غالبؔ کی جو مثال آپ نے پیش کی ہے، وہ ایطائے خفی کے باب میں اکثر پیش کی جاتی ہے۔ ایطائے خفی کی مثالیں اساتذہ کے یہاں بہتیری مل جاتی ہیں، اس لئے اس کو روا رکھا جاتا ہے، مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ اس کو عمداً نہ برتا جائے۔ آپ کے مطلعے میں بھی میرے خیال میں ایطائے خفی ہی ہے کیونکہ روی سے ماقبل کے حروف میں محض حرکت کا اختلاف ہے۔ ایطائے جلی، میری ناقص رائے میں، تب لازم آتا جب آپ چلنا کے ساتھ گرنا کو قافیہ لاتے۔ واللہ اعلم۔
کیا دوا اور ہوا قافیے ہیں؟ اگر ہیں تو کیسے؟ 'وا' دونوں میں مشترک ہے۔ 'ہ' پر پیش ہے اور 'د' پر زبر۔ اور اگر یہ قافیے جائز ہیں تو جو اقتباس آپ نے کسی استاد کی تحریر سے لے کر اوپر درج کیا ہے وہ درست ہے۔ مجھ ناچیز کے شعروں کے قوافی سے اگر 'نا' کو نہ نکالا جائے تو پھر چلنا اور کھلنا بھی قوافی ہیں۔'نا' مشترک ہے، 'ل' ساکن ہے اور ان سے پہلے کی حروف کی مختلف حرکات ہیں جیسے دوا اور ہوا میں 'د' اور 'ہ' کی ہیں۔
اس موضوع پر آپ جیسے بہت سے قابل لوگوں کی رائے آ چکی ہے۔ میں تو طفل مکتب ہوں۔ میں اپنی بات اب اس مقام پر مکمل کرتا ہوں۔
مجھے پڑھنے میں وہ شعر اچھا لگتا ہے جس میں غنائیت کا احساس ہوتا ہو، ندرت بیان نظر آتی ہو اور کوئی اچھی بات کی گئی ہو۔
کسی شعر کی کلاسیکی قوائد کے مطابق پڑتال مجھ سے کم ہی ہو پاتی ہے۔
اردو کے ایک شناسا شاعر ہیں جلیل عالی صاحب۔ ان سے ایک دفعہ عروض پر بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ عروضیے (وہ پنجابی ہیں) کبھی اچھے شاعر نہیں ہوتے!