بڑی دیر سے چپ ہوں۔ نذر شاذ

الف عین — فروری 12، 2017 4:56 شام
یادش بخیر، مرحوم شاذ تمکنت کی ایک مناجات یہاں دکن میں بہت مشہور ہوئی تھی، بطور خاص جب عزیز خاں وارثی قوال نے گائی تھی۔
اک حرف تمنا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
یہ مناجات بیاض شام کے صفحہ 10 پر ہے۔
اور حال ہی میں شاذ کی ۸۴ویں سالگرہ منائی گئی، اور لا مکاں کے سٹیج پر انہیں کے پوتوں نے یہی قوالی پیش کی۔ اس پروگرام میں میں نے مصحف اقبال توصیفی کے ساتھ شرکت کی تھی جنہوں نے اس پروگرام کی نظامت بھی کی (شروع میں ) اور ان سے وابستہ یادیں سنائیں۔ ان کے ساتھ انور معظم اور خالد قادری نے بھی شاذ کو یاد کیا۔
اسی وقت سے شاذ کا یہ بے پناہ مصرع ذہن میں گونج رہا تھا، جو اس حمدیہ غزل کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
ابھی بھی یہ ترمیم کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ پچھلے پندرہ دن سے یہی حاوی ہے۔ آج احباب سے شئر کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ مزید بہتری کے مشورے مل سکیں۔
مطلع؟؟؟
تو اوج فلک، اوجِ ثریا سے بھی اونچا
میں خاک کا ذرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
ہر سمت ترا دست کرم ہے، یہاں میں بھی(؟؟)
دست طلب آسا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
تو سبع سماوات میں ہے بزم سجائے
میں ٹوٹتا تارہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
جلوے ہیں ترے ارض و سماوات میں ، اور میں
ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
مانگوں بھی تو کیا مانگوں، تجھے سب کی خبر ہے
گونگا ہوں نہ بہرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اتنا سا کوئی چھیڑ دے، بس آگ لگا دوں
گو راکھ کا ذرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
ظہیراحمدظہیر — فروری 13، 2017 3:44 صبح
یادش بخیر، مرحوم شاذ تمکنت کی ایک مناجات یہاں دکن میں بہت مشہور ہوئی تھی، بطور خاص جب عزیز خاں وارثی قوال نے گائی تھی۔
اک حرف تمنا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
یہ مناجات بیاض شام کے صفحہ 10 پر ہے۔
اور حال ہی میں شاذ کی ۸۴ویں سالگرہ منائی گئی، اور لا مکاں کے سٹیج پر انہیں کے پوتوں نے یہی قوالی پیش کی۔ اس پروگرام میں میں نے مصحف اقبال توصیفی کے ساتھ شرکت کی تھی جنہوں نے اس پروگرام کی نظامت بھی کی (شروع میں ) اور ان سے وابستہ یادیں سنائیں۔ ان کے ساتھ انور معظم اور خالد قادری نے بھی شاذ کو یاد کیا۔
اسی وقت سے شاذ کا یہ بے پناہ مصرع ذہن میں گونج رہا تھا، جو اس حمدیہ غزل کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
ابھی بھی یہ ترمیم کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ پچھلے پندرہ دن سے یہی حاوی ہے۔ آج احباب سے شئر کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ مزید بہتری کے مشورے مل سکیں۔
مطلع؟؟؟
تو اوج فلک، اوجِ ثریا سے بھی اونچا
میں خاک کا ذرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
ہر سمت ترا دست کرم ہے، یہاں میں بھی(؟؟)
دست طلب آسا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
تو سبع سماوات میں ہے بزم سجائے
میں ٹوٹتا تارہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
جلوے ہیں ترے ارض و سماوات میں ، اور میں
ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
مانگوں بھی تو کیا مانگوں، تجھے سب کی خبر ہے
گونگا ہوں نہ بہرا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اتنا سا کوئی چھیڑ دے، بس آگ لگا دوں
گو راکھ کا ذرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں

سبحان اللہ ! کیا اشعار ہیں اعجاز بھائی !! بہت خوب! خیال اور زبان کی روانی ہے!!
ویسے تو یہ چھوٹا منہ اور بڑی بات ہوجائے گی لیکن چونکہ آپ نے مشورے کا دروازہ وا کیا ہے تو مطلع کے لئے یہ چھوٹی سی تجویز دوں گا کہ دستِ طلب آسا والے شعر کا پہلا مصرع ویسے ہی کمزور پڑ رہا ہے اس لئے اسے درست کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے دوسرے مصرع کو مطلع کے لئے استعمال کرلیا جائے ۔ دوسرا مصرع بہت اچھا ہے اور اس پر مصرع لگانا آسان ہوگا ۔ ایک تجویز ہے:
در پر ترے بیٹھا ہوں ، بڑی دیر سے چپ ہوں
دستِ طلب آسا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
یا اسی طرح کا کوئی اور خیال ۔ آپ بلاشبہ بہتر جانتے ہیں ۔
اعجاز بھائی ، دیر آید درست آید ! خوبصورت حمدیہ اشعار ہیں ! داد قبول کیجئے!​
الف عین — فروری 13، 2017 4:57 صبح
جزاک اللہ خٰر ظہیر صاحب
اس پہلے مصرع کے کئی متبادل سوچے تھے۔ پھر عارضی طور پر یہی رکھ دیا۔ لیکن میری خوایش ہے کہ اس میں دست کرم کے الفاظ ضرور استعمال کروں
محمد تابش صدیقی — فروری 13، 2017 5:04 صبح
سبحان اللہ استادِ محترم. موتی پرو دیے ہیں.
محمداحمد — فروری 13، 2017 12:14 شام
سبحان اللہ!
بہت خوبصورت اشعار ہیں۔
اُمید ہے جلدی مکمل ہو جائے گی یہ حمد!
جاسمن — مارچ 21، 2017 10:05 صبح
سبحان اللہ!
بہت ہی خوبصورت!
اللہ قبول فرمائے۔ آمین!
الف عین — مارچ 22، 2017 4:57 صبح
مکمل غزل کے لیے آنے والا ’سمت‘ ملاحظہ کریں۔ اسی ہفتے مکمل ہو سکی ہے۔ ڈیڑھ ماہ تک یہ زنبیل میں پڑی رہی۔اب بھی ممکن ہے کہ مزید تبدیلیاں روا رکھوں۔
مبتدیان اور شاگردان کرام توجہ دیں اس حقیقت پر۔
کاشف اسرار احمد — مارچ 22، 2017 2:27 شام
سبحان اللہ!
ماشا اللہ خوبصورت اشعار نکلے ہیں!
استاد محترم کیا مطلع میں آپ نے تبدیلی کی یا نہیں ؟
ظہیر عباس ورک — مارچ 22، 2017 3:20 شام
ماشاء اللہ!
سبحان اللہ!
انتہائی خوبصورت کلام ہے۔ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک۔
میری طرف سے ڈھیروں داد اس شاہکار غزل کے لیے اور ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے۔
نور وجدان — مارچ 22، 2017 5:12 شام
اسکا شاہکار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔بڑی دیر سے چپ ہیں مگر کیا چپ کی گفتگو ہے ، احساس کو کس سلیقے سے بیان کیا ہے ، جلوے کا شیشے سے جوڑنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہہہہہہہہہہہہہہہہ ! استاد محترم یوں تو استاد نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
امان زرگر — مارچ 25، 2017 8:03 صبح
مکمل غزل کے لیے آنے والا ’سمت‘ ملاحظہ کریں۔
سمت کب آتا ہے؟ کہاں آتا ہے؟ اورکون لاتا ہے؟
الف عین — مارچ 25، 2017 4:31 شام
سمت کب آتا ہے؟ کہاں آتا ہے؟ اورکون لاتا ہے؟
عزیزم مجھے استاد کہتے ہو اور اپنے استاد کی دستخط کا ہی علم نہیں!!
الف عین — مارچ 25، 2017 4:52 شام
ایک مشورہ احباب سے
یہ موج ہوا جانے مجھے کب اُڑا لے جائے
بس آخری پتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اس کے کئی متبادل ذہن میں ہیں۔ مشورہ دیں کہ کیا بہترین ہے۔
دوسرے مصرع کا ایک ہی متبادل ہے:
اک آخری پتّا ہوں۔۔۔۔
اور پہلے مصرع کے ممکنہ روپ
کب جانے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانے ہوا ۔۔۔۔۔
کیا جانے ہوا کب مجھے لے جائے اڑا کر
کس لمحے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانیے کب مجھ کو اڑا کر ہوا لے جائے
(ٰاس آخری مصرع میں ’ہوا‘ کے الف کے اسقاط سے ہوا کی تیزی کا کچھ احساس ہوتا ہے؟)
الف عین — مارچ 25، 2017 4:54 شام
۔۔۔۔۔ مکرر۔۔۔۔۔
امان زرگر — مارچ 25، 2017 5:06 شام
ایک مشورہ احباب سے
یہ موج ہوا جانے مجھے کب اُڑا لے جائے
بس آخری پتا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
اس کے کئی متبادل ذہن میں ہیں۔ مشورہ دیں کہ کیا بہترین ہے۔
دوسرے مصرع کا ایک ہی متبادل ہے:
اک آخری پتّا ہوں۔۔۔۔
اور پہلے مصرع کے ممکنہ روپ
کب جانے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانے ہوا ۔۔۔۔۔
کیا جانے ہوا کب مجھے لے جائے اڑا کر
کس لمحے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانیے کب مجھ کو اڑا کر ہوا لے جائے
(ٰاس آخری مصرع میں ’ہوا‘ کے الف کے اسقاط سے ہوا کی تیزی کا کچھ احساس ہوتا ہے؟)
سر مشورہ کی جرات تو نہیں، ہاں اتنا کہنا ہے کہ یہ آخری پتا دنیائے اردو کا ایک سایہ دار شجر ہے. اللہ سلامت رکھے
امان زرگر — مارچ 25، 2017 5:11 شام
عزیزم مجھے استاد کہتے ہو اور اپنے استاد کی دستخط کا ہی علم نہیں!!
سر شاگرد کو "لاڈ" کا حق تو ہوتا ہی ہے.
امان زرگر — مارچ 25، 2017 6:21 شام
سر "سمت" کب چھپے گا؟
الف عین — مارچ 26، 2017 6:03 صبح
سر "سمت" کب چھپے گا؟
’نلکے‘ مطلب پائپ لائن میں ہے۔ ہکم اپریل کو شائع ہو گا۔ یکم اپریل کے شروع ہوتے ہی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2017 6:12 صبح
یہ موج ہوا جانے مجھے کب اُڑا لے جائے

کب جانے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانے ہوا ۔۔۔۔۔
کیا جانے ہوا کب مجھے لے جائے اڑا کر
کس لمحے ہوا مجھ کو اڑا کر کہیں لے جائے
کیا جانیے کب مجھ کو اڑا کر ہوا لے جائے
رائے دینا اور وہ بھی اساتذہ کو؟ اس کا اہل نہیں.
بحیثیتِ قاری یہ شعر مجھے بھلا معلوم ہو رہا ہے. اسے رائے نہ سمجھا جائے. :)
کیا جانے ہوا کب مجھے لے جائے اڑا کر
بس آخری پتا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
عظیم — مارچ 26، 2017 7:54 صبح
(ٰاس آخری مصرع میں ’ہوا‘ کے الف کے اسقاط سے ہوا کی تیزی کا کچھ احساس ہوتا ہے؟)
جی بابا ۔ اللہ سبحان و تعالی آپ کا سایہ ہم سب کے سروں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلامت رکھے ۔ آمین
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DA%91%DB%8C-%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%DA%86%D9%BE-%DB%81%D9%88%DA%BA%DB%94-%D9%86%D8%B0%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D8%B0.94797/