جناب سرور صاحب - مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ اس نظم پر ایک مکمل نقد و نظر چاہ رہے ہیں تو میں اس پر تفصیل سے اپنی رائے لکھتا ہوں - ظاہر ہے کہ آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں -
میں آپ کو بالکل نہیں جانتا اس لیئے سب سے پہلے اس نظم کو پڑھ کے جو ایک اجمالی تاثر قائم ہوتا ہے اس کا ذکر کروں گا -
نظم پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر ایک پڑھا لکھا شخص ہے اور سرد و گرمِ زمانہ چشیدہ ہے - شاعر کا مطالعہ بھی وسیع ہے اور خیال بھی موجود ہے - گو کہ خیال نیا نہیں ہے مگر نظم میں بہاؤ بھی ہے روانی بھی - مگر میرے حساب سے اس بہاؤ میں شاعر خود بھی بہہ گیا ہے -
شروع میں شاعر اپنے محبوب سے اسکے آنے پہ مخاطب ہے -
مری حبیب، مری ہم نشیں، مری ہمراز
مری غزل کی اَدا، میرے شعر کی آواز
مرا قرار، مرا کرب، میرا سوز و ساز
مری تلاش کا انجام، دَرد کا آغاز
----
اس کے بعد شاعر کچھ کنفیوز ہو گیا -
تو آئی ہے تو دل ناصبور بھر آیا
سفر تمام ہوا آس کا نگر آیا
نہ جانے کتنی ہی چوٹوں کا درد ابُھر آیا
میں جیسے صبح کا بھولا تھا ، شام گھر آیا
جب دلِ ناصبور بھر آیا (تو وہ تو پہلے ہی سے بھرا تھا تبھی تو ناصبور تھا) پھر شاعر کیسے کہہ سکتا ہے کہ آس کا نگر آیا ؟ - جب شاعر کو یوں لگے کہ جیسے صبح کا بھولا شام کر گھر آیا ہے تو پھر کتنی چوٹوں کا درد ابھرنا چہ معنی داردَ؟ مرے نزدیک یہ محض زورِ بیانی کی ایک کوشش ہے
== یہاں سے آگے اصل نظم کا آغاز ہوتا ہے
میں دیکھتا ہوں تجھے تو خیا ل آتا ہے
دلِ شکستہ میں رہ رہ سوال آتا ہے
میں کیا ہوں کون ہوں اور میں کہاں سے آیا ہوں
یقین ہوں کہ گماں ہوں کہ ایک سایہ ہوں؟
کبھی میں سب سے ہوں پوشیدہ اور کبھی ظاہر
مجھے تلاش ہے اپنی، میں کون ہوں آٰخر ؟
کسی کا سجدہ ء الفت، کسی کا دست ِدُعا
کسی غریب کی کُٹیا کا ٹمٹما تا دیِا
کسی کی حسرت گم گشتہ اور کسی کی اُمید
کسی کی چشم فسوں گر،کسی کا شوقِ دید
کسی نصیب کا پتھر ، کوئی دل ِ مجبور
کسی کی آنکھ کا تارا،کسی کے دل کا سرور
کسی کا غصہ ،کسی کی وفا، کسی کا پیار
کسی کی آنکھ کا آنسو،کسی کے پیار کی مار
وہ راگ جس کو میسر نہ آسکا اک ساز
وہ چیخ جس کو ملی ہی نہیں کبھی آواز
وہ دل جو ہر نئی اُمید پا کے ٹوٹ گیا
نصیب وہ جو بدلنے سے پہلے پھوٹ گیا
- یہاں تک شاعر "میں" کو محذوف کر کے صرف یہ بیان کر رہا ہے کہ وہ کیا ہے -
============
اس سے آگے "میں" محذوف نہٰیں کیا جاسکتا ان جملوں کا فاعل میں نہیں ہوگا لہذا یہ ادھورے جملے ہوئے -
وہ ساتھ جو سرِ منزل کبھی کا چھوٹ گیا
وہ ایک دَرد جو سارا وجود لوٹ گیا
======
اس کے بعد آنے والی ان تمام باتوں کا بھی ضمیر "میں" نہیں ہے - شاعر نے بنا کسی تمہید کے بات بدل دی ہے
ہری وہ ہاتھ کی چوڑی، وہ مانگ کا سیندور (وزن کے لیئے اسے سندور لکھنا ہوگا)
وہ خواب خواب بدن رات کے نشے میں چُور
وہ رنگ چمپئی جو روح کوجلاتا ہے
وہ ہاتھ چھو کے جنھیں دل کو چین آتا ہے
وہ آنکھ جس میں زمانے کا دَرد ہو گ
وہ پیار سے بھرے سینے میں دِل دھڑکتا ہوا (پیار بھرے سینے میں ہونا چاہیئے - سے اضافی ہے)
کلی سے ہونٹ وہ نازک، وہ گرمی ء رُخسار
وجود سارا ہو جیسے شراب سےسرشار
وہ خون خون گلِ تر، ہوا وہ مہکی ہوئی
====
یہاں پہنچ کر شاعر نے پھر بغیر تمہید کے مضمون بدل دیا -
حسین پھول پہ بیٹھی ہوئی حسیں تتلی
خدا کےواسطے مجھ کو بتا کہ میں کیا ہوں ؟
الغرض اس نظم کو اچھا ہونے میں کچھ کسر رہ گئی -
مکرمی قادری صاحب:
منظور ہے گذارش احوال واقعی
اپنا بیانِ حسنِ طبیعت نہیں مجھے
میں آپ کا دلی ممنون ہوں کہ اس مصروف زمانے میں آپ نے میری نظم پر اس قدر وقت، محنت اور فکر کی درد سری مول لی اور اپنے تاثرات سے سرفراز کیا۔میر تقی میر نے ایسے ہی لمحوں کے لئے کہا تھا کہ :
پیدا کہاں ہیں ایسے پرا گندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
آپ نے میرے متعلق جن اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ آپ کے ھسن ظن پر مبنی سہی لیکن انھیں اسی طرح رہنے دیجئے۔ شاید ان کے فیضان سے محفل اردو میں میرا تھوڑا بہت بھرم رہ جائے۔ اپنا مختصر تعارف کرائے د یتا ہوں۔ میرا تعلق علی گڑھ ، ہندوستان سے ہے۔ وہیں کا تعلیم یافتہ ہوں اور بعدمیں وہیں مسلم یونیو رسٹی میں دس سال پڑھا چکا ہوں۔ پیشے سے انجینئر تھا لیکن ذوق و شوق ادب وشعر سے ہے۔ایک ادبی خاندان کا آخری فرد ہوں جہاں ہر رکن کسی نہ کسی صورت سے ادب و شعر سے وابستہ تھا۔ میرے بعد افسوس کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا: انقلابات ہیں زمانے کے۔
میں اب ایک مدت سے امریکہ میں مقیم ہوں ۔ امید ہے اردو محفل کی وساطت سےآپ سے نیاز حاصل ہوتا رہے گا۔ اردو محفل میں ظہیر صاحب کے حکم پر حاضر ہوا ہوں۔ آہستہ آہستہ یہاں کے رموز و اوقاف سے مانوس ہو جائوں گا۔ انشااللہ۔ امید پر دنیا قائم ہے سو میں بھی اسی پر تکیہ کئے لیتا ہوں۔ آپ کی تحریر میں اپنی نظم پر :مکمل نقد و نظر: کی خوش خبری پڑھ کر بہت خوش ہوا تھا کہ آج کچھ حسرتیں پوری ہو جائیں گی لیکن افسوس کہ زیادہ دیر خوش نہ رہ سکا۔ اس اجمال کی تفصیل آگےمیرے جواب میں مل جائے گی۔
بنیادی طور پر میں غزل کا شاعر ہوں لیکن گاہے گاہے نظم بھی کہنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔میری نظمیں زیادہ تر تاثراتی ہیں یعنی اپنے کسی تجربے یا مشاہدے پر مبنی ہیں۔ زیر بحث نظم ایسے وقت کہی گئی جب میں ایک مخصوص کیفیت سے گزر رہا تھا۔سو اس میں کوئی ہرج نہیں کہ دنیا میں ہر شخص ایسی کیفیات سے آشنا ہے گویا یہ ہماری زندگی کا ایک حصہ ہیں ۔ اب : آمدم برسر مطلب:۔ آپ کی تحریر پر میرے خیالات و تاثرات پیش خدمت ہیں۔ کسی خیال یا رائے سے آپ کی دلآزاری مقصود نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آپ کا متفق ہونا ضروری ہے۔ کسی کی دلآزاری میرا شیوہ نہیں ہے۔ اختلا ف رائے زندگی کا نا گزیر حصہ ہے اور زندگی سے مفر نہیں ۔ انیس نے شاید ایسے موقعہ کے لئے ہی یہ شعر کہا تھا اور کیا ہی خوب کہا تھا کہ؛
خیال خاطر احباب چاہئے ہر د م
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
مبالغہ نہ ہوگا اگر کہوں کہ آپ کا تبصرہ پڑھ کر مایوسی ہوئی۔:تبصرہ: تو میں بر سبیل تکلف لکھ رہا ہوں ورنہ جس مدرسہء فکر کا میں تربیت یافتہ ہوں وہاں ایسی تحریر کو :اظہار خیال محال: سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاتا ہے۔ مکمل نقد و نظریا جامع تبصرہ اور ہی چیز ہے اور فی زمانہ خال خال ہی نظر آتا ہے۔ کچھ کم فرصتی،کچھ قلت مطالعہ و تفکر،کچھ ادبی روایات کی شکست و ریخت اور کچھ شخصی تساہلی اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ جامع تبصرہ جس منطقی طرز فکر، متوازن اور سوچے سمجھے استدلال ، مضمون پر مبصر کا عبور اورتجزیاتی اور محققانہ مزاج ونظر کاخواہاں ہے اس کا فقدان آپ کی تحریر میں بہت نمایاں ہے اور اسے داغدار بھی کر رہا ہے ۔آپ نے کوئی پتے کی بات نہیں کہی یعنی کوئی قابل ذکر تبصرہ نہیں کیا بلکہ صرف اتنا کیا ہے کہ میری نظم جوں کی توں نقل کرکے چند ٹکڑوں میں منقسم کردی ہے ۔ پھر انھیں ٹکڑوں میں سے دو ایک نکات مستعار لے کرایک آدھ جملہ ٹانک دیا ہے جس کی ضرورت اور افادیت کےآپ تو شاید قائل ہوں لیکن دوسرےقاری یقینا انھیں بے ضرورت اور بے سود سمجھیں گے۔ اگر آپ کے :مکمل نقد و نظر: سے میری نظم خارج کر دی جائے تو جو چند سطریں آپ کی تحریر کی صورت میں باقی رہ جائیں گی ان کی کیا بساط اور قیمت ہے کہ ان کو لائق اعتنا بھی تصور کیا جائے؟ کسی کی تخلیق پر تبصرہ کرنا اکثر متعلقہ مضمون لکھنے سے زیادہ مشکل اور صبرآزما کام ہوتا ہے۔ آپ نے اس کو لفظی بازی گری سے اتنا آسان کر دکھایا ہے کہ اب ہر کس وناکس بلا تکلف ادب و شعر پر :مکمل نقد و نظر: کا انتہائی اہم فریضہ انجام دے سکتا ہےاور ناقد و مبصر کہلانے کا سہرا خود ہی اپنے سر باندھ سکتا ہے۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا ھسن ِ کرشمہ ساز کرے
آپ نظم سمجھ نہیں پائے اور اسی وجہ سے اس کے متعلق آپ کے تاثرات :پا در ہوا: کے مصداق دکھائی دیتے ہیں۔آپ کی تحریر سے چند مثا لیں یہاں بطور اتمام حجت نقل کررہا ہوں تاکہ :سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔:
ا[1] آپ سمجھ رہے ہیں کہ میری نظم کی مخاطب میری محبوبہ ہے۔ بھلا اس کو :آرائش خم کاکل: سےاتنی فرصت کہاں کہ وہ میری ذہنی اور نفسیاتی الجھنیں سلجھاتی پھرے ؟ نظم کی مخاطب کون ہے اور کیوں ہے ؟ اس اہم نکتہ پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے۔محفل میں مختلف احباب نے اس پر کچھ گفتگو کی ہے۔ اسے دیکھ لیں ۔کیا خبر گوہر مقصود کہاں سے بہم پہنچ جائے۔
[2] آپ :دل ناصبور: اور :دل بھر آنے : کو ایک ہی بات سمجھ رہے ہیں گویا ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں اور یہ لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ :دل نا صبور :صرف :دل بھر آنے: کا دوسرا نام نہیں ہے۔یہ بات تو اُردو کا ادنی طالب علم بھی جانتا ہے ۔معلوم نہیں آپ تک یہ خبر کیوں کرنہ پہنچ سکی۔ اسی طرح آپ نے :شام گھر آنے: اور :چوٹوں کا درد ابھر آنے : کی معنویت نہ سمجھ کر بے بنیاد اعتراض کر دیا ہے جوبے معنی اور غیر ضروری بھی ہے۔ کیا کسی :صبح کے بھولے: کا : شام گھر آنا : اس کا مستلزم ہے کہ آنے والے کی کوئی پرانی چوٹ پھر نہ ابھرے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ خیال اتناپوچ اور لاغر ہے کہ یہ آپ کے تبصرے کی شان و وقعت کو مجروح و متاثر ہی نہیں کرتا بلکہ معدوم کردیتا ہے۔ بزرگوں نے اسی لئے نصیحت کی ہے کہ :پہلے بات کو تولو، پھر منھ سے بولو۔: آپ نے بھی سنا ہوگا؟
[3] آپ نے :سیندور: کے املا کوصحیح کیا ۔شکریہ۔ رہ گئی :سے: کے زائد ہونے کی بات تو آپ :ضرورت شعری: سے واقف نہیں ہیں یا پھر آپ کو اس کا تجربہ نہیں ہے۔شاعری میں یہ ایک مسلمہ طرز فکر ہے اور یہ عیب نہیں ہے۔ اس کم فہمی کا واھد علاج مطالعہ اور فکر ہے۔ امید ہے اس جانب توجہ فرمائیں گے۔
مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
آپ کے :نقد و نظر: کا آخری جملہ :الغرض اس نظم کو اچھا ہونے میں کچھ کسر رہ گئی: پڑھ کر بہت محظوظ ہوا۔ یعنی نظم :اچھی: کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے۔ کاش اس کا علاج بھی تجویز کر دیتے ۔ خیرکوئی بات نہیں۔ نظم ہویا غزل، میری شعر گوئی خود میرے لئے ہوتی ہے ۔ دنیا کو کچھ ملے یا نہ ملے، میرا دل بہل جاتا ہے اور یہ بڑی نعمت ہے۔ حضرت راز چاند پوری کا شعر ہے:۔
راز مل جاتی ہے فکروں سے نجات
شاعری سے اور کچھ حاصل نہیں
والد مرحوم کے اس شعر میں حقیقت کا جو اظہار ہے وہ برحق ہے لیکن شاعری سے یہ فائدہ تو ضرور ہے کہ آپ جیسے اہل دل اور اہل قلم سے نیاز حاصل ہوتا رہتا ہے اس پراللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔اب اجازت
دیجئے۔ محفل میں ملاقات ہوتی رہے گی۔ یار زندہ، صحبت باقی۔
خاکسار: سرور راز