نگاہیں کا ی ہیں کی ی کی نسبت کچھ لیٹا ہوا ہے۔
تابش بھائی ابھی تحقیق کر لی ہے -آپ کی بات درست ہے بلکہ یوں کہیں کہ مجھے ہی یہ فرق ابھی سمجھ آیا -

میزان سخن از حمید عظیم آبادی میں تقطیع کے باب میں <یائے >کی اقسام پر مفصّل بحث موجود ہے
حاصل بحث یہی ہے کہ ظہیر صاحب کی ردیف <ہیں> میں <یائے لین > ہے جسے ہم بڑی یائے کہتے تھے بچپن میں-اس کی خاصیت ہے کہ نون غنہ سے ماقبل آئے تو اس سے پیچھے والے حرف پر زبر ہوتا ہے جو کہ یہاں< ہائے > ہے-مثالوں میں الفاظ <ہیں> اور <میں> دیے گئے ہیں -
جبکہ <نگاہیں> میں یائے مجہول ہے اوراس کی <ہیں > کی ہائے پر کسرہ (زیر )مجہولہ ہے برخلاف ردیف کے -اس یائے کی آواز نہ <نہیں> کی یائے جیسی ہے اور نہ <میں> کی یائے جیسی بلکہ بین بین ہے -جسے آپ لٹا رہے تھے

- لہٰذا ردیف ذرا تبدیل ہوئی ہے -اس یائے کا استعمال درج ذیل ہے :
اسمائے جمع تانیث کی علامت :آنکھیں ،نگاہیں وغیرہ
افعال جمع کی علامت : جھانکیں ،دیکھیں وغیرہ
مزید پڑھنے کے لیے کتاب خریدی جائے شاید یہ کتاب ریختہ پر مفت دستیاب نہ ہو -
