حضور، پسندیدگی کا نہایت شکریہ۔ شعرِ مذکور کی شانِ نزول میری جانِ فضول ہی ہے۔ میں درحقیقت خود کو ایک نہایت شریف آدمی جانتا ہوں اور اہلِ زمانہ کی رائے کو قطعاً درخورِاعتنا نہیں سمجھتا۔ اس زمانے کے ایک اور شعر سے شاید آپ کو میری کیفیات کا اندازہ ہو جائے:
جس کا حق دار میں بھی تھا شاید
میں نے دنیا کو وہ محبت دی !!!
تفنن بر طرف، اب الحمدللہ زمانہ بدل گیا ہے۔جب یہ غزل لکھی تھی تب میں عاشقِ نامراد ہوا کرتا تھا۔ اب شوہرِ نامدار ہوں۔ آج کی کیفیات بھی دیکھ لیجیے گا!
