تعمیرِ وطن کا خواب

الف نظامی — مارچ 30، 2014 3:41 شام
میرے لوگو! کبھی نومید نہ ہونا
مصائب کی شبِ تاریک سے اک دن
کبھی تو صبحِ نو کا،آس کا سورج نکلنا ہے
کبھی تو وقت کی بےرحم موجوں کا
ہمیں دھارا بدلنا ہے
عینی مروت — ستمبر 10، 2014 11:24 صبح
قرۃالعین اعوان نے جن خیالات کا اظہار کیا ، عینی !وہی میرے بھی ہیں۔۔۔مبارک باد
خووووب ۔۔آپکے خیالات کی قدر کرتی ہوں جاسمن :)
عینی مروت — ستمبر 10، 2014 11:25 صبح
بہت خوب :)
اپنے محسوسات کوآپ نے بہت اچھے طریقے سے قلمبند کیا
اللہ کرے زور قلم زیادہ
پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ
سلامت رہیں
عینی مروت — ستمبر 10، 2014 11:35 صبح
فضاؤں میں ابھی بھی ان پرستارانِ حر کے نعرۂ تکبیر
کی تاثیر باقی ہے
مگر اک خواب جو دیکھا کئی بے چین آنکھوں نے
وہی تعبیر ادھوری ہے
اسی تعبیر کی تکمیل باقی ہے!۔
ان مصرعوں کو دیکھو۔
اگر یوں ہو تو بہتر ہو گا نا!!
فضاؤں میں ابھی بھی ان پرستارانِ حر کے نعرۂ تکبیر
کی تاثیر باقی ہے
مگر اک خواب جو دیکھا کئی بے چین آنکھوں نے
وہی تعبیر باقی ہے
(۔۔بلکہ یہاں بھی غلطی ہے، وہی کا استعمال غلط ہے، خواب اور تعبیر ہم معنی نہیں۔ اس مصرع کو یوں کہو تو
اسی اک خواب کی تعبیر باقی ہے)
اسی تعبیر کی تکمیل باقی ہے!۔
اسی اک خواب کی تعبیر ادھوری ہے
اسی تعبیر کی تکمیل باقی ہے
استادم! یہاں مراد یہ تھی کہ دیکھا گیا وہ خواب پورا ضرور ہوا اور تعبیرملی آزادی کی صورت میں ، لیکن
وطن عزیز کے موجودہ دگرگوں حالات بتا رہے ہیں کہ ابھی وہ تعبیر مکمل نہیں ہوئی اسلیے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا باقی ہے
لیکن اگریوں ہو تو ۔۔۔۔۔۔؟
اسی اک خواب کی تعبیر کی تکمیل باقی ہے!!
عینی مروت — ستمبر 10، 2014 11:42 صبح
آپ کے احساسات کی قدر کرتے ہوئے
آپ کی نظم کی پسندیدگی کے ساتھ
ذرا شوخ سے کمنٹس کر دئے تھے،
لیکن اقبال ایسے صاحب بصیرت شاعر بھی تضادات کا شکار تھے، خواب دیکھنے سے پہلے ان ہی کے چند مصرعے لکھ رہا ہوں
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پہرہن اس کا ہے وہ مزہب کا کفن ہے
پھر فرماتے ہیں، کیا خوب نظم ہے افسوس مجھے پوری یاد نہیں
رہ بحر میں آزاد ِ وطن صورت ماہی
ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت پر گواہی
وغیرہ وغیرہ
وطن سے محبت تو سنت ہے
اس لئے گمان نہ کیجئے گا کہ مجھے اپنے ملک سے محبت نہیں
ہمارے خاندان کا ذاتی طور پر آزادی کی تحریک میں حصہ ہے
میرے دادا نے ریشمی رومال تحریک میں حصہ لیا اور تحریک ناکام ہونے پر سختیوں کا سامنہ بھی کیا، ہم سب تاریخ کو اتنا ہی جانتے ہے، جتنا ہمیں نصاب میں پڑھایا جاتا ہے،
اس لئے میں کہتا ہوں نصاب سے ہٹ کر سوچئے

آپکے احساسات اور خاندان کی قربانیاں بہرحال قابل قدر ہیں ۔۔ اقبال کےاس تصورسے پہلے کے خیالات اپنی جگہ، شروع میں محمد علی جناح بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی اتحادکے حامی تھے مگربعد کے حالات نے ان پر عیاں کر دیا کہ یہ ناممکن سی بات تھی
نصاب سے ہٹ کر مطالعہ ایک اچھا مشورہ ہے لیکن افراتفری اور انتشار کے اس دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے متعلق نوجوان نسل کا ذہن مزید الجھانے کے بجائےانکے دل میں اس سرزمین سے غیر مشروط محبت جگائی جائے۔
عینی مروت — ستمبر 10، 2014 11:44 صبح
میرے لوگو! کبھی نومید نہ ہونا
مصائب کی شبِ تاریک سے اک دن
کبھی تو صبحِ نو کا،آس کا سورج نکلنا ہے
کبھی تو وقت کی بےرحم موجوں کا
ہمیں دھارا بدلنا ہے

:)
محمداحمد — ستمبر 15، 2014 11:32 صبح
میرے لوگو! کبھی نومید نہ ہونا
مصائب کی شبِ تاریک سے اک دن
کبھی تو صبحِ نو کا،آس کا سورج نکلنا ہے
کبھی تو وقت کی بےرحم موجوں کا
ہمیں دھارا بدلنا ہے
تبھی تعمیرِ ملک و قوم کے اس خواب کو۔۔۔
تعبیر کا اعزاز ملنا ہے!۔

ماشاءاللہ ۔۔۔! اتنی اچھی نظم اور ہم نے دیکھی تک نہیں۔
ارفع افکار اور حسنِ ادائیگی پر بہت سی داد قبول کیجے۔
عینی مروت — ستمبر 24، 2014 9:02 صبح
میرے لوگو! کبھی نومید نہ ہونا
مصائب کی شبِ تاریک سے اک دن
کبھی تو صبحِ نو کا،آس کا سورج نکلنا ہے
کبھی تو وقت کی بےرحم موجوں کا
ہمیں دھارا بدلنا ہے
تبھی تعمیرِ ملک و قوم کے اس خواب کو۔۔۔
تعبیر کا اعزاز ملنا ہے!۔

ماشاءاللہ ۔۔۔! اتنی اچھی نظم اور ہم نے دیکھی تک نہیں۔
ارفع افکار اور حسنِ ادائیگی پر بہت سی داد قبول کیجے۔
نئی پوسٹس کی وجہ سے لڑی نظر سے اوجھل ہو گئی ہوگی
بہت نوازش نظم سراہنے کے لیے :)
ابن رضا — ستمبر 24، 2014 9:20 صبح
بہت عمدہ نظم پیش کرنے پر مبارک باد۔
شرمندۂ تعبیرہو پھر خوابِ اخوت
اُجڑے ہوئے گلشن میں نئے پھول کھلا دو
عینی مروت — ستمبر 25، 2014 11:13 صبح
بہت عمدہ نظم پیش کرنے پر مبارک باد۔
شرمندۂ تعبیرہو پھر خوابِ اخوت
اُجڑے ہوئے گلشن میں نئے پھول کھلا دو

بہت ممنون ہوں جناب۔۔۔سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D9%88%D8%B7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8.72970/page-2