہیں
"سورج کو چراغ دکھانا "
محمد وارث — جولائی 30، 2012 6:47 صبح
شکریہ آپ سب دوستوں، نوازش آپ کی سب۔ تہہ دل سے آپ سب کا ممنون ہوں۔
یہ نہ صرف یہاں پہلی غزل تھی بلکہ اس خاکسار کی بھی پہلی کوشش تھی آج سے کم و بیش چھ سال پہلے جب شاعری اور عروض کو سمجھ اور سیکھ رہا تھا اور اس غزل کا واحد مقصد یہ تھا کہ کسی طرح اسے وزن میں رکھا جائے۔
ایک بار پھر آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 1، 2012 12:53 صبح
بہت خوب وارث صاحب ۔ داد قبول کیجیے
محمد وارث — اگست 1، 2012 7:33 صبح
نوازش آپ کی خلیل صاحب
محمد ریحان قریشی — اگست 1، 2018 9:14 صبح
بہت خوب جناب۔ تمام اشعار ہی لاجواب ہیں۔
کُل نفی کے ساتھ جو اثبات ہو
یہ مصرع شاید یوں بہتر رہے:
نفیِ کل کے ساتھ جو اثبات ہو
محمد وارث — اگست 1، 2018 10:38 صبح
بہت خوب جناب۔ تمام اشعار ہی لاجواب ہیں۔
یہ مصرع شاید یوں بہتر رہے:
نفیِ کل کے ساتھ جو اثبات ہو
آپ نے درست فرمایا قریشی صاحب، اس شعر میں نفی کا غلط وزن بندھا تھا اور تب علم ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی اس شعر کے پہلے مصرعے میں تعقید کے مسائل بھی موجود ہیں۔ :)
سید عاطف علی — اگست 1، 2018 10:57 صبح
خوب غزل ہے وارث بھائی ۔ کیا بات ہے ۔
محمد وارث — اگست 1، 2018 11:35 صبح
خوب غزل ہے وارث بھائی ۔ کیا بات ہے ۔
ذرہ نوازی ہے سید صاحب محترم آپ کی۔
سین خے — اگست 1، 2018 3:36 شام
اس جہاں میں ایسی کوئی بات ہو
جیت ہو اور نا کسی کی مات ہو
بس ہوس کے ہیں یہ سارے سلسلے
بابری مسجد ہو یا سُمنات ہو
دے بدل ہر زاویہ وہ دفعتاً
کُل نفی کے ساتھ جو اثبات ہو
زخم دل کے چین سے رہنے نہ دیں
روزِ روشن ہو کہ کالی رات ہو
اسطرح پینے کو مے کب ملتی ہے
ناب ہو، تُو ساتھ ہو، برسات ہو
دام دیکھے ہیں وہاں اکثر بچھے
جس جگہ پر دانے کی بہتات ہو
برملا گوئی کا حاصل ہے اسد
اپنوں کی نظروں میں بھی کم ذات ہو

شاندار :) کیا ہی خوب غزل ہے :) ڈھیر ساری داد قبول فرمائیے :)
La Alma — اگست 1، 2018 4:29 شام
اچھی غزل ہے۔ کیا شعر گوئی ترک کر دی؟
جاسمن — اگست 1، 2018 5:02 شام
بہت خوب!
محمد وارث — اگست 1، 2018 5:47 شام
شاندار :) کیا ہی خوب غزل ہے :) ڈھیر ساری داد قبول فرمائیے :)
شکریہ آپ کا، ممنون ہوں۔ :)
اچھی غزل ہے۔ کیا شعر گوئی ترک کر دی؟
شکریہ آپ کا۔ شعر گوئی ترک اس طرح تو نہیں کی جیسے ایک کرکٹر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہے، بس آٹھ دس سال سے ادھر طبیعت راغب ہی نہیں ہوئی اور سکہ بند شاعر میں کبھی بھی نہ تھا، یہی کوئی دو چار غزلیں ادھر ادھر ہیں۔ :)
شکریہ آپ کا۔
محمد تابش صدیقی — اگست 1، 2018 6:04 شام
دام دیکھے ہیں وہاں اکثر بچھے
جس جگہ پر دانے کی بہتات ہو
بہت خوب وارث بھائی۔
یہی کوئی دو چار غزلیں ادھر ادھر ہیں۔
سمیٹ لیں، اس سے پہلے کہ فورم ادھر ادھر ہو۔ :p
محمد وارث — اگست 1، 2018 6:09 شام
بہت خوب وارث بھائی۔
سمیٹ لیں، اس سے پہلے کہ فورم ادھر ادھر ہو۔ :p
شکریہ صدیقی صاحب۔
میرے پاس سمیٹنے کے لیے زیادہ سامان نہیں ہے۔ :)
صدف رباب — اگست 5، 2018 2:28 شام
خوب ہے ماشاء اللّه .عمدہ تصورات اور زورِ بیان !!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DB%81%D9%88.6979/page-2