


شکریہ۔
عنایت، حسن بھائی۔
شکریہ، فہد۔
آمین۔ آپ کو بھی، بھیا۔
مفصل تبصرے کا شکریہ۔ آپ بھی اب پوسٹ کر ہی دیں۔



ڈھیروں خون بڑھ گیا، سیدی۔ شکریہ۔
آداب، فاخر بھائی۔ بادامی آنکھوں پر گزارا نہ کر لیں؟
آداب۔
بہت شکریہ۔
محبت، نوید بھائی۔ میں کچھ مصروفیات کے سبب اصلاحِ سخن میں حاضری نہیں دے پا رہا۔ مگر علی العموم آپ بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ نظر سے گزرتا رہتا ہے۔



ہاہاہاہاہاہا۔ ڈھیر سارا شکریہ۔ اف!
زہے نصیب۔ مگر ہم اور محمد تابش صدیقی بھائی پیروڈی کو ترس گئے ہیں۔ تابش بھائی نے تو خیر خود کفالت کا ثبوت دے دیا ہے، ہم کہاں جائیں؟



آداب، کاشف بھائی۔
بھائی، پر ہی لکھا تھا۔ افسوس کے الفِ وصل کے ساتھ مل کر یہ وزن کو قائم رکھتا ہے۔ چونکہ آگے بھی یہ پر ہی کی صورت میں آیا ہے تو یہاں تخفیف میں نے مناسب نہیں سمجھی۔ اس سے مجھے مصرع میں ایک ہم آہنگی کا احساس ہوتا ہے۔ شاید ایسا نہ ہو۔
دونوں احباب کا بے حد شکریہ۔
ایک مو شگافی کی اجازت چاہتا ہوں۔ امید ہے گوارا فرمائیں گے۔
لفظ تصرف کے دو بنیادی مفاہیم ہیں۔ ایک تو لغوی ہے یعنی استعمال کرنا، برتنا۔ دوسرا اصطلاحی کہہ لیجیے۔ اس صورت میں اس سے مراد کسی شے پر قبضہ یا قدرت رکھنا اور اس کی ہئیت کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ یہ مفہوم عموماً منفی ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں اردو محاورہ "تصرف میں لانا" ہے۔ یعنی کسی شے کو ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا استعمال کرنا۔ دوسری صورت میں "تصرف کرنا" بولتے ہیں۔ اس شکل میں اس کا مطلب جائز یا ناجائز تبدیلی لانے یا خیانت کرنے کا ہے۔
آپ دونوں احباب نے فقیر پر تصرف کرنے کا الزام دھرا ہے۔



میں نے درحقیقت اس لفظ کو مناسب استعمال کے معنوں میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اگر دوسرے معانی مراد ہوتے تو "قافیے کا تصرف" کی بجائے "قافیے پر تصرف" یا "قافیے میں تصرف" کہا جاتا۔


