اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا

ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:10 شام
بہت اعلیٰ
ظہیر بھائی ۔
ہم کہاں اس قابل آپ کے شایانِ شان تعریف کرسکیں۔
بہت ساری دعائیں ۔۔
بہت بہت شکریہ سیما آپا! بہت ممنون ہوں ۔
آپ شرمندہ کر رہی ہیں مجھے ۔ میں کیا اور میری شاعری کیا ! آپ کا خلوص اور دعائیں بہت قیمتی ہیں ۔ اللہ کریم سلامت رکھے! شاد و آباد رکھے!
ماہی احمد — نومبر 16، 2020 5:13 شام
احبابِ کرام! اب کھُرچن کی باری آگئی ہے ۔ کچھ پرانی غزلیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر جھاڑ پونچھ کر ٹائپ کرلی ہیں اور یہاں پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں تو انہیں شائع کرنے کے بارے میں متردد تھا لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ چنانچہ تیس سال پرانی یہ غزل پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۰
کیا ہی خوبصورت اشعار ہیں۔۔۔۔۔ بہت عمدہ!!!
ہر شعر ہی اپنی مثال آپ ہے۔۔۔۔!!!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:14 شام
بہت خوبصورت شعر ہے
بہت شکریہ فاخر بھائی ! بہت نوازش! بہت ممنون ہوں ۔
مجھے معلوم تھا کہ آپ کو یہ شعر پسند آئے گا ۔ آپ بھی غزلوں میں تغزل کم اور تصوف زیادہ ڈھونڈتے ہیں ۔ :):):)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2020 5:16 شام
کیا ہی خوبصورت اشعار ہیں۔۔۔۔۔ بہت عمدہ!!!
ہر شعر ہی اپنی مثال آپ ہے۔۔۔۔!!!
بہت بہت شکریہ ماہی احمد!
اللہ آپ کو خوش رکھے بیٹا! دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے! عزت افزائی پر ممنون ہوں ۔
ماہی احمد — نومبر 16، 2020 5:17 شام
بہت بہت شکریہ ماہی احمد!
اللہ آپ کو خوش رکھے بیٹا! دین و دنیا کی فلاح نصیب فرمائے! عزت افزائی پر ممنون ہوں ۔
آمین۔۔۔۔ جزاک اللہ:)
عاطف ملک — نومبر 17، 2020 11:15 شام
واہ۔۔۔۔خوبصورت کلام
ذیل کے اشعار زیادہ پسند آئے
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
ظہیراحمدظہیر — نومبر 18، 2020 3:17 صبح
واہ۔۔۔۔خوبصورت کلام
ذیل کے اشعار زیادہ پسند آئے
بہت شکریہ عاطف بھائی ! بہت نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے!
ویسے آپ دیکھ لیجئے تیس سال پہلے بھی میری غزلیں اسی طرح "خشک" ہوا کرتی تھیں ۔:):):)
عاطف ملک — نومبر 18، 2020 9:00 صبح
بہت شکریہ عاطف بھائی ! بہت نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے!
ویسے آپ دیکھ لیجئے تیس سال پہلے بھی میری غزلیں اسی طرح "خشک" ہوا کرتی تھیں ۔:):):)
جی جی،وہی دیکھ رہا ہوں۔
اور اس لے ساتھ اپنا "روشن" مستقبل بھی دیکھ رہا ہوں:p
محمد تابش صدیقی — نومبر 18، 2020 9:13 صبح
واہ۔۔۔۔خوبصورت کلام
ذیل کے اشعار زیادہ پسند آئے
ان کے علاوہ تابش کی تعریف ہی بچتی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ پسند نہیں آئی۔
معاصرانہ چشمک یا استادانہ چشمک
محمد عبدالرؤوف — نومبر 18، 2020 9:19 صبح
ماشاءاللہ
حسبِ معمول نہایت عمدہ غزل
ہر شعر گویا تجربات سے کشید کیا ہوا
عاطف ملک — نومبر 18، 2020 12:45 شام
ان کے علاوہ تابش کی تعریف ہی بچتی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ پسند نہیں آئی۔
معاصرانہ چشمک یا استادانہ چشمک
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔تابش بھائی ہمیں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم داد دینے کے معاملے میں کیسے کنجوس واقع ہوئے ہیں۔لیکن اس غزل کے تمام ہی اشعار اچھے لگے،سو کہہ دیا۔
رہ گئی معاصرانہ چشمک،تو آپ نے ویسے ہی میدان خالی چھوڑا ہوا ہے آج کل۔۔۔۔۔۔ہم تو کہہ کہہ ہارے کہ "ہو جائے مقابلہ؟":(
ظہیراحمدظہیر — نومبر 18، 2020 8:10 شام
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔تابش بھائی ہمیں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم داد دینے کے معاملے میں کیسے کنجوس واقع ہوئے ہیں۔لیکن اس غزل کے تمام ہی اشعار اچھے لگے،سو کہہ دیا۔
رہ گئی معاصرانہ چشمک،تو آپ نے ویسے ہی میدان خالی چھوڑا ہوا ہے آج کل۔۔۔۔۔۔ہم تو کہہ کہہ ہارے کہ "ہو جائے مقابلہ؟":(
تو پھر ہوجائے مقابلہ!
میں دو چار دن میں ایک غزل پوسٹ کرتا ہوں ۔ پھر دیکھتے ہیں کہ اس پر کون زیادہ اچھی داد دیتا ہے ۔ آپ یا تابش بھائی؟ :LOL::LOL::LOL:
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 19، 2020 7:52 صبح
بہت خوب، گویا تیس سال پہلے بھی آتشؔ ’’بوڑھا‘‘ ہی تھا :)
یہاں بوڑھا بمعنی پختۂ کار کہا گیا ہے :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 19، 2020 11:22 شام
بہت خوب، گویا تیس سال پہلے بھی آتشؔ ’’بوڑھا‘‘ ہی تھا :)
یہاں بوڑھا بمعنی پختۂ کار کہا گیا ہے :)
جی ہاں راحل بھائی ، ترقیِ معکوس ہورہی ہے ۔ :)
بقول شاعر ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی
جاسمن — دسمبر 4، 2020 11:04 صبح
واہ بھئی واہ!
خوبصووووووووورت غزل۔
بہت پیارے اشعار۔
بابا-جی — دسمبر 6، 2020 6:22 صبح
احبابِ کرام! اب کھُرچن کی باری آگئی ہے ۔ کچھ پرانی غزلیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر جھاڑ پونچھ کر ٹائپ کرلی ہیں اور یہاں پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں تو انہیں شائع کرنے کے بارے میں متردد تھا لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ چنانچہ تیس سال پرانی یہ غزل پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۰
کمال است ۔۔
ام عبدالوھاب — دسمبر 6، 2020 6:31 صبح
احبابِ کرام! اب کھُرچن کی باری آگئی ہے ۔ کچھ پرانی غزلیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر جھاڑ پونچھ کر ٹائپ کرلی ہیں اور یہاں پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ میں تو انہیں شائع کرنے کے بارے میں متردد تھا لیکن تابش بھائی نے انہیں بنظرِ غور دیکھ کر بکمالِ مہربانی سندِ توثیق عطا فرمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ چنانچہ تیس سال پرانی یہ غزل پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
٭٭٭
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۹۹۰
بہت خوبصورت غزل۔۔۔۔ایک ایک شعر کمال کا ہے،مقطع تو لاجواب است۔
ایس ایس ساگر — دسمبر 6، 2020 6:34 صبح
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
بے حوصلہ سفینہ کم پانیوں میں دیکھا
اتنا قریب تجھ کو پایا نہ محفلوں میں
جتنا قریب تجھ کو ویرانیوں میں دیکھا
اُن مشکلوں سے بہتر آسانیاں نہیں یہ
جن مشکلوں کو میں نے آسانیوں میں دیکھا
کیسے کھلوں میں اُس پر ، اِس زندگی کو جس نے
بس خواہشوں میں سوچا ، من مانیوں میں دیکھا
ملتا نہیں کہیں اب چشمِ جہان بیں کو
جو روپ زندگی کا نادانیوں میں دیکھا
واہ واہ۔ بہت ہی عمدہ غزل اور خوبصورت اشعار۔ بہت خوب سر۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D8%B7%D8%BA%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7.113940/page-2