نگاہوں میں اترا سرابوں کا منظر
قیامت سے پہلے عذابوں کا منظر نصیبوں میں میرے اداسی کے سائے
ترے گھر میں پھیلا گلابوں کا منظر وہ دلکش نظارے وہ اجلے سے چشمے
نظر میں ابھی تک ہے خوابوں کا منظر یہ صحرا کی گرمی یہ راہوں کی سختی
جلاتا ہے مجھ کو خرابوں کا منظر سفیدی سی سر میں اترنے لگی ہے
نہ آئے گا مڑ کے شبابوں کا منظر میں غفلت میں سویا رہا عمر ساری
نہ سوچا کبھی وہ حسا بوں کا منظر کھلا جو نقابِ رخِ یار راجا
نہ دیکھا گیا پھر شرابوں کا منظر
mfdarvesh — جون 7، 2008 6:33 صبح
کیا بات ہے راجا صاحب آخری شعر لاجواب ہے
ایم اے راجا — جون 7، 2008 6:46 صبح
درویش صاھب بہت شکریہ۔
گرو جی — جون 7، 2008 7:46 صبح
یہ آپ کی اپنی لکھی ھوئی ھو گی کیوں کہ کافی غلطیاں ھیں اس میں
بھر حال اچھی کوشش
جیا راؤ — جون 7، 2008 9:06 صبح
بہت اچھی غزل ہے راجا صاحب
آخری شعر زیادہ اچھا لگا
گرو جی — جون 7، 2008 9:21 صبح
کھڑکی سے جھانکتا ستاروں کا منظر
اندھیرے میں بھی نظاروں کا منظر
مغزل — جون 7، 2008 9:56 صبح
راجہ بھیا ۔۔۔
ماشا اللہ بہت خوب ہے ۔ اسی طرح مشق جاری رکھیئے ۔۔۔
منزل کچھ دور ہی ہے۔۔۔۔۔۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
گرو جی — جون 7، 2008 10:45 صبح
کوشش جاری رکھیں
الف عین — جون 7، 2008 6:53 شام
باقی اشعار تو درست ہیں راجا۔ لیکن یہ شعر
میں غفلت میں سویا رہا عمر ساری
نہ دیکھا کبھی بھی ثوابوں کا منظر
درست تفہیم نہیں ہوق رہی اس کی۔ کچھ واضح کر کے پھر سے کہو تو سوچا جائے۔
باقی اشعار تو درست ہیں راجا۔ لیکن یہ شعر
میں غفلت میں سویا رہا عمر ساری
نہ دیکھا کبھی بھی ثوابوں کا منظر
درست تفہیم نہیں ہوق رہی اس کی۔ کچھ واضح کر کے پھر سے کہو تو سوچا جائے۔
استادِ محترم بہت شکریہ۔
شعر کہ دینے کے بعد احساس ہوا کہ کافیہ کیا ہو گا، شعر سچ پر مبنی تھا اس لیئے یہی قافیہ باندھ دیا، کوئی مناسب قافی ڈھونڈتا ہوں، آپ سے بھی یہی گزارش ہے، میں چاہتا ہوں کہ شعر جو کا توں ہی رہے
باقی اشعار تو درست ہیں راجا۔ لیکن یہ شعر
میں غفلت میں سویا رہا عمر ساری
نہ دیکھا کبھی بھی ثوابوں کا منظر
درست تفہیم نہیں ہوق رہی اس کی۔ کچھ واضح کر کے پھر سے کہو تو سوچا جائے۔
حضور میرے ذہن میں آیا ہیکہ جب بندہ غفلت میں ہوتا ہے تو وہ کچھ نہیں سوچتا سو شعر میں تبدیلی کی ہی ذرا توجہ فرمائیے گا۔ میں غفلت میں سویا رہا عمر ساری
نہ سوچا کبھی وہ حسابوں کا منظر اسکی تفہیم میرا ذہن کچھ اس طرح کرتا ہے کہ، میں غفلت میں رہا اور کبھی حسابوں کے دن کے منظر کے بارے میں سوچا ہی نہیں، پچھتاوا ہے، اب ذرا دیکھیئے گا۔
الف عین — جون 9، 2008 5:41 صبح
لیکن راجا ۔ منظر دیکھا جاتا ہے، سوچا نہیں جاتا۔ ہاں، منظر کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے یا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ حسابوں قافیے میں ایک سقم تو درست ہوا ہے کہ جو کہنا چاہ رہے تھے، اس کا مطلب واضح ہوا ہے لیکن یہ سقم اب بھی برقرار ہے۔
خرم شہزاد خرم — جون 9، 2008 5:53 صبح
بہت خوب راجا صاحب جاری رکھے لگتا ہے اس طرف کچھ کر کے ہی دیکھائے گے بہت خوب پیاری غزل ہے
جناب گرو جی آپ سے درخواست ہے کہ غلطی کی نشاندہی کر دیا کرے تانکہ ہم جیسے نہیں لکھنے والے کچھ سیکھ سکے اور ہو سکے تو کچھ اصلاح بھی کر دیا کرے شکریہ
محمد وارث — جون 9، 2008 6:12 صبح
بہت اچھی غزل ہے آپ کی راجا صاحب، لاجواب
ایم اے راجا — جون 9، 2008 5:41 شام
وارث بھائی، مغل بھائی اور خرم بھائی بہت شکریہ۔
خرم بھائی گرو جی کی اصلاح لینے سے ہم باز آئے لگتا ہے جو بحر دن رات کی کوششوں سے سیکھی ہے وہی بھلوا دیں گے۔
لیکن راجا ۔ منظر دیکھا جاتا ہے، سوچا نہیں جاتا۔ ہاں، منظر کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے یا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ حسابوں قافیے میں ایک سقم تو درست ہوا ہے کہ جو کہنا چاہ رہے تھے، اس کا مطلب واضح ہوا ہے لیکن یہ سقم اب بھی برقرار ہے۔
جناب میرا کام ہے صرف نشاندہی کرنا تا کہ استاد ُاسے صیح کر سکیں
اب اگر سارا کام ہی میںکردوں تو اس سے اچھا اپنی غزلیں لکھنا نہ شروع کر دوں
راجا بھائی تنقید برائے اصلاح ہوتی ہے، مجھے آپ پر تنقید کر کے کوئی اعزاز نہیں مل جانا