اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ

ظہیراحمدظہیر — اپریل 12، 2020 12:45 صبح
بہت شکریہ ، نوازش! بہت ممنون ہوں ، نور وجدان بیٹا ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے۔
نیرنگ خیال — جولائی 7، 2020 11:20 صبح
کیسی خوبصورت، کمال، اعلی اور ارفع غزل ہے۔ ایک ایک شعر۔۔۔ ایک ایک خیال ۔۔۔ ایک ایک موضوع۔۔۔ واہ۔۔۔۔ مطلب میں تو خود کو اس پر داد دینے کا بھی اہل نہیں سمجھتا۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 7، 2020 11:58 صبح
کس شہرِخود فریب میں جیتے ہو تم ظہیرؔ
اپنا سمجھ رہے ہیں نہ اپنا کہیں گے لوگ

اگر ظہیر کراچی کا باشندہ ہے، تو یہ شہر لازماً لاہور ہی ہوگا :LOL::LOL::LOL:
زندہ دل برادرانِ لاہور سے اس گستاخانہ مذاق پر معذرت :)
ظہیراحمدظہیر — جولائی 7، 2020 2:29 شام
۔۔۔ مطلب میں تو خود کو اس پر داد دینے کا بھی اہل نہیں سمجھتا۔۔۔۔
میں سمجھ گیا ، نین بھائی ۔ یہ سب داد نہ دینے کے بہانے ہیں ۔ :D
مذاق برطرف، آپ جیسے صاحبان علم و ہنر اور زندہ دل و باشعور قلمکاروں کے دم قدم سے ہی یہ محفل آباد ہے ۔ اللہ کریم آپ کو اور ان رونقوں کو سلامت رکھے ۔ آپ احباب کی پذیرائی مجھ جیسے گوشہ نشینوں کو بھی تحریکِ نگارش دیتی رہتی ہے ۔ قدر افزائی اور ہمت افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ، نین بھائی ۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 7، 2020 2:31 شام
اگر ظہیر کراچی کا باشندہ ہے، تو یہ شہر لازماً لاہور ہی ہوگا :LOL::LOL::LOL:
زندہ دل برادرانِ لاہور سے اس گستاخانہ مذاق پر معذرت :)
راحل ، میں تو اصلاً حیدرآبادی سندھی ہوں ۔ لیکن زندگی کا کچھ حصہ کراچی میں بھی گزارا ۔ ویسے میرا سسرائیل بھی کراچی میں ہے ۔ :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 7، 2020 3:32 شام

آپ کو اچھوتی تراکیب پر جو قدرت حاصل ہے، اس کے بعد مجھے کامل یقین ہے کہ یہ سہوِ کتابت تو نہیں ہو سکتا :)
ظہیراحمدظہیر — جولائی 7، 2020 3:38 شام
آپ کو اچھوتی تراکیب پر جو قدرت حاصل ہے، اس کے بعد مجھے کامل یقین ہے کہ یہ سہوِ کتابت تو نہیں ہو سکتا :)
راحل بھائی ، میں تو سمجھتا تھا کہ یہ لقب عام ہے۔ :):):)
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 7، 2020 5:25 شام
کس شہرِخود فریب میں جیتے ہو تم ظہیرؔ
اپنا سمجھ رہے ہیں نہ اپنا کہیں گے لوگ
ماشاءاللہ
شاندار اور خوبصورت غزل ۔
صابرہ امین — جولائی 9، 2020 9:25 شام
کیا ہی خوب کلام ہے جس سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا ۔ ۔ ہر شعر لاجواب
شہرت کی روشنی میں مسلسل اُچھا لئے
پتھر کو آسمان کا تارا کہیں گے لوگ
کیسا اچھوتا خیال ہے ۔ ۔ ما شا اللہ ۔ ۔
نیرنگ خیال — جولائی 10، 2020 11:17 صبح
میں سمجھ گیا ، نین بھائی ۔ یہ سب داد نہ دینے کے بہانے ہیں ۔ :D
مذاق برطرف، آپ جیسے صاحبان علم و ہنر اور زندہ دل و باشعور قلمکاروں کے دم قدم سے ہی یہ محفل آباد ہے ۔ اللہ کریم آپ کو اور ان رونقوں کو سلامت رکھے ۔ آپ احباب کی پذیرائی مجھ جیسے گوشہ نشینوں کو بھی تحریکِ نگارش دیتی رہتی ہے ۔ قدر افزائی اور ہمت افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ، نین بھائی ۔
خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے آپ ایسوں ہی کے حسن ظن اور عجز و انکسار کے پیکروں بارے فرمایا تھا کہ
وہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیں
وہ حسن ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے ہیں
ظہیر بھائی حقیقت یہ ہے کہ آپ ایسوں کی موجودگی ہی ہمارے سیکھنے کا سامان کرتی ہے۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ آمین
جاسمن — دسمبر 7، 2020 1:22 صبح
بہت ہی خوب ، بہت ہی خوب!
ایسے لگ رہا ہے کہ قدیم برصغیر میں مشاعرہ ہے اور کوئی شعلہ نوا شعر پڑھ رہا ہے۔
حاضرین کی طرف سے داد و تحسین کا شور برپا ہے۔
عرفان علوی — دسمبر 11، 2020 1:18 صبح
دو سال پرانی ایک غزل آپ احباب کے حضور پیشِ خدمت ہے ۔ اس میں چند اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ شاید آپ کو پسند آئیں ۔ آپ کی باذوق بصارتوں کی نذر!

٭
اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ
آئینہ مت دکھائیے ، جھوٹا کہیں گے لوگ
شاخیں گرا رہے ہیں مگر سوچتے نہیں
پھر کس شجر کی چھاؤں کو سایہ کہیں گے لوگ
واقف ہیں رہبروں سے یہ عادی سراب کے
دریا دکھائیے گا تو صحرا کہیں گے لوگ
شہرت کی روشنی میں مسلسل اُچھا لئے
پتھر کو آسمان کا تارا کہیں گے لوگ
آغازِ داستاں ہے ذرا سنتے جائیے
آگے تو دیکھئےابھی کیا کیا کہیں گے لوگ
جو کچھ برائے زیبِ بیاں کہہ رہے ہو آج
کل اُس کو داستان کا حصہ کہیں گے لوگ
لوگوں کو اختیار میں حصہ تو دیجئے
اربابِ اختیار کو اپنا کہیں گے لوگ
فردِ عمل پہ کر کے رقم اپنے فیصلے
اپنے لکھے کو بخت کا لکھا کہیں گے لوگ
شکوہ کرو نہ دیدۂ ظاہر پرست کا
جیسے دکھائی دیتے ہو ویسا کہیں گے لوگ
کس شہرِخود فریب میں جیتے ہو تم ظہیرؔ
اپنا سمجھ رہے ہیں نہ اپنا کہیں گے لوگ
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2017

ظہیر صاحب ، آداب عرض ہے!
بہت عمدہ غزل ہے! تمام اشعار اعلیٰ فکر اور بیان كے آئینہ دار ہیں . میری ناچیز داد حاضر ہے .
نیازمند ،
عرفان عؔابد
بابا-جی — دسمبر 11، 2020 2:59 صبح
آغازِ داستاں ہے ذرا سنتے جائیے
آگے تو دیکھئےابھی کیا کیا کہیں گے لوگ
ویسے تو یِہ پُوری غزل ہی سلِیقے سے کہی گئی ہے مگر کمال کا شعر تو یِہ لگا۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 12، 2020 9:42 شام
بہت ہی خوب ، بہت ہی خوب!
ایسے لگ رہا ہے کہ قدیم برصغیر میں مشاعرہ ہے اور کوئی شعلہ نوا شعر پڑھ رہا ہے۔
حاضرین کی طرف سے داد و تحسین کا شور برپا ہے۔
میں اپنے دفاع میں پھر یہی کہوں گا کہ ترکی ٹوپی اور شیروانی پہننے سے آدمی بزرگ نہیں ہوجاتا۔
بخدا میں پاکستان سے کئی سال چھوٹا ہوں ۔ :D
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 12، 2020 9:44 شام
ظہیر صاحب ، آداب عرض ہے!
بہت عمدہ غزل ہے! تمام اشعار اعلیٰ فکر اور بیان كے آئینہ دار ہیں . میری ناچیز داد حاضر ہے .
نیازمند ،
عرفان عؔابد
آداب ، بہت نوازش ، بہت شکریہ جناب! اللہ آپ کو سلامت رکھے ! بہت ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 12، 2020 9:47 شام
ویسے تو یِہ پُوری غزل ہی سلِیقے سے کہی گئی ہے مگر کمال کا شعر تو یِہ لگا۔
بہت شکریہ ، نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے !
مجھے تجسس ہورہا ہے کہ آپ کی ڈی پی پر یہ تصویر کس کی ہے ۔ نمعلوم کیوں ذہن میں کوئی جانی پہچانی سی شبیہ ابھر رہی ہے اسے دیکھ کر لیکن نام زبان پر نہیں آرہا ۔ اگر آپ بتانا مناسب سمجھیں تو خوشی ہوگی۔
جاسمن — دسمبر 13، 2020 2:17 صبح
میں اپنے دفاع میں پھر یہی کہوں گا کہ ترکی ٹوپی اور شیروانی پہننے سے آدمی بزرگ نہیں ہوجاتا۔
بخدا میں پاکستان سے کئی سال چھوٹا ہوں ۔ :D
لیکن جا بجا بکھرے ثبوت کچھ اور کہتے ہیں۔:D اور مزے کی بات یہ کہ آپ انھیں غائب بھی نہیں کر سکتے۔ اب تو آپ نے ثبوتوں پہ مشتمل ایک پوری "فائل" ہمارے حوالے کر دی ہے۔:)
بابا-جی — دسمبر 13، 2020 3:25 صبح
بہت شکریہ ، نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے !
مجھے تجسس ہورہا ہے کہ آپ کی ڈی پی پر یہ تصویر کس کی ہے ۔ نمعلوم کیوں ذہن میں کوئی جانی پہچانی سی شبیہ ابھر رہی ہے اسے دیکھ کر لیکن نام زبان پر نہیں آرہا ۔ اگر آپ بتانا مناسب سمجھیں تو خوشی ہوگی۔
یِہ میرے رُوحانی و سیاسی مُرشد کی تصوِیر ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%8F%D8%AC%D9%84%DB%8C-%D8%B1%D9%90%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B9%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D9%84%D9%88%DA%AF.109221/page-2