تیرا کوئی حُکم صادر چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔غزل

ش زاد — دسمبر 3، 2008 9:34 شام
تیرا کوئی حُُکم صادِر چاہتا ہوں
میں اُُبھرنا خاک سے پِھر چاہتا ہوں
آ گِرائیں پِھر جو کنکر ہاتھیوں پر
نیل دریا سے ! وہ طائِر چاہتا ہوں
میرے مستقبِل کو ماضی میں بدل دے
اس قدر بس دورِ حاضِر چاہتا ہوں
کوئی دھڑکن کی زمیں میں شعر لکھے
کوئی دل جیسا ہو شاعِر چاہتا ہوں
ابتدائے حرفِ اوّل ہو چکی ہے
انتہائے حرفِ آخِر چاہتا ہوں
ش زاد
ابن سعید — دسمبر 4، 2008 4:54 صبح
بہت خوب برادرم!
میں نے سوچا کہ کچھ اشعار کوٹ کروں کہ یہ بہت عمدہ ہے اور غزل کی جان ہے۔ پر مکمل غزل ہی زد میں آ گئی اس لئے یہ ارادہ ترک کر دیا۔
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:01 صبح
بہت خوب برادرم!
میں نے سوچا کہ کچھ اشعار کوٹ کروں کہ یہ بہت عمدہ ہے اور غزل کی جان ہے۔ پر مکمل غزل ہی زد میں آ گئی اس لئے یہ ارادہ ترک کر دیا۔

آداب عرض ہے
بہت نوازش سعید بھائی
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:09 صبح
وارث بھائی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟/:(:(:(
الف نظامی — دسمبر 4، 2008 8:29 صبح
بہت خوب!!!
ش زاد ازراہ کرم اس شعر کی تشریح کردیں۔
ابتدائے حرفِ اوّل کی گھڑی ہے
انتہائے حرفِ آخِر چاہتا ہوں
مغزل — دسمبر 4، 2008 8:39 صبح
واہ واہ ۔۔۔ سبحان اللہ
بہت خوب شہزادے بھائی۔
کیا اچھا کلا م ہے ۔واہ ۔
جیتےرہو ۔
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:51 صبح
بہت خوب!!!
ش زاد ازراہ کرم اس شعر کی تشریح کردیں۔
نظامی بھائی بہت بہت شکریہ آپ نے میری توجہ اس طرف مبذول کروائی
میں نے شعر میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے
میرا خیال ہے کہ اب مفہوم واضع ہو گیا ہو گا وہ شعر نہیں ہو تا جس کی تشریح خود شاعر کو کرنی پڑے
اگر ابھی بھی مفہوم واضع نہیں تو بتایئے میں اس شعر کو ہی حزف کیئے دیتا ہوں
شکریہ
مخلص ش زاد
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:54 صبح
واہ واہ ۔۔۔ سبحان اللہ
بہت خوب شہزادے بھائی۔
کیا اچھا کلا م ہے ۔واہ ۔
جیتےرہو ۔
شکریہ مغل بھئی مگرصرف داد سے کام نہیں چلے گا اس پر نقد و نظر فرمایئے
مخلص ش زاد
الف نظامی — دسمبر 4، 2008 8:55 صبح
نظامی بھائی بہت بہت شکریہ آپ نے میری توجہ اس طرف مبذول کروائی
میں نے شعر میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے
میرا خیال ہے کہ اب مفہوم واضع ہو گیا ہو گا وہ شعر نہیں ہو تا جس کی تشریح خود شاعر کو کرنی پڑے
اگر ابھی بھی مفہوم واضع نہیں تو بتایئے میں اس شعر کو ہی حزف کیئے دیتا ہوں
شکریہ
مخلص ش زاد
شکریہ ش زاد مفہوم واضح ہوگیا۔
اگر کسی کا ذہن کمزور ہو اور معانی تک دسترس کے واسطے پوچھ لے تو شاعر کو کرم فرمائی کرنی چاہیے۔:)
ش زاد — دسمبر 4، 2008 8:59 صبح
شکریہ ش زاد مفہوم واضح ہوگیا۔
اگر کسی کا ذہن کمزور ہو اور معانی تک دسترس کے واسطے پوچھ لے تو شاعر کو کرم فرمائی کرنی چاہیے۔:)
حضور آپ ناراض ہیں ہم نے تو آپ کے لیے شعر ہی بدل ڈالا
مجھے لگتا ہے ک مفہوم ابھی بھی واضع نہیں ہوا
کیوں کہ آپ کچھ ناراض سے لگتے ہیں مجھے؟؟؟
آپ سدا سلامت رہیں
شکریہ
الف نظامی — دسمبر 4، 2008 9:04 صبح
نہیں ش زاد ناراض بالکل نہیں بلکہ خوش ہوں کہ شعر سمجھ آگیا۔
ش زاد — دسمبر 4، 2008 9:09 صبح
نہیں ش زاد ناراض بالکل نہیں بلکہ خوش ہوں کہ شعر سمجھ آگیا۔
آللہ آپ کو ھمیشہ یوں ہی خوش رکھے آمین
محمد وارث — دسمبر 4، 2008 10:37 صبح
وارث بھائی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟/:(:(:(

ارے کیا ہوا محترم! بھئی معذرت خواہ ہوں کہ جلدی میں تھا اس لیے صبح فقط شکریہ ادا کر کے چلا گیا، اب ایسی غلطی نہیں کرونگا (شکریے والی نہیں بلکہ بغیر جواب کے شکریہ ادا کرنے والی) :)
بہت اچھی غزل ہے آپ کی، لا جواب۔ بہت داد قبول کیجیئے حضرت!
ش زاد — دسمبر 4، 2008 11:08 صبح
ارے کیا ہوا محترم! بھئی معذرت خواہ ہوں کہ جلدی میں تھا اس لیے صبح فقط شکریہ ادا کر کے چلا گیا، اب ایسی غلطی نہیں کرونگا (شکریے والی نہیں بلکہ بغیر جواب کے شکریہ ادا کرنے والی) :)
بہت اچھی غزل ہے آپ کی، لا جواب۔ بہت داد قبول کیجیئے حضرت!
:(:(:(:(:(:(
الف عین — دسمبر 4، 2008 5:20 شام
غزل کی تعریف تو کرنی ہوگی..لیکن وارث، مطلع کے قافیے کے بارے میں کیا خیال ہے. کچھ لوگ ’صادَر‘ بھی پڑھتے ہیں. درست کلیا ہے، اس وقت میرے پاس کوئی لغت بھی نہیں ہے.
ش زاد — دسمبر 5، 2008 12:01 صبح
غزل کی تعریف تو کرنی ہوگی..لیکن وارث، مطلع کے قافیے کے بارے میں کیا خیال ہے. کچھ لوگ ’صادَر‘ بھی پڑھتے ہیں. درست کلیا ہے، اس وقت میرے پاس کوئی لغت بھی نہیں ہے.
بہت بہت نوازش اعجاز صاحب جس قافیہ کا زکر آپ نے کیا ہے میں بھی دہکھتا ہوں اسے
بہت شکریہ اعجاذ صاحب آپ کی رائے میرے لیے بہت قیمتی ہوتی ہو ھمیشہ:)
محمد وارث — دسمبر 5، 2008 4:43 صبح
شکریہ اعجاز صاحب، میرے خیال میں 'صادِر' صحیح ہے، یہ ربط دیکھیئے! ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ 'صادَر' بھی صحیح ہو۔
ش زاد — دسمبر 5، 2008 7:12 صبح
شکریہ اعجاز صاحب، میرے خیال میں 'صادِر' صحیح ہے، یہ ربط دیکھیئے! ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ 'صادَر' بھی صحیح ہو۔
شکریہ وارث بھائی
مغزل — دسمبر 5، 2008 7:25 صبح
میں نے بھی تلاش کیا ہے مگر صادر بالفتح کوئی لفظ نہیں ۔ ہاں صاد سے صادور ۔ موجود ہے
والسلام
ش زاد — دسمبر 5، 2008 9:43 صبح
میں نے بھی تلاش کیا ہے مگر صادر بالفتح کوئی لفظ نہیں ۔ ہاں صاد سے صادور ۔ موجود ہے
والسلام
نوازش سرکار
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AD%D9%8F%DA%A9%D9%85-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D8%B1-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.17135/