سیدہ سارا غزل — اکتوبر 20، 2012 9:04 شام
سر اسد ۔ نہایت شاندار غزل اور لاجواب مقطع۔ بھرپور داد۔ سلامتی ہومحمد بلال اعظم صاحب کی فرمائش پر جناب احمد فراز کی زمین میں کہی ایک غزل احباب کی نزر:
عشق کلفت ہے نہ دریائے فسوں ہے یوں ہےہجر وحشت نہ سکوں ہے، نہ جنوں ہے یوں ہےآنکھ میں آکے لَہو اب تو ٹھہر جاتا ہےایک قطرہ ہے دَروں ہے نہ بَروں ہے یوں ہےگر ضروری ہے محبت میں تڑپنا دل کاکھینچنا آہ کا بھی کارِسکوں ہے یوں ہےلفظ جی اُٹھتے ہیں قرطاس پہ آتے آتےہاتھ میرے بھی کوئی کُن فیَکوں ہے یوں ہےخال و خَد حُسن کے تُجھ سے نہ بیاں ہونے کےصرف لفاظی ہے کہتا ہے کہ یوں ہے یوں ہےہم اسد دل میں بسا رکھتے ہیں دنیا ساریورنہ کہنے کو یہ بس قطرہِ خُوں ہے یوں ہےاسد