امن ایمان کی باتیں!

شمشاد — مارچ 28، 2007 8:53 شام
لو جی شاعر لوگ تو اس بھی زیادہ عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں، امن نے تو صرف چاند کو ہتھیلی پر اتارا ہے۔
ویسے بہت اچھی نظم ہے امن۔
ماوراء — مارچ 28، 2007 8:55 شام
حجاب، زمین کا چاند آسمان کے چاند سے بڑا نہیں۔ سوچو، اگر آسمان والا چاند ہتھیلی میں اتر آئے تو؟؟
میرا خیال ہے امن نے آسمان کے چاند کو زمین کے چاند سے ہی تشبیہ دی ہے۔ کیوں امن؟؟ :roll: :roll: :p
امن ایمان — مارچ 29، 2007 7:13 صبح
ارے نہیں امن، خواہش تو خواہش ہوتی ہے۔ کسی بھی چیز کی خواہش کی جا سکتی ہے۔
اللہ تمھاری ساری جائز خواہشات کو پورا کرے۔ آمین۔

ماوراء>>>> آمین۔۔۔شکریہ اتنی اچھی سی دعا کا :)
بہت خوب امن ، چاند ہتھیلی پر جس دن اُتر آئے کہنا کبھی ادھر بھی چکر لگا لے۔۔ ماوراء آسمان کا چاند تو سب کا ہے نا امن کی نظم پڑھ کے شائد وہ ہتھیلی پر آ ہی جائے تو ادھر کا چکر لگا لے شائد اور زمین کا چاند وہ تو سب کو اپنے پاس رکھنا چاہیئے مگر اتنا چھوٹا چاند ہتھیلی پر آ جائے وہ سوچو ذرا کیسا ہوگا

حجاب>>> ماوراء حجاب آپ کے کمنٹس پڑھ کے میری ہنسی نہیں رک رہی۔۔۔ :lol:
حجاب میں کون سا کہہ رہی ہوں کہ چودھویں کا چاند ہی میری ہتھیلی پر اترے۔۔۔۔میرے خیال سے ہلال کا بوجھ برداشت ہو سکتا ہے۔۔پورے چاند کا نہیں :)
ماورا>> اللہ توبہ۔۔۔زمین کے چاند کو اپنی مرمریں ہتھیلی پر رکھ کے میں نے کوئی فریکچر کروانا ہے کیا۔۔۔ :lol:
امن ایمان — مارچ 29، 2007 7:21 صبح
شمشاد نے کہا:
لو جی شاعر لوگ تو اس بھی زیادہ عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں، امن نے تو صرف چاند کو ہتھیلی پر اتارا ہے۔
ویسے بہت اچھی نظم ہے امن۔

بہت شکریہ شمشاد چاء ۔۔۔:)
ماوراء حجاب۔۔۔دیکھیں دیکھیں شمشاد چاء نے کتنی اچھی بات کی ہے کہ شاعر لوگ تو اس سے بھی زیادہ عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں۔۔۔:)
ویسے حجاب ،ماوراء یہ نہ آسمان کا چاند ہے اور نہ زمین کا۔۔۔۔یہ صرف میری ایک خواہش تھی۔۔۔اب بھلا آج کے دور میں کیا ایساممکن ہے ۔۔:)
امن ایمان — مئی 15، 2007 12:10 شام
خودنوشت
گوشوارہ زندگی جب میں نے کھولا
جس عنوان کو دیکھا
جس بھی ورق کو پلٹا
حزن و ملال کی سیاہی سے
سب جگہ فقط یہی لکھا تھا
ہر اُس چیز کو چھین لیا جاتا
جسے ایمان نے بے پناہ چاہا تھا
اب ۔۔!
کس کو یاد رکھنا
کیا سود و زیاں کو لکھنا
بہت آزردگی سے
کتابِ ذیست کو ہم نے بند کرڈالا
امن ایمان
عمار ابن ضیا — مئی 15، 2007 1:22 شام
ارے امن! آپ کی واپسی ہوگئی؟؟؟ مبارک ہو بہت بہت!
قیصرانی — مئی 15، 2007 3:31 شام
خوش آمدید آپی جی‌:)
امن ایمان — ستمبر 11، 2007 1:22 شام
میں نے اب تک جو بھی لکھا وہ یہاں ایک ترتیب کے ساتھ موجود ہے ۔۔یہ ایک نظم الگ تھریڈ میں لکھی تھی۔۔۔سوچ رہی ہوں یہاں بھی ربط رکھ دوں۔
سانحہ لال مسجد
ۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃ
زندگی
نہ کبھی پلکوں پہ آس کے دیےمیں نے جلائے تھے
نہ کبھی بے پناہ محبت پانے کے سپنے ہی سجائےتھے
نہ حصارِ ذات کوتوڑنے کی کوئی سازش میں نے کی تھی
نہ کبھی لاحاصل کو پانے کی کوئی خواہش میں نے کی تھی
چپکے چپکے آنسوؤں سے ُدکھوں کی آبیاری کی تھی
زندگی کے سبھی غموں سے ہمیشہ سانجھداری کی تھی
پھر کیوں میری زندگی کو عذاب بنا ڈالا سب نے؟
روز جینے روز مرنے کے امتحاں میں ڈالا سب نے
میری خاموشی کے پیچھے توچٹانوں سا حوصلہ تھا
دل کی خوشیاں قربان کرنے کا یہ پھرکیسا صلہ تھا؟
یہ سزا تقدیر نے کیوں میری قسمت کو ُسنا ڈالی
منزل کے سبھی نشاں مٹا کرخارزار راہگزر بنا ڈالی
اے زندگی مجھے جینے کی اتنی کڑی سزا نہ دے
تجھ سےکبھی کچھ نہیں مانگا،اس کی یہ جزا نہ دے
یا تو میرے نصیب میں سچی خوشیاں لکھوا دے
اگر یوں ہی کٹنی ہے تو کوئی لمبی عمر کی دعا نہ دے
:w
امن ایمان
ساجد — ستمبر 11، 2007 1:37 شام
میں نے اب تک جو بھی لکھا وہ یہاں ایک ترتیب کے ساتھ موجود ہے ۔۔یہ ایک نظم الگ تھریڈ میں لکھی تھی۔۔۔سوچ رہی ہوں یہاں بھی ربط رکھ دوں۔
سانحہ لال مسجد
ۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃۃ
زندگی
نہ کبھی پلکوں پہ آس کے دیےمیں نے جلائے تھے
نہ کبھی بے پناہ محبت پانے کے سپنے ہی سجائےتھے
نہ حصارِ ذات کوتوڑنے کی کوئی سازش میں نے کی تھی
نہ کبھی لاحاصل کو پانے کی کوئی خواہش میں نے کی تھی
چپکے چپکے آنسوؤں سے ُدکھوں کی آبیاری کی تھی
زندگی کے سبھی غموں سے ہمیشہ سانجھداری کی تھی
پھر کیوں میری زندگی کو عذاب بنا ڈالا سب نے؟
روز جینے روز مرنے کے امتحاں میں ڈالا سب نے
میری خاموشی کے پیچھے توچٹانوں سا حوصلہ تھا
دل کی خوشیاں قربان کرنے کا یہ پھرکیسا صلہ تھا؟
یہ سزا تقدیر نے کیوں میری قسمت کو ُسنا ڈالی
منزل کے سبھی نشاں مٹا کرخارزار راہگزر بنا ڈالی
اے زندگی مجھے جینے کی اتنی کڑی سزا نہ دے
تجھ سےکبھی کچھ نہیں مانگا،اس کی یہ جزا نہ دے
یا تو میرے نصیب میں سچی خوشیاں لکھوا دے
اگر یوں ہی کٹنی ہے تو کوئی لمبی عمر کی دعا نہ دے
:w
امن ایمان
امن ،
شاعری بہت اچھی ہے ، لیکن اتنی اداس شاعری؟​
امن ایمان — ستمبر 11، 2007 2:38 شام
شکریہ ساجد بھائی :f
زندگی میں کچھ اس قسم کے تلخ حقائق بھی ہوتے ہیں۔۔جن کو لکھ دینے سے کچھ دیر کو سہی، سکون ضرور مل جاتا ہے۔ :(
امن ایمان — اکتوبر 4، 2007 7:50 شام
میری اک دعا!
یا الہیٰ مجھےتُو عطا کردے
لفظوں کے وہ نقشیں ستارے
بن جائیں جومیری بندگی کےاستعارے
مجھے تتلی، پھول اور جگنوؤں سے محبت ہے
نیلگوں آسماں تلے پھیلی خوب رو ،خوش گماں
اجالوں سے بھری زندگی کی چاہت ہے
جو تُو نے دنیا میں اتنی خوبصورتی دی ہے
میرا دل بھی اپنے جمال کا مسکن کردے
زندگی یقینِ کامل کی خوبصورتی سے بھر دے
یا الہیٰ!
رگ و پے میں تیری محبت نور بن کراتر جائے
مایوسی کی گرد بھی اب مجھ تک نہ پہنچنے پائے
میرے یقیں کو اتنا معتبر کردے
اے دعاؤں کے سننے والےمیری دعائیں پُر اثر کردے
یقین اجالوں کی طرح مجھ میں بسنے لگے
میری ذات کو اتنا تُو منور کردے
یاالہیٰ تو جمیل ہے، اپنی اس صفت کے صدقے
میری روح کو ایمان کی خوشبوسے معطر کردے
آمین
امن ایمان
محسن حجازی — اکتوبر 5، 2007 6:59 صبح
ہم سے محبت کی مکمل تعریف پوچھی گئی اسی دھاگے میں۔۔۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟ اور اللہ بخشے دھاگا اس قدر لمبا ہو گیا ہے کہ سرا بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔۔۔۔ اس قدر نظمیں؟ نظمیں کیا پورے کے پورے نظام ہیں!
تو اے صاحبو! (اور ایک آدھی صاحبہ گر کوئی باشد)
ہم نے مکمل محبت کی ہی نہیں تو ہمیں کیا معلوم کہ محبت کیا ہے؟ ہم تو جس خاتون کو لپکے اسی کو ہم کھٹکے کوئی معاملہ سمجھ میں نہیں آیا یہ محبت والا۔۔۔۔ ادھر ہمارے وہ احباب بھی ہیں جو چار چار محبتیں متوازی چلاتے ہیں اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی مانند ایک محبوب کو دوسرے محبوب کی خبر تک نہیں ہوتی! ہر محبوب اپنی جگہ وحدانیت کے نشے میں چور و مخمور۔۔۔ ایں چہ معاملہ است؟
اور ارے ارے؟ یہ کس نے کہا کہ ہم دھان پان ہیں؟ ہم صرف مہان ہیں! قارئین کرام تصیح فرما لیں!
اور مہان کو ذرا دھیان سے ہجے کر کے پڑھا جائے کہیں مہمان نہ پڑھ لیا جائے کیوں کہ ہمارے پاس دوبارہ اعلان درستگی کا اشتہار شائع کرنے کو پیسے نہیں ہیں!
اور امن ایمان! ہم تو آپ کو اپنے بچپن سے دیکھ اور پڑھ رہے ہیں بلکہ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم کچی میں تھے تو آپ کا نام امن و امان پڑھا کرتے تھے لیکن بعد ازاں شرح خواندگی میں اضافے کے سبب درستگی احوال کی کچھ صورت پیدا ہوئی۔ تاہم ناقدین کو خبردار کیے دیتے ہیں کہ ہمارے اس معصوم اور بے ضرر بیان کو امن ایمان کی درست عمر ناپنے کی کسوٹی مت سمجھا جائے۔
محسن حجازی — اکتوبر 5، 2007 7:10 صبح
محترمہ امن ایمان فرماتی ہیں:
گوشوارہ زندگی جب میں نے کھولا
جس عنوان کو دیکھا
جس بھی ورق کو پلٹا
حزن و ملال کی سیاہی سے
سب جگہ فقط یہی لکھا تھا
ہر اُس چیز کو چھین لیا جاتا
جسے ایمان نے بے پناہ چاہا تھا
اب ۔۔!
کس کو یاد رکھنا
کیا سود و زیاں کو لکھنا
بہت آزردگی سے
کتابِ زیست کو ہم نے بند کرڈالا

لو جی؟ اپنا حال لکھیں ناں ہمارے اندر کی باتیں کیوں بتا رہی ہیں؟ اور ہم نے تو بہت ورقے الٹے کتاب زیست کے کچھ برآمد نہیں ہوا۔۔۔ ہاں ایک آدھی مری ہوئی چیونٹی اور کچھ کتابی کیڑے ضرور نکلے ہیں اور مسلسل ورق گردانی کے سبب کتاب زیست کی جلد بھی اکھڑ گئی ہے تاہم کتاب زیست بند کرنا حرام ہے سو کھولے ہوئے ہیں۔۔۔ بلکہ کرتے یوں ہیں کہ کتاب زیست بند کیے پڑے رہتے ہیں اور اگر کوئی اوپر سے اچانک آن ٹپکے تو کھول کر مسکرانے لگتے ہیں۔۔۔ سو یوں مکاری سے کام چل رہا ہے۔ ناشر نے کتاب واپس جمع کروانے کی کیا تاریخ مقرر کی ہے یہ معلوم نہیں البتہ آج اسلام آباد ہائی وے پر ایک بس ڈرائیور کے رویہ کے سبب گمان گزرا کہ شاید کا‏غذات میں آج کی تاریخ ہی درج ہے مگر صد افسوس کہ یہ خیال غلط ثابت ہوا۔۔۔۔
ساجداقبال — اکتوبر 5، 2007 7:23 صبح
اور امن ایمان! ہم تو آپ کو اپنے بچپن سے دیکھ اور پڑھ رہے ہیں بلکہ ہمیں یاد ہے کہ جب ہم کچی میں تھے تو آپ کا نام امن و امان پڑھا کرتے تھے لیکن بعد ازاں شرح خواندگی میں اضافے کے سبب درستگی احوال کی کچھ صورت پیدا ہوئی۔ تاہم ناقدین کو خبردار کیے دیتے ہیں کہ ہمارے اس معصوم اور بے ضرر بیان کو امن ایمان کی درست عمر ناپنے کی کسوٹی مت سمجھا جائے۔
بہت خوب محسن بھائی۔۔۔:grin:
امن ایمان — اکتوبر 5، 2007 6:39 شام
ہم سے محبت کی مکمل تعریف پوچھی گئی اسی دھاگے میں۔۔۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟ اور اللہ بخشے دھاگا اس قدر لمبا ہو گیا ہے کہ سرا بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔۔۔۔ اس قدر نظمیں؟ نظمیں کیا پورے کے پورے نظام ہیں!

اللہ توبہ۔۔آپ نے یہ لکھ کر پتہ نہیں کس بات کا بدلا لیا ہے۔۔:s اب آپ کا سارا دیوان بارش میں بھیگ کر اُڑ گیا تو اس میں میرا کیا قصور۔۔:c جو میرے زندہ و پائندہ دھاگے کو اللہ بخشے بنا دیا۔ :w
اور یہ جو آپ نے لکھا ہے نا۔۔۔
ہمارے اس معصوم اور بے ضرر بیان کو امن ایمان کی درست عمر ناپنے کی کسوٹی مت سمجھا جائے۔

تو محسن صاحب جناب میری عمر تک آپ پہنچ بھی نہیں سکتے۔۔۔میں چھوٹوں کے لیے بڑی ہوں اور بڑوں کے لیے بہت بڑی ہوں۔۔اس لیے میری عمر عزیز تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ aas
محسن زبردست۔۔۔آپ نے میری کتاب زیست کی خاصی بہترین تشریح کی ہے۔۔aas
ساجد اقبال۔۔>>> :s
محسن حجازی — اکتوبر 6، 2007 6:15 صبح
لہ توبہ۔۔آپ نے یہ لکھ کر پتہ نہیں کس بات کا بدلا لیا ہے۔۔:s اب آپ کا سارا دیوان بارش میں بھیگ کر اُڑ گیا تو اس میں میرا کیا قصور۔۔:c جو میرے زندہ و پائندہ دھاگے کو اللہ بخشے بنا دیا۔ :w

دیکھئے دیکھئے خاتون! ہمارے دیوان کے ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھیے۔۔۔ بارش میں بھیگ کر اڑا تھوڑی تھا بہہ گیا تھا! بعد میں اڑ گیا ہو تو ہم اس پہلو سے بخدا قطعا لا علم ہیں۔
اور یہ جو آپ نے لکھا ہے نا۔۔۔
تو محسن صاحب جناب میری عمر تک آپ پہنچ بھی نہیں سکتے۔۔۔میں چھوٹوں کے لیے بڑی ہوں اور بڑوں کے لیے بہت بڑی ہوں۔۔اس لیے میری عمر عزیز تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔

یہ عمر عزیز کون ہے؟ شوکت عزیز کا صاحبزادہ تو نہیں؟
اور جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ آپ بڑوں کے ساتھ بڑی ہیں بھئی بہت خوب! ہماری عمر شریف کوئی لگ بھگ سولہ سو چورانوے برس ہے اور ہم حضرت نوح کے شمال جنوب میں واقع ایک بستی میں رنگ و روغن کا کام کیا کرتے تھے۔۔۔ اور یہ ملمع سازی کا عمل ہماری ہی ایجاد و اختراع ہے جسے عوام نے شرف قبولیت بخشا اور اب تو خیر سے ہر چیز ملمع سے مرصع نظر آتی ہے خواہ رویے ہوں یا چہرے۔۔۔ بہرکیف، امید ہے کہ آپ ماہ و سال سے متعلق اپنے موقف پر قائم رہیں گی۔
محسن زبردست۔۔۔آپ نے میری کتاب زیست کی خاصی بہترین تشریح کی ہے۔۔

جناب یہی شکایت ہمیں آپ سے ہے۔۔۔ کہ آپ نے اپنی نظم میں ماشااللہ بہت خوب عقدہ کشائی کی ہے بے نام سے حزن و ملال کی۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔
کچھ باتیں سنجیدہ پیرائے میں۔۔۔ تخلیقی عمل کی حوصلہ افزائی اسے جلا بخشتی ہے۔۔۔ اور پھر آپ کے تاثرات جو آپ نے منظوم کیے ہیں۔۔۔۔ خدا کی کائنات میں تنہا اور بے بس روح کے تاثرات ہیں۔۔۔ آخر کو ہر روح کائناتی نظام میں الگ تھلگ ہے۔۔۔ خصوصی طور پر کتاب زیست سے متعلق تاثرات بے حد جاندار ہیں۔۔۔
سنجیدہ پیرائے میں کچھ باتیں کرنے سے ہمیں جبڑے میں کچھ درد دل محسوس ہو رہا ہے سو اب ہم چلتے ہیں۔۔۔ آپ اپنا دیوار چین سا دھاگہ جاری رکھیے۔۔۔ اللہ اسے اس قدر طوالت عطا فرمائے کہ خود شیطان اپنی آنت سے شرمائے۔
دوست — اکتوبر 6، 2007 6:48 صبح
ہاہاہاہاہا
زبردست
شاعری بے مثال ہے اور اس پر تبصرے کرنے والے بھی سوا سیر ہیں۔
:mogambo:
امن ایمان — اکتوبر 8، 2007 11:22 صبح
جناب یہی شکایت ہمیں آپ سے ہے۔۔۔ کہ آپ نے اپنی نظم میں ماشااللہ بہت خوب عقدہ کشائی کی ہے بے نام سے حزن و ملال کی۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔
کچھ باتیں سنجیدہ پیرائے میں۔۔۔ تخلیقی عمل کی حوصلہ افزائی اسے جلا بخشتی ہے۔۔۔ اور پھر آپ کے تاثرات جو آپ نے منظوم کیے ہیں۔۔۔۔ خدا کی کائنات میں تنہا اور بے بس روح کے تاثرات ہیں۔۔۔ آخر کو ہر روح کائناتی نظام میں الگ تھلگ ہے۔۔۔ خصوصی طور پر کتاب زیست سے متعلق تاثرات بے حد جاندار ہیں۔۔۔

ہائیںںںں یہ تعریف تھی۔۔۔؟؟ اگر تعریف تھی تو بہت شکریہ۔۔۔آپ لوگوں کی طرف سے ہمت افزائی مجھے لکھنے کے قابل بناتی ہے۔۔ورنہ تو شاید میں کبھی لکھ نہ سکتی۔۔اور میری خواہشات، میرے خواب، میری دعائیں میرے اندر ہی دفن ہوجاتیں۔
خاتون کون۔۔؟؟؟ :g
aas aas
محسن صاحب اس میں کوئی شک نہیں آپ کی حس مزاح بہت اچھی ہے۔۔۔اور آپ اتنی شستہ اردو لکھتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے میں اردو کے کسی کلاسیک ناول کا اقتباس پڑھ رہی ہوں۔ اب آپ دیکھ لیں اردو ویب پر تقریبا ریگولر ہیں۔۔ایسا نہ ہو کہ ادھر میں انٹرویو میں بات شروع کروں اور اُدھر آپ غائب ۔۔میں بس کچھ ہی دنوں میں وہاں آپ سے بات پھر شروع کرنےلگی ہوں۔۔کہیں جایے گا نہیں اب۔
اور آپ سب اگر پہلی ہی پوسٹ میں دل کھول کر میری شاعری کی تعریف لکھیں تو یہ دھاگہ دیوار چین سا نہ بنے۔ :c
silent.killer — اکتوبر 24، 2007 6:11 شام
گریٹ ورک
جاری رکھیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%85%D9%86-%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AA%DB%8C%DA%BA.3905/page-8