ایک آزاد نظم ---- ’’ گزشتہ سے پیوستہ ‘‘ ------ (تازہ کلام)

مغزل — نومبر 23، 2009 9:29 صبح
ایک آزاد نظم -(تازہ کلام)- سیدہ بہن ( سیدہ شگفتہ ) کے نام انتساب
’’ گزشتہ سے پیوستہ ‘‘
یاد آیا مجھے پچھلے اظہار میں
کچھ نئے زاویے ، کچھ نئے رخ ملے
یاد آیا مجھے راستہ پھر مِرا، جب حذر سے سفر مجھ کو مقدور تھا
آخرِ وقت میں تھا جہاں ہمنفس
’’ اس طرف روشنی تھی مگر روشنی صرف خوش خواب آنکھوں کی زینت بنی‘‘
دفعتاً اک جھماکا ہوا اور پھر
میرے چارو ں طرف روشنی روشنی
ایک معبد کی صورت سمٹنےلگی
ایک گنبد بنا ، جس میں اک در ہوا
در سے آواز آئی کہ آؤ ادھر
میں ٹھٹک سا گیا تھا کہ اس در سے پھر
دودھیا سی کلائی سے معمور ہاتھ اپنی جانب اشارت پہ گویاہوا
میں نے اک طائرانہ نظر اپنے چاروں طرف جمع ہوتے ہوئے
ہم صفیروں کی جانب دوڑائی اور ہاتھ ہلاتے ہوئے ان سے رخصت ہوا
رختِ دل رفتگاں کی اصالت میں دیتے ہوئے
میری آنکھیں بھی ساون کی بوندوں کی کن من پہ محمول ہونے لگیں
ہاتھ کی رہبری اس قدر میر ے اوسان پر طاری تھی
جس طرح چاندنی شب کی دہلیز سے آنگنوں میں اترنے کی لذت میں مخمور ہو
راستے میں مجھے احمریں عنبریں روشنی کے ترانے سنائے گئے
میں بھی پچھلے سفر کی تھکاوٹ سے آلودہ چہرے کے ساتھ
روشنی کے تعاقب میں چلتا رہا
اب مرے سامنے
سونے چاندی کے دروازے مخمل کے فرش
ارغوانی محلات ، ہیروں کے تخت
اطلسی ریشمی خلعتوں اور کلاہوں کے انبار تھے
حکم صادر ہوا !!!!
تم یہیں پر رکو !

م۔م۔مغل
شب 3:55، مورخہ 9 نومبر 2009
ابن سعید — نومبر 23، 2009 10:07 صبح
بھئی واہ!
چلئے کسی روز فون کرکے آپ کی آواز میں سنوں گا ان شاء اللہ۔
مغزل — نومبر 23، 2009 10:13 صبح
شکریہ سعود صاحب، ضرور۔ بلکہ میں ہی پیش کردوں گا۔انشا اللہ
رہ وفا — نومبر 23، 2009 10:32 صبح
واہ کیا کہنے، اس قدر خوبصورت نظم کہنے پر داد قبول کیجئے
مغزل — نومبر 23، 2009 10:42 صبح
شکریہ سجاد صاحب ، بہ سرو چشم جناب۔
فاتح — نومبر 23، 2009 1:26 شام
سبحان اللہ! سبحان اللہ!
وہ سہانی شام یاد آ گئی جب فون پر آپ کی شیریں آواز میں اس نظم سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ایک مرتبہ پھر داد قبول کیجیے۔
مغزل — نومبر 23، 2009 3:52 شام
ہمم۔۔ صاحب کیا یاد دلا دیا۔۔ کہ اس دن آپ کی آواز نے تو جیسے میرے مردہ وجود میں نئی روح پھونک دی تھی۔۔۔ بہت بہت شکریہ ،
الف عین — نومبر 23، 2009 5:12 شام
اور پھر آنکھ کھلی یا نہیں محمود؟
خیر یہ تو مذاق تھا، واقعی اچھی نظم ہے۔
زھرا علوی — نومبر 23، 2009 7:51 شام
بھائی نظم بہت خوب ہے۔۔۔۔:)
شاہ حسین — نومبر 23، 2009 9:14 شام
بُہت خوب جناب مُغل صاحب عمدہ نظم ہے ۔
عمران شناور — نومبر 24، 2009 6:10 صبح
زبردست محمود صاحب۔ بہت خوب
محمد وارث — نومبر 24، 2009 7:47 صبح
خوبصورت اور لاجواب نظم ہے مغل صاحب، بہت داد قبول کیجیئے محترم!
مغزل — نومبر 25، 2009 9:38 صبح
اور پھر آنکھ کھلی یا نہیں محمود؟
خیر یہ تو مذاق تھا، واقعی اچھی نظم ہے۔

بابا جانی معروضی تو آنکھ کھل ہی چکی ہے ، معنوی آنکھ ابھی تک خوابِِ غفلت میں ہے ۔
آپ کی پسندیدگی میرے لیے سند ہے ، بہت بہت محبت بہت شکریہ ۔
بھائی نظم بہت خوب ہے۔۔۔۔:)

شکریہ زھرا بہن، جیتی رہو آباد رہو، چلو کسی بہانےتو آمد ہوئی جناب کی۔
بُہت خوب جناب مُغل صاحب عمدہ نظم ہے ۔

بہت بہت شکریہ شاہ جی بڑی محبت آپ کی
مغزل — نومبر 25، 2009 9:39 صبح
زبردست محمود صاحب۔ بہت خوب

بہت بہت شکریہ شناور بھیا، سلامت رہیں،
مغزل — نومبر 28، 2009 2:27 شام
خوبصورت اور لاجواب نظم ہے مغل صاحب، بہت داد قبول کیجیئے محترم!

بہ سرو چشم حضور۔بہ سروچشم
بہت بہت شکریہ وارث صاحب، بڑی محبت،
سدا خوش رہیں جناب
سیدہ شگفتہ — نومبر 29، 2009 1:06 شام
السلام علیکم
بہت منفرد کلام ہے مغل بھائی ، یہ بتائیں کہ کسی بھی آمد کے پس منظر میں عام طور پر کوئی سبب یا کوئی واقعہ ہوتا ہے یا مختلف خیالات مربوط ہوتے رہتے ہیں ایک منفرد تخلیق کی صورت ؟ اگر شیئر کرنا چاہیں
ش زاد — نومبر 29، 2009 5:49 شام
ایک آزاد نظم -(تازہ کلام)- سیدہ بہن ( سیدہ شگفتہ ) کے نام انتساب
’’ گزشتہ سے پیوستہ ‘‘
یاد آیا مجھے پچھلے اظہار میں
کچھ نئے زاویے ، کچھ نئے رخ ملے
یاد آیا مجھے راستہ پھر مِرا، جب حذر سے سفر مجھ کو مقدور تھا
آخرِ وقت میں تھا جہاں ہمنفس
’’ اس طرف روشنی تھی مگر روشنی صرف خوش خواب آنکھوں کی زینت بنی‘‘
دفعتاً اک جھماکا ہوا اور پھر
میرے چارو ں طرف روشنی روشنی
ایک معبد کی صورت سمٹنےلگی
ایک گنبد بنا ، جس میں اک در ہوا
در سے آواز آئی کہ آؤ ادھر
میں ٹھٹک سا گیا تھا کہ اس در سے پھر
دودھیا سی کلائی سے معمور ہاتھ اپنی جانب اشارت پہ گویاہوا
میں نے اک طائرانہ نظر اپنے چاروں طرف جمع ہوتے ہوئے
ہم صفیروں کی جانب دوڑائی اور ہاتھ ہلاتے ہوئے ان سے رخصت ہوا
رختِ دل رفتگاں کی اصالت میں دیتے ہوئے
میری آنکھیں بھی ساون کی بوندوں کی کن من پہ محمول ہونے لگیں
ہاتھ کی رہبری اس قدر میر ے اوسان پر طاری تھی
جس طرح چاندنی شب کی دہلیز سے آنگنوں میں اترنے کی لذت میں مخمور ہو
راستے میں مجھے احمریں عنبریں روشنی کے ترانے سنائے گئے
میں بھی پچھلے سفر کی تھکاوٹ سے آلودہ چہرے کے ساتھ
روشنی کے تعاقب میں چلتا رہا
اب مرے سامنے
سونے چاندی کے دروازے مخمل کے فرش
ارغوانی محلات ، ہیروں کے تخت
اطلسی ریشمی خلعتوں اور کلاہوں کے انبار تھے
حکم صادر ہوا !!!!
تم یہیں پر رکو !

م۔م۔مغل
شب 3:55، مورخہ 9 نومبر 2009

بہت خوبصورت آزاد نظم ہے محمود بھائی بہت داد قبول کریں
مغزل — نومبر 29، 2009 7:31 شام
السلام علیکم
بہت منفرد کلام ہے مغل بھائی ، یہ بتائیں کہ کسی بھی آمد کے پس منظر میں عام طور پر کوئی سبب یا کوئی واقعہ ہوتا ہے یا مختلف خیالات مربوط ہوتے رہتے ہیں ایک منفرد تخلیق کی صورت ؟ اگر شیئر کرنا چاہیں

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاۃ،
ستائشی کلمات کے لیے متشکر ہوں سیدہ بہن،
باقی ۔۔یہاں بتانے میں خائف ہوں( میں ذپ کردوں کہیے تو ؟؟)
سلیمان جاذب — دسمبر 9، 2009 10:32 صبح
واہ بھای جان
بہت عمدہہے
جیہ — دسمبر 9، 2009 10:37 صبح
عمدہ توہے مگر سیلمان ضاذب صاحب آپ کہاں گم تھے اتنے دنوں؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%86%D8%B8%D9%85-%E2%80%99%E2%80%99-%DA%AF%D8%B2%D8%B4%D8%AA%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%81-%E2%80%98%E2%80%98-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%DA%A9%D9%84%D8%A7%D9%85.26745/