ذوالفقار نقوی — دسمبر 7، 2013 2:47 شام
بے چینی کے لمحے، سانسیں پتھر کی
صدیوں جیسے دن ہیں، راتیں پتھر کی
پتھرائی سی آنکھیں، چہرے پتھر کے
ہم نے دیکھیں کتنی شکلیں پتھر کی
گورے ہوں یا کالے، سر پر برسے ہیں
پرکھی ہم نے ساری ذاتیں پتھر کی
نیلامی کے در پر، بے بس، شرمندہ
خاموشی میں لپٹی آنکھیں پتھر کی
دل کی دھڑکن بڑھتی جائے سن سن کر
شیشہ گر کے لب پر باتیں پتھر کی
اندر کی آرائش نازک، کیا ہو گا
باہر وزنی ہیں دیواریں پتھر کی
آؤ مل کر اِن میں ڈھونڈیں آدم زاد
چلتی پھرتی جو ہیں لاشیں پتھر کی
ذوالفقار نقوی
محمد علم اللہ — دسمبر 7، 2013 3:34 شام
واہ واہ سبحان اللہ
نیلامی کے در پر، بے بس، شرمندہ
خاموشی میں لپٹی آنکھیں پتھر کی
نایاب — دسمبر 7، 2013 3:38 شام
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ بہت دعائیں
آؤ مل کر اِن میں ڈھونڈیں آدم زاد
چلتی پھرتی جو ہیں لاشیں پتھر کی
ذوالفقار نقوی — دسمبر 7، 2013 4:00 شام
بہت نوازش احباب.....اس قدر حوصلہ افزائی کے لئے شکر گذار ہوں
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 10:27 صبح
محترم
الف عین صاحب ، جناب
طارق شاہ صاحب، جناب
نایاب صاحب
الف عین — دسمبر 9، 2013 4:14 شام
بہت خوب۔ اپنا مکمل تعارف دیا کیا ؟ کہیں مجموعہ کلام کا ذکر بھی پڑھا تھا۔ اسے ای میل کر دیں مجھے۔ میرے کوائف نامے کے صفحے پر کئی جگہ مل جائے گا۔
سید ذیشان — دسمبر 9، 2013 4:21 شام
آؤ مل کر اِن میں ڈھونڈیں آدم زاد
چلتی پھرتی جو ہیں لاشیں پتھر کی
بہت عمدہ نقوی صاحب!
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 4:51 شام
بہت خوب۔ اپنا مکمل تعارف دیا کیا ؟ کہیں مجموعہ کلام کا ذکر بھی پڑھا تھا۔ اسے ای میل کر دیں مجھے۔ میرے کوائف نامے کے صفحے پر کئی جگہ مل جائے گا۔
بہت شکریہ محترم
الف عین صاحب.....یقینا آپ کے الفاظ میرے لئے سند کے برابر ہیں.....تعارف آپ کو ٹیگ کرتا ہوں....کتاب بهی جلد میل کر دوں گا.....بہت شکریہ ...
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 4:58 شام
آؤ مل کر اِن میں ڈھونڈیں آدم زاد
چلتی پھرتی جو ہیں لاشیں پتھر کی
بہت عمدہ نقوی صاحب!
بہت شکریہ
سید ذیشان بھائی....آپ کی محبت ہے.....اللہ خوش رکھے..
طارق شاہ — دسمبر 10، 2013 3:30 صبح
بہت خُوب، جناب ذولفقار نقوی صاحب
بہت خوش رہیں اور لکھتے رہیں

شمشاد — دسمبر 11، 2013 11:48 صبح
ماشاء اللہ
بہت خوب کلام ہے۔
بہت داد قبول فرمائیں۔
قیصرانی — دسمبر 11، 2013 11:57 صبح
ایک عرض۔ عنوان میں صرف غزل- ذوالفقار نقوی لکھنے کی بجائے پہلا مصرعہ لکھ دیں تو بہت آسانی ہو جائے گی

قیصرانی — دسمبر 11، 2013 11:58 صبح
اور
بہت خوب

بھی
ذوالفقار نقوی — دسمبر 11، 2013 12:54 شام
ایک عرض۔ عنوان میں صرف غزل- ذوالفقار نقوی لکھنے کی بجائے پہلا مصرعہ لکھ دیں تو بہت آسانی ہو جائے گی
محترم اگر ایڈمن ایسی سہولت دستیاب کریں کہ میں اپنی کسی لڑی کی تدوین کر پاوں تو مجھے خوشی ہو گی..
قیصرانی — دسمبر 11، 2013 12:56 شام
محترم اگر ایڈمن ایسی سہولت دستیاب کریں کہ میں اپنی کسی لڑی کی تدفین کر پاوں تو مجھے خوشی ہو گی..
ابھی تو آپ ایسا کیجئے کہ اس طرح کے ہر دھاگے کی پہلی پوسٹ کے نیچے رپورٹ کا بٹن دبا کر مطلوبہ تبدیلی درج کر دیجئے۔ آئیندہ کے لئے عنوان لکھتے وقت ہی

ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 7:57 صبح
ابن سعید بهائی، تجویز کو نوٹ کریں اور مجهے ایسی تمام لڑیوں میں تدوین کی سہولت عطا کر دیں تاکہ میں عنوان میں متعلقہ غزل کا پہلا مصرعہ لگا سکوں....
ابن سعید — دسمبر 13، 2013 2:54 شام
ابن سعید بهائی، تجویز کو نوٹ کریں اور مجهے ایسی تمام لڑیوں میں تدوین کی سہولت عطا کر دیں تاکہ میں عنوان میں متعلقہ غزل کا پہلا مصرعہ لگا سکوں....
آپ ایسی تمام لڑیوں کے اولین مراسلے رپورٹ کر دیں اور ان میں لکھ دیں کہ پہلا مصرع عنوان میں شامل کر دیا جائے۔ اس کے بعد خود خیال رکھیے گا۔ ویسے ایک یا دو دن تک عنوان مدون کرنے کا اختیار ہر محفلین کو حاصل ہے۔

ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 3:22 شام
ابن سعید بھائی ۔ بہت شکریہ ۔ ویسے میرے خیال سے عنوان تبدیل کرنے کا آپشن بالکل ہی نہیں ہے، میں نے ابھی ایک تازہ غزل لگائی ہے اور صرف چیک کرنے کی غرض سے تدوین کے لئے لڑی کھولی لیکن صرف اشعار میں تبدیلی کی سہولت میسر ہے، عنوان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا!!!
ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 3:29 شام
بہت شکریہ ایڈمنز، غزل کے عنوان میں پہلا مصرعہ لگانے کے لئے۔۔۔ مزید اچھا ہوتا اگر خالی مصرعہ ہی رہتا اور ساتھ سے "غزل ۔ ذوالفقار نقوی" ہٹا دیا جاتا !!!
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 13، 2013 3:36 شام
بہت شکریہ ایڈمنز، غزل کے عنوان میں پہلا مصرعہ لگانے کے لئے۔۔۔ مزید اچھا ہوتا اگر خالی مصرعہ ہی رہتا اور ساتھ سے "غزل ۔ ذوالفقار نقوی" ہٹا دیا جاتا !!!
حکم کی تعمیل ہوئی!