اُسی کے ہاتھوں دریدہ ہوا یہ دل کے ساتھ
کھُلا نصیبِ گِریباں خدا خدا کر کے
بلا سے قتل ہوئے دل فِگار، ادا تو ہُوا
خَراجِ ناوَک ِ مژگاں خدا خدا کر کے
بہت ظالم ہو
چرکے بھی لگاتے ہو اور پھر بخیہ گری بھی کرتے ہو
اشعار کچھ یوں ہیں جیسے ماہی بے آب پر جاں سوز محرومی کے بعد تھوڑا سا پانی چھڑک دیا جائے
بہت کوشش کی کہ آپ کی نگارشات نہ پڑہوں
وحشت جنوں سوا ہو جاتی ہے
مگر الفاظ کے گورکھ دھندے اور بھول بھلیاں کچھ ایسی ہیں
نہ آگے بڑھنے کی راہ سجھائی دیتی ہے نہ کوئی واپسی کا راستہ ملتا ہے
اور اگر واپسی ہو بھی جائے تو "دم واپسیں نہ وہ تازگی نہ وہ روشنی"
اللہ کرے زور قلم زیادہ
@محد وارث کا بھی شکریہ آپ کو زیر دام لانے کے لئے