کرو بیٹھے مجھے کچھ عجیب لگا۔
محمدظہیر ایسا کہنا تو بہت پرانا روز مرہ ہے اور فصیح اردو ہے ۔ آپ کو یہ بندش ذرا عجیب اس لئے لگ رہی ہے کہ اس میں شعری ضرورت کی خاطر لفظی ترتیب بدل گئی ہے ۔ اصل محاورہ یوں ہے : تم بیٹھے غزلیں پڑھا کرو ، تم بیٹھے مکھیاں مارا کرو ۔ وغیرہ


میرا خیال ہے کہ کچھ فرق اب ہندوستان اور پاکستان کے اردو محاورے میں پیدا ہو گئے ہیں۔
سید عاطف علی ،
ظہیراحمدظہیر اور
الف عین صاحبان خاص اس بندش کی بابت اپنی رائے ظاہر کریں تو بہت اچھا ہو گا۔
راحیل بھائی ، یہ آپ نےبالکل درست کہا ۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ فرق پیدا ہونا تو زبان کے فطری ارتقا کا ایک حصہ ہے ۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں تقسیمِ ہند کے بعد مختلف علاقائی اور ثقافتی پس منظر کے لوگوں کا جو اجتماع ہوا ہےاس نے بہت سارے نئے الفاظ اور روزمرہ کو جنم دیا ہے ۔ ( مثلا ہاڑا ہوڑی ، پنگا ، دو نمبری ، چار سو بیسی ، آسرا کرانا ، لفٹ نہ کرانا وغیرہ ) ۔ نیز بہت سے پرانے الفاظ اب کچھ نئے معنی بھی اختیار کرچکے ہیں ۔ یہ سب نئے الفاظ اور معانی ہماری ثقافتی اور لسانی تاریخ کا حصہ ہیں اور انہیں محفوظ کرنا اہلِ قلم کی ذمہ داری ہے ۔ اخبارات ، عوامی رسائل اور انٹر نیٹ پر تو یہ الفاظ اب عام دکھائی دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی باقاعدہ لغت نویسی میرے خیال میں ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح پنجاب میں وسیع پیمانے پر اردو ادب تخلیق ہورہا ہے ۔ اردو الفاظ کے کچھ نئے استعمال اور ڈھنگ وجود میں آئے ہیں ۔ کئی عام الفاظ مستند اردو محاورے اور اسلوب سے ہٹ کر نئے انداز میں استعمال ہونے لگے ہیں ۔ اردو پر اہلِ پنجاب اور پنجابی کے لسانی اثرات تو میری رائے میں تحقیق کا ایک مستقل مضمون ہے ۔ اور پھر سب سے بڑھ کر ایک بات یہ کہ جدید اردو شاعری نے انگریزی کا اثر قبول کرتے ہوئے اردو الفاظ کو بالکل تجریدی انداز میں استعمال کرنے کا جو تجربہ کیا ہے وہ اب بہت عام ہوتا جارہا ہے ۔ نئے شعرا میں مقبول ہے ۔ اب روح میں تاریکی جم سکتی ہے ، اُبل سکتی ہے اور روشنی آنکھوں میں بیٹھ سکتی ہے ۔ بلکہ زیادہ تھکی ہوئی ہو تو لیٹ بھی سکتی ہے ۔

راحیل بھا ئی یہ ایک بہت اہم اور دلچسپ موضوع چھیڑدیا ہے آپ نے ۔ اگر مین اس گفتگو کو آگے بڑھاؤں تو یہ کہوں گا کہ جس طرح کسی لفظ کی لغت میں عدم موجودگی اس کے غلط ہونے پر دلالت نہیں کرتی ( ہزاروں تراکیب ایسی ہیں جو کسی اردو لغت کا حصہ نہیں لیکن اس کے باوجود شعر و ادب میں استعمال ہوئی ہیں) اسی طرح کسی لفظ کی لغت میں موجودگی اس بات کی دلیل نہیں کہ اب وہ لفظ بلا روک ٹوک شعر و ادب کا حصہ بھی بنادیا جائے ۔ شعری و ادبی زبان کے مروجہ مذاق اور اقدار کی پاسداری بھی ضروری ہے ۔ لغت تو ایک طرح سے بولی جانے والی زبان کا تحریری ریکارڈ ہوتا ہے ۔ اس میں ادبی اور عوامی تمام الفاظ محفوظ کرلئے جاتے ہیں ۔ جو جو لفظ کسی زبان کے بولنے والے بولتے ہیں وہ لغت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اس میں تو گالیاں بھی ہوتی ہیں ۔ ایسے عامیانہ الفاظ جو پڑھنا تو درکنار کوئی سننا بھی پسند نہیں کرتا وہ لغت میں جلی حروف میں لکھے ہوتے ہیں ۔ آفرین ہے اُن علماءپر جو یہ غلاظت اتنے صاف ستھرے طریقے سے لغات کی شکل میں ہم تک پہنچا گئے ہیں ۔ یقین جانئے فیروزاللغات کے بعض اندراجات دیکھ کر تو شبہ ہوتاہے کہ یہ کام اکیلے مولوی فیروزالدین صاحب کا نہیں بلکہ کاتب صاحبان نے بھی اس میں حسبِ توفیق و طبع اپنی اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے ۔



تفنن برطرف ، مدعا یہ ہے کہ لغت دراصل زبان کا تحریری ریکارڈ ہوتا ہے ۔ لیکن مروجہ اردو لغات میں کسی بھی لفظ کے ذیل میں عموما اس کی اصل ، تجنیس و تعدید اور تلفظ سے زیادہ معلومات نہیں دی جاتیں ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ لفظ کا تاریخی پس منظر ، اس کے علاقائی تغیرات اور مختلف تلفظات کے بارے میں بھی کچھ لکھا ہو ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان بدلتے ہوئے حالات میں اس طرح کی اردو لغت نویسی کی بہت شدید ضرورت ہے ۔ چونکہ مختلف علاقائی اثرات نے سب سے زیادہ اردو تلفظ کو متاثر کیا ہے اس لئے اس بات کی تو اشد ضرورت ہے کہ معیاری اردو تلفظ کو صوتی لغت کی شکل میں بھی محفوظ کیا جائے ۔ کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کاغذی کتب کےمستقبل کو دیکھتے ہوئے صوتی لغت میری رائے مین وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ دیکھئے اب یہ سہرا کس کے سر بندھتا ہے ۔