اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہوئے گزری۔۔۔ (غزل از عاطف بٹ)

عاطف بٹ — اگست 29، 2012 11:39 صبح
واہ واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد
ع کے وصال کی جانب اشارا کرنا چاہ رہا تھا لیکن اعجاز صاحب پہلے ہی اس کی نشان دہی کر چکے۔
بہت نوازش فاتح بھائی۔ اب یہاں آگیا ہوں تو انشاءاللہ آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا!
فاتح — اگست 29، 2012 11:41 صبح
بہت نوازش فاتح بھائی۔ اب یہاں آگیا ہوں تو انشاءاللہ آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا!
سیکھنا دو طرفہ عمل ہوتا ہے :) کوئی اس سے متفق ہو یا نہ ہو مگر کلاس میں پہلے دن ہمارا یہی ڈائلاگ ہوا کرتا ہے۔ :laughing:
عاطف بٹ — اگست 29، 2012 11:43 صبح
سیکھنا دو طرفہ عمل ہوتا ہے :)
جی بالکل۔ میں تیار ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھاگیں گے نہیں! ;)
محمد وارث — اگست 30، 2012 5:17 صبح
خوب غزل ہے جناب عاطف صاحب
ناعمہ عزیز — اگست 30، 2012 5:42 صبح
اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہوئے گزری​
جیسے کسی درویش کی چلتے ہوئے گزری​
اک بار جو خورشید نے کی دن سے بغاوت​
پھر تا بہ ابد اس کی بھی ڈھلتے ہوئے گزری​
ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ ایسا ہی لکھا تھا​
ہاتھوں کو تمام عمر ہی ملتے ہوئے گزری​
اک لحظہ ہوا تھا میں تری یاد سے غافل​
اک عمر اسی پاداش میں جلتے ہوئے گزری​
بس حضرتِ عاطف کو یہی کچھ تھا میسر​
سو، نانِ غمِ ہجر پہ پلتے ہوئے گزری​

میری زبان میں تھی اس لئے سمجھ میں آگئی ہے لالہ ، میری طرف سے شاباش :rockon:
عاطف بٹ — اگست 30، 2012 10:26 صبح
خوب غزل ہے جناب عاطف صاحب
بہت شکریہ وارث بھائی۔
عاطف بٹ — اگست 30، 2012 10:26 صبح
میری زبان میں تھی اس لئے سمجھ میں آگئی ہے لالہ ، میری طرف سے شاباش :rockon:
وعلیکم شاباش یعنی تمہیں بھی شاباش کہ تم نے غزل پڑھی اور پسند کی۔ :)
سید ذیشان — اگست 30، 2012 6:11 شام
خوب غزل ہے بٹ صاحب!
عاطف بٹ — اگست 30، 2012 6:20 شام
خوب غزل ہے بٹ صاحب!
بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C-%DB%81%D8%AC%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%84%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B2-%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%A8%D9%B9.53634/page-2