ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی

زرقا مفتی — اپریل 22، 2008 7:38 صبح
اہلِ بزم
تسلیمات
ایک تازہ غزل پیش کر رہی ہوں آپ کی آرا کا انتظار رہے گا
والسلام
زرقا
ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی
کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں
سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی
ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
تری وفا میں ادائے ستم گری پائی
نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو
کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی
بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی
خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے
حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی
حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر
ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی
نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی
چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
الف عین — اپریل 22، 2008 8:47 صبح
غزل یوں تو بہت اچھی ہے زرقا۔ لیکن مجھ سے یہی متوقع ہوتا ہے کہ میں خامہوں کی نشان دہی کروں۔ اور میں یوں بھی لگی لپٹی نہیں رکھتا کہ کوئی تخلیق اگر میری نظر سے گزر جانے کے بعد میرے مشوروں سے مزید بہتر ہو جائے تو سب کو خوشی ہی ہوگی۔ مجھے تو اور بھی زیادہ۔۔
مطلع میں ایطاء ہے۔ اگر ردیف وہی ہوتی کہ سارے اشعار کے قوافی ہوتے: بندگی، دل لگی، یعنی آخر میں ’گی‘ تو درست تھا۔ لیکن ابھی بقیہ قوافی میں محض ’ی‘ مشترک ہے۔ اس قاعدے سے مطلع میں ’گی‘ کا استعمال غلط ہے۔ مرے خیال میں پہلےمصرعے میں زندگی کی جگہ کوئی دوسرا لفظ لایا جا سکتا ہے، نغمگی‘ کا لفظ دوسرے مصرعے میں نا قابلِ علیحدگی ہے۔ جیسے
ترے سخن نے کہاں سے یہ سرخوشی پائی۔ محض مثال کے طور پر۔ سر خوشی معنوں کے لحاظ سے فٹ نہیں‌ہوتا۔
آخری دو اشعار میں بھی اسقام ہیں:
نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
اماں ملی نہ کہیں، نہ ہی آشتی پائی
’نہ ہی‘ میں تقطیع ’نا ہی‘ ہو رہی ہے جسے کچھ لوگ جائز سمجھتے ہیں، مجھے پسند نہیں۔ اور اگر جائز مانا بھی جائے تو املا ’نا‘ ہوگی، ’نہ‘ نہیں۔
یوں کہیں تو:
اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی
یا
اماں ملی ہی کہیں اور نہ آشتی پائی
چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ ہم نے اس دفعہ
بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
پہلے مصرعے میں دفعہ‘ بطور فعلن آ رہا ہے۔ حالاں کہ اس میں ’ع‘ نہ بولی جاتی ہے نہ تقطیع کی جاتی ہے۔ اسے "دفا‘ ہی باندھا جاتا ہے۔
اس کو محض اس طرح کرنے سے سقم دور ہو جاتا ہے:
چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
درمیانی اشعار بہت خوب ہیں زرقا۔ بطور خاص گلاب لہجے اور حریف جذبے کی ترکیبیں بہت پسند آئیں۔ یہ دونوں اشعار بھی زبردست ہیں۔
زرقا مفتی — اپریل 22، 2008 8:59 صبح
اعجاز صاحب
آپ کے تبصرے کے لئے بے حد ممنون ہوں
آپ بے لاگ تبصرہ کرتے ہیں اس سے ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے
ورنہ رسمی واہ واہ سے سخن میں بہتری کے امکانات معدوم ہو جاتےہیں
پہلے شعر کی کوئی متبادل صورت سوچتی ہوں
آخری دو اشعار کے لئے آپ ک درج ذیل تجاویز پسند آئیں
اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی
چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
اس لئے غزل میں قطع برید کر رہی ہوں
والسلام
زرقا
ابن سعید — اپریل 22، 2008 9:05 صبح
بہت خوبصورت کلام ہے اپیا۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے :)
زھرا علوی — اپریل 22، 2008 9:06 صبح
بہت بہت اچھی لگی مجھے یہ غزل۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔:)
دعا گو۔۔۔۔
زہرا علوی
زرقا مفتی — اپریل 22، 2008 3:17 شام
بہت خوبصورت کلام ہے اپیا۔
ڈھیروں داد قبول فرمائیے :)
شکریہ بھائی صاحب
سیدہ شگفتہ — اپریل 22، 2008 4:33 شام
السلام علیکم زرقا
اتنا عمدہ کلام کیا آپ نے !
محمد وارث — اپریل 22، 2008 6:25 شام
بہت اچھی غزل ہے آپ کی زرقا مفتی صاحبہ
الف عین — اپریل 22، 2008 6:26 شام
میں شکریہ ادا نہیں کرتا۔۔ تبدیل شدہ غزل کا حسن خود گواہی دے گا۔
ایم اے راجا — اپریل 22، 2008 6:53 شام
بہت اچھی غزل ہے، اور اصلاح کی تعریف کے لیئے تو الفاظ ہی نہیں، زرقا صاحبہ مبار اور داد قبول ہو۔
زرقا مفتی — اپریل 23، 2008 4:02 صبح
بہت بہت اچھی لگی مجھے یہ غزل۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔:)
دعا گو۔۔۔۔
زہرا علوی

شکریہ زہرا
خوش رہئے
والسلام
زرقا
زرقا مفتی — اپریل 23، 2008 4:04 صبح
السلام علیکم زرقا
اتنا عمدہ کلام کیا آپ نے !

شگفتہ جی
السلام علیکم
غزل پڑھنے اور پسند کرنے کے لئے شکریہ
خوش رہئے
والسلام
زرقا
فرخ منظور — اپریل 23، 2008 10:21 صبح
بہت اچھی غزل ہے زرقا مفتی صاحبہ-
یونس رضا — اپریل 23، 2008 10:42 صبح
غزل خوبصورت ہے اور اعجاز صاحب کی رائے بھی حسین ہے ۔۔۔ جاری رکھئے
سیفی — اپریل 23، 2008 11:30 صبح
بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی
[/size][/center]

مجھے عموما نئے شعرا کا کلام اس لئے اچھا نہیں لگتا کہ اس میں اچھوتے خیال کی بجائے صرف مصرعہ سازی ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ شعر مجھے بہت ہی اچھا لگا ہے۔ جو اپن اندر ایک پورا مضمون سموئے ہوئے ہے۔
یونس رضا — اپریل 23، 2008 3:51 شام
ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
دلکش مصرع ہے ۔۔۔۔ اور واقعی دلکش ہے ۔۔۔۔
زرقا مفتی — اپریل 23، 2008 7:22 شام
بہت اچھی غزل ہے آپ کی زرقا مفتی صاحبہ
شکریہ وارث صاحب
زرقا مفتی — اپریل 23، 2008 7:27 شام
میں شکریہ ادا نہیں کرتا۔۔ تبدیل شدہ غزل کا حسن خود گواہی دے گا۔
اعجاز صاحب
شکریہ تو آپ کا بار بار ادا کرنا چاہیئے
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے
آمین
خالو خلیفہ — اپریل 28، 2008 9:00 صبح
بہت عمدہ کلام ہے زرقا جی ۔۔بلکہ دلکش۔۔
ًًمیں تو بس یہی کہونگا کہ ۔۔
تیرے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی ؟
زرقا مفتی — اپریل 28، 2008 11:53 صبح
بہت اچھی غزل ہے زرقا مفتی صاحبہ-

شکریہ سخنور صاحب
والسلام
زرقا
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D9%84%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C.11811/