اے عقلِ کم شناس! ہوئی کارگر نہ چال

La Alma — اگست 8، 2017 9:41 صبح

اے عقلِ کم شناس! ہوئی کارگر نہ چال
تدبیرِ عشق نے تری، جینا کیا محال
چاروں طرف سکوت ہے، سُر ہے نہ کوئی تال
عالم پھر آئے وجد میں اب ساز تُو سنبھال
کس طور لب پہ حرفِ تمنا کو لائیے
مقدور کب ہمیں ہے ابھی جراتِ سوال
عیش و نشاط نے کیا بیگانہء خرد
اترے خُمار آج، مئے غم ذرا اچھال
اوجِ فلک مقامِ تحیر سے ہے پرے
حیرت ہمیں بھی لائی ہے تا نقطہء کمال
کیوں ہے گلہ خدا کو، تراشے جو چند بُت
ہے کائنات آپ صنم خانہء خیال
اپنی لحد پہ وقت نہ ٹھہرا پھر ایک پل
ہم کھینچتے ہی رہ گئے دامانِ ماہ و سال

محمد وارث — اگست 8، 2017 10:10 صبح
عمدہ غزل ہے۔
چاروں طرف سکوت ہے، سُر ہے نہ کوئی تال
عالم پھر آئے وجد میں اب ساز تُو سنبھال
لاجواب!
La Alma — اگست 8، 2017 1:39 شام
عمدہ غزل ہے۔
چاروں طرف سکوت ہے، سُر ہے نہ کوئی تال
عالم پھر آئے وجد میں اب ساز تُو سنبھال
لاجواب!
بہت نوازش .
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 8، 2017 2:38 شام
اے عقلِ کم شناس! ہوئی کارگر نہ چال
تدبیرِ عشق نے تری، جینا کیا محال
چاروں طرف سکوت ہے، سُر ہے نہ کوئی تال
عالم پھر آئے وجد میں اب ساز تُو سنبھال
کس طور لب پہ حرفِ تمنا کو لائیے
مقدور کب ہمیں ہے ابھی جراتِ سوال
عیش و نشاط نے کیا بیگانہء خرد
اترے خُمار آج، مئے غم ذرا اچھال
اوجِ فلک مقامِ تحیر سے ہے پرے
حیرت ہمیں بھی لائی ہے تا نقطہء کمال
کیوں ہے گلہ خدا کو، تراشے جو چند بُت
ہے کائنات آپ صنم خانہء خیال
اپنی لحد پہ وقت نہ ٹھہرا پھر ایک پل
ہم کھینچتے ہی رہ گئے دامانِ ماہ و سال

خوبصورت خوبصورت۔ بہت داد قبول ہو
La Alma — اگست 9، 2017 7:23 صبح
خوبصورت خوبصورت۔ بہت داد قبول ہو
بہت شکریہ محترم .
احمد وصال — اگست 17، 2017 6:04 شام
بہت ہی خوبصورت غزل۔۔
۔۔۔۔۔۔
اوجِ فلک مقامِ تحیر سے ہے پرے
حیرت ہمیں بھی لائی ہے تا نقطہء کمال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
La Alma — اگست 17، 2017 6:50 شام
بہت ہی خوبصورت غزل۔۔
۔۔۔۔۔۔
اوجِ فلک مقامِ تحیر سے ہے پرے
حیرت ہمیں بھی لائی ہے تا نقطہء کمال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت مشکور ہوں .
نمرہ — اگست 17، 2017 6:50 شام
اے عقلِ کم شناس! ہوئی کارگر نہ چال
تدبیرِ عشق نے تری، جینا کیا محال
چاروں طرف سکوت ہے، سُر ہے نہ کوئی تال
عالم پھر آئے وجد میں اب ساز تُو سنبھال
کس طور لب پہ حرفِ تمنا کو لائیے
مقدور کب ہمیں ہے ابھی جراتِ سوال
عیش و نشاط نے کیا بیگانہء خرد
اترے خُمار آج، مئے غم ذرا اچھال
اوجِ فلک مقامِ تحیر سے ہے پرے
حیرت ہمیں بھی لائی ہے تا نقطہء کمال
کیوں ہے گلہ خدا کو، تراشے جو چند بُت
ہے کائنات آپ صنم خانہء خیال
اپنی لحد پہ وقت نہ ٹھہرا پھر ایک پل
ہم کھینچتے ہی رہ گئے دامانِ ماہ و سال

کس طور لب پہ حرف تمنا کو لائیے، واہ!
La Alma — اگست 17، 2017 8:29 شام
کس طور لب پہ حرف تمنا کو لائیے، واہ!
پسندیدگی کے لیے شکر گزار ہوں .
عائشہ صدیقہ — اگست 18، 2017 7:54 صبح
عیش و نشاط نے کیا بیگانہء خرد
اترے خُمار آج، مئے غم ذرا اچھال
واہ۔۔۔بہت خوب
La Alma — اگست 18، 2017 11:15 صبح
آداب عرض ہے .
ندیا اطہر — اگست 18، 2017 2:16 شام
بہت خوب
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
لاریب مرزا — اگست 18، 2017 3:00 شام
بہت خوب لا المیٰ!!
الف عین — اگست 18، 2017 3:35 شام
ماشاء اللہ المی ،ٰ اچھی غزل ہے۔
عائشہ صدیقہ — اگست 18، 2017 4:29 شام
تسلیم۔۔۔
La Alma — اگست 18، 2017 5:25 شام
بہت خوب
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
سپاس گزار ہوں۔
La Alma — اگست 18، 2017 5:26 شام
بہت نوازش لا ریب !!
La Alma — اگست 18، 2017 5:29 شام
ماشاء اللہ المی ،ٰ اچھی غزل ہے۔
آپ کی توجہ کا بہت شکریہ . مجھے خدشہ تھا کہیں اصلاحِ سخن کے زمرے سے نکلنے کے بعد آپ کے تبصرے سے محروم ہی نہ رہ جاؤں .
عباد اللہ — اگست 22، 2017 8:29 صبح
بہت عمدہ
La Alma — اگست 23، 2017 4:22 شام
تھینکس!!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D8%B9%D9%82%D9%84%D9%90-%DA%A9%D9%85-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%AF%D8%B1-%D9%86%DB%81-%DA%86%D8%A7%D9%84.97860/