تازہ ترین

محمد یعقوب آسی — ستمبر 21، 2014 6:36 صبح
بارِ دگر اپنی جسارتوں پر شرمندہ ہوں تاہم اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس تلخ نوائی کا مرتکب ہوا ہوں۔ درگزر فرمائیے گا۔
ندیم مراد — ستمبر 21، 2014 9:36 شام
واہ جناب اعجاز عبید صاحب
کیا خوبصورت غزل تحریر فرمائی ہے واہ واہ
الف عین — ستمبر 22، 2014 2:55 شام
پہنچوں میں جہاں ، لگتا ہے منزل یہ نہیں ہے
یہ پاؤں کا چکر، یہ سفر کیوں نہیں جاتا
پہلے مصرع میں اگر "بھی" کی معنویت لائی جاتی تو شعر کی سطح کہیں بلند ہو جاتی۔
لگتا ہے یہ منزل نہیں، پہنچوں میں جہاں بھی
یہ ابر کا ٹکڑا تو گریزاں رہا مجھ سے
جاتا ہوں میں جس سمت، اُدھر کیوں نہیں جاتا
یہاں کچھ شتر گربہ کی سی صورت بن رہی ہے۔ یہاں ’’گریزاں رہا‘‘ کی بجائے ’’گریزاں ہے‘‘ کی معنویت درکار ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ’گریزاں رہا‘ سے آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مطلب ’گریزاں رہا ہے‘ جو Present Continuous کے باعث زیادہ معنی خیز لگا مجھے۔
"دن گزرے گذر" کی بندش لگتا ہے جبراً لائی گئی ہے۔ اس پر توجہ فرمائیے گا، شعر کا تخیل اور مضمون عمدہ ہے اور کہیں زیادہ حسنِ ادا کا متقاضی ہے۔
مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح حسن بیان بڑھ گیا ہے۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 22، 2014 7:15 شام
لگتا ہے یہ منزل نہیں، پہنچوں میں جہاں بھی
میں سمجھتا ہوں کہ ’گریزاں رہا‘ سے آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے کہ مطلب ’گریزاں رہا ہے‘ جو Present Continuous کے باعث زیادہ معنی خیز لگا مجھے۔
مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح حسن بیان بڑھ گیا ہے۔

توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
محمد بلال اعظم — ستمبر 23، 2014 4:51 شام
محمداحمد بھائی سے متفق ہوں۔۔۔۔ آخر کار انتظار ختم ہوا
پہنچوں میں جہاں ، لگتا ہے منزل یہ نہیں ہے
یہ پاؤں کا چکر، یہ سفر کیوں نہیں جاتا
وہ ابر ہے پھر کیوں مجھے کرتا نہیں سیراب
سورج ہے تو دن گزرے گذر کیوں نہیں جاتا
یہ خونِ شہیداں ہے تو پھر لکھے گا تاریخ
ہر لاشہ مگر خوں سے سنور کیوں نہیں جاتا؟
واہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ
کمال
سپرب
فنٹاسٹک
خوبببببببببببببب
محمد بلال اعظم — ستمبر 23، 2014 4:53 شام
استاد محترم ماشاءاللہ بہت لاجواب اشعار ہیں. تنقید و تحسین کی ہم میں تاب نہیں.
کچھ فی البدیہہ اشعار ہمارے یہاں چل رہے سیاسی تناظر میں سرزد ہو گٰئے ہیں
وہ شخص وزارت سے اتر کیوں نہیں جاتا
رسیا‌ وہ حکومت کا ، گھر کیوں نہیں جاتا
دیکھی نہ سنی اتنی ملامت کبھی لوگو
غیرت ہے اگر اس میں تو مر کیوں نہیں جاتا
جو دھاندلی سے بن بیٹھا ہے اس ملک کا راجہ
جمہور کے غصے سے وہ ڈر کیوں نہیں جاتا
جاتے ہوے خالی تھے سکندر کے بھی گر ہاتھ
دوزخ یہ ترے پیٹ کا بھر کیوں نہیں جاتا
جو تیس برس سے ہے یہاں کرسی سے چپکا
وہ تیس دنوں کے لیے گھر کیوں نہیں جاتا

واہ
ہاہاہاہاہاہا
بہت خوب
کچھ زیادہ ہی حسبِ حال اشعار ہیں۔
لاجوان
عینی مروت — ستمبر 28، 2014 10:20 صبح
یہ عشق جو سودا ہے، اتر کیوں نہیں جاتا
طوفانِ بلا ہے تو گزر کیوں نہیں جاتا
وہ ابر ہے پھر کیوں مجھے کرتا نہیں سیراب
سورج ہے تو دن گزرے گذر کیوں نہیں جاتا
یہ خونِ شہیداں ہے تو پھر لکھے گا تاریخ
ہر لاشہ مگر خوں سے سنور کیوں نہیں جاتا؟
سبحان اللہ۔۔۔بےحدددد عمدہ اشعار استاد محترم !
فاتح — ستمبر 28، 2014 11:19 صبح
واہ خوبصورت غزل ہے۔
عظیم — اکتوبر 9، 2014 8:59 شام
بابا یہ مرا حال سدهر کیوں نہیں جاتا
سودا ہے اگر عشق اتر کیوں نہیں جاتا
تنگ آ گئے محفل کے سبهی رکن بهی مجھ سے
ہر اک کی زباں پر ہے یہ مر کیوں نہیں جاتا
جتنا بهی لکهوں لگتا ہے لکها ہی نہیں کچھ
لکھ لکھ کے یہ دل میرا ہی بهر کیوں نہیں جاتا
بابا یہ سفر کیا ہے کہ مرتا ہے مسافر
بابا مرے پیروں کا سفر کیوں نہیں جاتا
دن رات جهگڑتا ہوں میں خود آپ سے اپنے
بابا میں خود اپنے سے مکر کیوں نہیں جاتا
عظیم — اکتوبر 9، 2014 9:06 شام
÷
اسامہ جمشید — اکتوبر 13، 2014 1:45 شام
بهت خوب استاد محترم
جنید عطاری — اکتوبر 13، 2014 5:59 شام
یہ ابر کا ٹکڑا تو گریزاں رہا مجھ سے
جاتا ہوں میں جس سمت، اُدھر کیوں نہیں جاتا
بلا شُبہ بہت اچھا شعر ہے، مترنم بھی ہے۔
سید شہزاد ناصر — اکتوبر 25، 2014 6:41 صبح
بہت خوب غزل :)
بہت سی داد آپ کی اس کاوش کی نذر
آپکی اورمحترم محمد یعقوب آسی کی عالمانہ بحث سے معلومات میں بہت اضافہ ہوا
اللہ کرے زور قلم زیادہ
عظیم — اکتوبر 28، 2014 1:32 صبح
-
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2014 2:41 شام
بابا یہ مرا حال سدهر کیوں نہیں جاتا
سودا ہے اگر عشق اتر کیوں نہیں جاتا
تنگ آ گئے محفل کے سبهی رکن بهی مجھ سے
ہر اک کی زباں پر ہے یہ مر کیوں نہیں جاتا
جتنا بهی لکهوں لگتا ہے لکها ہی نہیں کچھ
لکھ لکھ کے یہ دل میرا ہی بهر کیوں نہیں جاتا
بابا یہ سفر کیا ہے کہ مرتا ہے مسافر
بابا مرے پیروں کا سفر کیوں نہیں جاتا
دن رات جهگڑتا ہوں میں خود آپ سے اپنے
بابا میں خود اپنے سے مکر کیوں نہیں جاتا

ہمت ہے تو کر گزرئیے صاحب!
عظیم — نومبر 19، 2014 2:49 شام
ہمت ہے تو کر گزرئیے صاحب!

کیا کر گزرنا ہے محترم - میں سمجها نہیں -
محمد یعقوب آسی — نومبر 19، 2014 3:21 شام
کیا کر گزرنا ہے محترم - میں سمجها نہیں -
دن رات جهگڑتا ہوں میں خود آپ سے اپنے
بابا میں خود اپنے سے مکر کیوں نہیں جاتا
:bee:
اپنے آپ سے بھی کبھی کوئی مکر سکا ہے؟
عظیم — نومبر 19، 2014 3:42 شام
دن رات جهگڑتا ہوں میں خود آپ سے اپنے
بابا میں خود اپنے سے مکر کیوں نہیں جاتا
:bee:
اپنے آپ سے بھی کبھی کوئی مکر سکا ہے؟

اچها تو آپ اس ہمت کی بات کر رہے تهے - میں سمجها شاید وہی ہمت جو اب تک دکهاتا آیا -
کاشف اسرار احمد — دسمبر 11، 2014 12:56 شام
بہت عمدہ غزل ہے استاد محترم ۔۔۔۔
ماشا اللہ ۔۔۔
کاشف اسرار احمد — دسمبر 11، 2014 1:02 شام
اسی زمین میں اس ناچیز نے بھی کچھ عرصہ قبل جسارت کی تھی اور جناب نے کمال شفقت سے تصحیح بھی فرماٰی تھی۔۔۔
گو اس میں ابھی بھی اصلاح کی گنجاٰیش نظر آتی ہے۔۔۔ :arrogant:۔۔ لیکن پھر میں اسےدوبارہ وقت نہیں دے پایا تھا ۔۔۔
-------------------------------------
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
جذبات کا دریا ہے ، اتر کیوں نہیں جاتا
کیا یوں ہی سدا بے حِس و خاموش رہوں گا
ہمدم بھی دعا گو ہے ، تَو مر کیوں نہیں جاتا
ہیں ایسی ہوائیں ہی سدا میرے مقابل
میں خاک اگر ہوں تو بکھر کیوں نہیں جاتا
تو آئینہ تمثال ہے گر ماہ جبیں ، پھر
ان عیب و ہنر سے ، میں سنور کیوں نہیں جاتا
مدّت سے ستم کوش نہیں یار تو ، لیکن
دل سے ، تری الفت کا اثر کیوں نہیں جاتا
مانا کے ہے وا تجھ پہ در صدغم و آلام
ہوں میں بھی اسی غم میں، نکھر کیوں نہیں جاتا
دونوں ہیں گرفتار اگر موج غم ہجر
دامن یہ ترا صبح کو تر کیوں نہیں جاتا
سید کاشف

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86.77611/page-2