آپ بھی میری طرح لوڈو کھیلا کیجیے ، نین بھائی۔
آپ کے چوسری شعر کے جواب میں یہ لوڈوی شعر عرض ہے:
کیسے چلوں میں چال کہ رستہ کوئی نہیں
چاروں طرف ہی سانپ ہیں زینہ کوئی نہیں
آپ بھی میری طرح لوڈو کھیلا کیجیے ، نین بھائی۔
یہ آپ کا شعرہے؟؟
یہ ظہیر بھائی کی فی البدیہہ شاعری ہے۔
یہ فی البدیہہ فی الماضی شاعری ہے۔
احمد بھائی ، بس کھیل ہی کھیل میں پوری زندگی گزر گئی۔ کام وام کی بات تو کوئی کی ہی نہیں ۔ اسی کا افسوس ہے ۔
مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ ہم دونوں کا مذاق بنا رہے ہیں۔۔۔ اور درپردہ کہہ رہے ہیں کہ ظہیر بھائی آپ اکیلے نہیں۔۔۔ یہ نین نے بھی کبھی کام کی بات نہیں کی۔۔۔

ارے ارے! ایسا نہ کہیے بھائی!