بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟

ابن رضا — اپریل 24، 2016 12:37 صبح

تھک گئی آہ مِری عرش پہ دیتے دستک
بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟
اَوَّل اَوَّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون
محوِ گریہ ہے مرے حال پہ اب چشمِ فلک
آزمائش تھی مِرے ضبط کی مقصود جسے
آ کے رکھے وہی زخموں پہ مِرے مشتِ نمک
لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خوش باش ہوں میں
رُخ پہ رہتی ہے تری یاد سے اک ایسی دمک
دشتِ دل درد کے پھولوں سے جو بھر جاتا ہے
تب کہیں جا کے رضا اٹھتی ہے شعروں سے مہک
ستمبر 30، 2014
یوسف سلطان — اپریل 24، 2016 2:38 صبح
آزمائش تھی مِرے ضبط کی مقصود جسے
آ کے رکھے وہی زخموں پہ مِرے مشتِ نمک
لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خوش باش ہوں میں
رُخ پہ رہتی ہے تری یاد سے اک ایسی دمک
بہت عمدہ
الف عین — اپریل 24، 2016 4:10 صبح
بہت خوب۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 24، 2016 4:18 صبح
خوب صورت
مریم افتخار — اپریل 24، 2016 6:27 صبح
بہت خوب
محمد تابش صدیقی — اپریل 24، 2016 6:37 صبح
بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی، کیا کہنے
ابن رضا — اپریل 24، 2016 8:49 صبح
بہت نوازش۔ خوش رہیے۔
سر حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ سلامت رہیے۔
پسند آوری کا بہت شکریہ حضور
بہت نوازش۔ خوش رہیے
بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی، کیا کہنے
پسند آوری کا بہت شکریہ خوش رہیے
صفی حیدر — اپریل 24، 2016 8:55 صبح
بہت خوب ۔۔۔ اعلی تخلیق ہے ۔۔۔
سید لبید غزنوی — اپریل 24، 2016 9:19 صبح
تھک گئی آہ مِری عرش پہ دیتے دستک
بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟
میں بے اختیار رونے لگا۔۔۔اللہ اب تو سن لی جی اے میری او ر رضا بھائی کی پکاریں اور ہمیں اپنی رحمت خاصہ سے نواز دی جی اے آمین
آ پ بہت ہی خوبصورت لکھتے ہیں۔۔۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین
جاسمن — اپریل 24، 2016 10:01 صبح
بہت ہی خوبصورت۔ خوبصورت ترین کلام۔ اعلیٰ ۔۔
اَوَّل اَوَّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون
محوِ گریہ ہے مرے حال پہ اب چشمِ فلک
بہت خوب!
بہت خوب!
اوّل اوّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون۔۔۔
واہ!
سلمان دانش جی — اپریل 24، 2016 1:24 شام
واہ صاحب۔ مقطع اتنا تگڑا ہے کہ اس کے ہوتے کسی اور شعر پر نظر ہی نہیں ٹھہرتی
دشتِ دل درد کے پھولوں سے جو بھر جاتا ہے
تب کہیں جا کے رضا اٹھتی ہے شعروں سے مہک
لاریب مرزا — اپریل 24، 2016 2:50 شام
تھک گئی آہ مِری عرش پہ دیتے دستک
بابِ ایجابِ دُعا مجھ پہ کُھلے گا کب تک؟
واہ واہ!! نہایت عمدہ!! بہت سی داد قبول کریں رضا بھائی
راحیل فاروق — اپریل 24، 2016 2:56 شام
اَوَّل اَوَّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون
محوِ گریہ ہے مرے حال پہ اب چشمِ فلک
ماشاءاللہ، رضا بھائی۔
میرے بھائی کی محنتیں رنگ لا رہی ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ! :redheart:
ابن رضا — اپریل 24، 2016 5:50 شام
بہت خوب ۔۔۔ اعلی تخلیق ہے ۔۔۔
پسند آوری کا شکریہ
میں بے اختیار رونے لگا۔۔۔اللہ اب تو سن لی جی اے میری او ر رضا بھائی کی پکاریں اور ہمیں اپنی رحمت خاصہ سے نواز دی جی اے آمین
آ پ بہت ہی خوبصورت لکھتے ہیں۔۔۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین
بہت نوازش. خوش رہیے
بہت ہی خوبصورت۔ خوبصورت ترین کلام۔ اعلیٰ ۔۔
بہت خوب!
بہت خوب!
اوّل اوّل تو مری آنکھ تھی ساون ساون۔۔۔
واہ!
آپ کے محبت بھرے کلمات کے لیے سراپا سپاس ہوں
واہ صاحب۔ مقطع اتنا تگڑا ہے کہ اس کے ہوتے کسی اور شعر پر نظر ہی نہیں ٹھہرتی
دشتِ دل درد کے پھولوں سے جو بھر جاتا ہے
تب کہیں جا کے رضا اٹھتی ہے شعروں سے مہک
پسند آوری کا بہت شکریہ
خوش رہے
واہ واہ!! نہایت عمدہ!! بہت سی داد قبول کریں رضا بھائی
بہت نوازش خوش رہیے.
ماشاءاللہ، رضا بھائی۔
میرے بھائی کی محنتیں رنگ لا رہی ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ! :redheart:
محبتوں کے لیے ممنون ہوں. ذوق سلامت رہے
یاز — اپریل 25، 2016 6:10 صبح
بہت ہی خوب ابنِ رضا بھائی۔
ابن رضا — اپریل 25، 2016 10:53 صبح
بہت ہی خوب ابنِ رضا بھائی۔
بہت ہی نوازش . شاد رہیے
نور وجدان — اپریل 25، 2016 11:23 صبح
عمدہ جناب رضا صاحب ۔۔اچھا کلام ہے
ابن رضا — اپریل 25، 2016 1:34 شام
عمدہ جناب رضا صاحب ۔۔اچھا کلام ہے
تشکر!! خوش رہیے
ابن رضا — اپریل 25، 2016 4:56 شام
ٹیگ: محمداحمد ، نیرنگ خیال ، نایاب ، اوشو ، سید عاطف علی ، سید ذیشان محمد وارث صاحب
اوشو — اپریل 25، 2016 5:14 شام
دشتِ دل درد کے پھولوں سے جو بھر جاتا ہے
تب کہیں جا کے رضا اٹھتی ہے شعروں سے مہک
واہ
بہت خوب جناب
شاد آباد رہیں
:)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D9%90-%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D8%A7%D8%A8%D9%90-%D8%AF%D9%8F%D8%B9%D8%A7-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D9%BE%DB%81-%DA%A9%D9%8F%DA%BE%D9%84%DB%92-%DA%AF%D8%A7-%DA%A9%D8%A8-%D8%AA%DA%A9%D8%9F.89526/