مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو
تم بھی میری طرح جھوٹے ہو۔
مجھ کو شام بتا دیتی ہے
تم کس رنگ کے کپڑے پہنے ہو یہ ہماری اپنی غزل ہے بچھڑنے کے موضوع پر۔ موضوع کی وضاحت اس واسطے لازم ٹھہری کہ شاپنگ کی دلدادہ بیگمات کی جانب سے اسے سپنا لان کا اشتہار متصور نہ کیا جائے۔
بعد میں ڈاکٹر بشیر بدر نے ہم سے پوچھے بنا اسے اپنی کتاب میں چھاپ ڈالا۔ تب سے تعلقات کشیدہ ہیں نہ وہ ہمیں جانتے ہیں نہ ہم ان کو۔
انشا جی اور یوسفی صاحب کو ہم تفصیل سے پڑھ نہ سکے کہ اکثر کتب خانوں میں بستہ تھیلا باہر رکھوا لینے کی رسم قبیح ہے۔ کم سے کم ہمیں تاریخ میں تو کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ روم و یونانی تہذیب کے دورکے کتب خانوں میں بستے باہر رکھوا لئے جاتے ہوں۔
السلام علیکم
کافی عرصہ کے بعد اک اور غزل آپ کی بصارتوں کی نذر۔
بھلا کے رنجش اے دوستو مسکرا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں
دلوں سے اپنے تمام شکوے مٹا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں سنا ہے جب سے کہ دور ہونگے نگاہیں پل پل برس رہی ہیں
مرے عزیزو دو اشک تم بھی بہا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں بہت سی خوشیاں بہت سے غم تھے، کبھی ستم تو کبھی کرم تھے
سنہری یادوں کو آج پھر سے جِلا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں سنا ہے ہم نے کہ دردِفرقت بہت ہی جاں سوز کیفیت ہے
مسیحا ہو تو ابھی سے ہم کو شفا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں نہ عہد چاہوں، نہ کوئی پیماں مگر سنو اے بچھڑنے والو !
وفا کے زینے پہ اک دیا سا جلا دو اب ہم بچھڑ رہے ہیں