حسرت ان مطلعوں پہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Maha Ali Khan — جنوری 31، 2018 7:27 صبح
کمال بے مثال واہ واہ
ظہیراحمدظہیر — جنوری 31، 2018 6:25 شام

کمال بے مثال واہ واہ

بہت شکریہ مس خان ! بہت نوازش! اللہ آپ کو خوش رکھے !
بزمِ سخن میں خوش آمدید!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 31، 2018 6:30 شام
ماشاء اللہ۔ مکمل غزل نہیں تو کم از کم ایک ایک شعر کا اضافہ اور کر دیں اور ہندوستانی مشاعروں میں آ جائیں۔ یہاں ’ایک مطلع اور ایک شعر‘ یا’ چار مصرعے‘ والے شعراء بہت ہیں!!!
بہت شکریہ اعجاز بھائی ! آپ نے بہت ہی درست تبصرہ کیا ہے مشاعروں کی صورتحال پر ۔
ان میں سے اکثر اشعار تو نہ معلوم کتنے پرانے ہیں اور کب اور کس کیفیت میں کہے گئے ۔ ان پر طبع آزمائی اب کارِ دشوار ہی لگتا ہے ۔ شعر گوئی تو اب تقریباً بقدرِ اشکِ بلبل رہ گئی ہے ۔ یہ سب چیزیں پرانے کاغذوں سے برآمد ہوتی رہتی ہیں ۔
احمد محمد — نومبر 8، 2020 7:49 صبح
اشعارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران یہ چند مطلع برآمد ہوئے ہیں جو کسی غزل کا سرنامہ نہ بن سکے ۔ یہ ٹوٹے پھوٹے اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔ شاید ایک آدھ آپ کو پسند آجائے ۔ :):):)

اک بات کہہ رہے ہیں شاعر سبھی غزل کے
اک شعر ہورہا ہے مصرعے بدل بدل کے
××××
مجھ کو شریکِ غم بنا ، اپنا شریکِ حال رکھ
اتنا بھی خود غرض نہ بن ، کچھ تو مرا خیال رکھ
××××
توفیقِ دعا دے تو اثر ساتھ میں دینا
دربازیِ بخشش کی خبر ساتھ میں دینا
××××
ہر تہمتِ غرور و تکبر سے پاک ہیں
ہم اہلِ انکسار کے قدموں کی خاک ہیں
××××
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے
×××××
اک شخص جو گزرا ہوا قصہ ہے زندگی کا
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
×××××
کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
×××××
بولوں تو ساری دنیا اُسے جان جائے گی
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
×××××
مال و متاع ِ درد میں سمجھو نہ کم ہمیں
میراث میں ملے ہیں یہ نسلوں کے غم ہمیں
×××××
ہم سے بڑھ کر تو کو ئی خاک میں کھویا بھی نہ تھا
پھر بھی وہ کاٹ رہے ہیں کہ جو بویا بھی نہ تھا
×××××
رستے طویل ہو گئے یا گھٹ گیا ہے دن
اب تک سفر نہیں کٹا اور کٹ گیا ہے دن
××××
میں کہیں ، یاد کہیں ، خواب کہیں ہے میرا
جو نظر آتا ہے میرا ،وہ نہیں ہے میرا
×××××
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
چراغِ راہ ضمانت نہیں اجالے کی
××××
کبھی آنکھوں سے کوئی خواب بچھڑ جاتا ہے
صبح کی آس میں مہتاب بچھڑ جاتا ہے
×××××
اب کوئی در ، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
ویسے ممکن تو نہیں پھر بھی میں کر دیکھوں گا
××××
شب سرائے میں پہنچ کر مجھے رخصت دے گا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا
××××
ہر سفر اب مجھے ہجرت کا سفر لگتا ہے
گھر کو جاتے ہوئے رستے سے بھی ڈر لگتا ہے
××××
اب تو یہ فیصلہ ہوجائے کدھر جانا ہے
ابھی رستوں میں بھٹکنا ہے کہ گھر جانا ہے
غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مرجانا ہے
××××
سنا ہے پھر سے محبت کے ا متحاں ہونگے
جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہونگے
××××
تہماری زلف کے سائے میں چاند رات کریں
ہماری عید یہی ہے کہ تم سے بات کریں
تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ
گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
××××
گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
×××××
دل جہاں کھویا ، وہیں پندارِ غم بھی کھودیا
برسوں بعد اُس سے ملا تو مل کے میں بھی رودیا
××××
تلاشِ ذات کی منزل تو اک ٹھکانہ ہے
سفر کے بعد مجھے لوٹ کر بھی آنا ہے
واہ واہ واہ۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ شاد و آباد رہیں۔ اور بہت شکریہ عنایت فرمانے پر۔
ظہیر بھائی! میں تو کہتا ہوں آپ کو مکمل غزل لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہر شعر خود میں ایک جامع بیان ہے۔
الشفاء — نومبر 8، 2020 7:53 صبح
واہ واہ ظہیر بھائی۔ بہت خوب مطلع ہیں،
اور کیا بات ہے کہ!
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
چراغِ راہ ضمانت نہیں اجالے کی
فاخر رضا — نومبر 8، 2020 8:40 صبح
بہت اعلیٰ معیار ہے سر
خدا آپ کو سلامت رکھے
طارق سعید — نومبر 8، 2020 8:44 صبح
اشعارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران یہ چند مطلع برآمد ہوئے ہیں جو کسی غزل کا سرنامہ نہ بن سکے ۔ یہ ٹوٹے پھوٹے اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔ شاید ایک آدھ آپ کو پسند آجائے ۔ :):):)

اک بات کہہ رہے ہیں شاعر سبھی غزل کے
اک شعر ہورہا ہے مصرعے بدل بدل کے
××××
مجھ کو شریکِ غم بنا ، اپنا شریکِ حال رکھ
اتنا بھی خود غرض نہ بن ، کچھ تو مرا خیال رکھ
××××
توفیقِ دعا دے تو اثر ساتھ میں دینا
دربازیِ بخشش کی خبر ساتھ میں دینا
××××
ہر تہمتِ غرور و تکبر سے پاک ہیں
ہم اہلِ انکسار کے قدموں کی خاک ہیں
××××
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے
×××××
اک شخص جو گزرا ہوا قصہ ہے زندگی کا
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
×××××
کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
×××××
بولوں تو ساری دنیا اُسے جان جائے گی
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
×××××
مال و متاع ِ درد میں سمجھو نہ کم ہمیں
میراث میں ملے ہیں یہ نسلوں کے غم ہمیں
×××××
ہم سے بڑھ کر تو کو ئی خاک میں کھویا بھی نہ تھا
پھر بھی وہ کاٹ رہے ہیں کہ جو بویا بھی نہ تھا
×××××
رستے طویل ہو گئے یا گھٹ گیا ہے دن
اب تک سفر نہیں کٹا اور کٹ گیا ہے دن
××××
میں کہیں ، یاد کہیں ، خواب کہیں ہے میرا
جو نظر آتا ہے میرا ،وہ نہیں ہے میرا
×××××
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
چراغِ راہ ضمانت نہیں اجالے کی
××××
کبھی آنکھوں سے کوئی خواب بچھڑ جاتا ہے
صبح کی آس میں مہتاب بچھڑ جاتا ہے
×××××
اب کوئی در ، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
ویسے ممکن تو نہیں پھر بھی میں کر دیکھوں گا
××××
شب سرائے میں پہنچ کر مجھے رخصت دے گا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا
××××
ہر سفر اب مجھے ہجرت کا سفر لگتا ہے
گھر کو جاتے ہوئے رستے سے بھی ڈر لگتا ہے
××××
اب تو یہ فیصلہ ہوجائے کدھر جانا ہے
ابھی رستوں میں بھٹکنا ہے کہ گھر جانا ہے
غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مرجانا ہے
××××
سنا ہے پھر سے محبت کے ا متحاں ہونگے
جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہونگے
××××
تہماری زلف کے سائے میں چاند رات کریں
ہماری عید یہی ہے کہ تم سے بات کریں
تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ
گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
××××
گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
×××××
دل جہاں کھویا ، وہیں پندارِ غم بھی کھودیا
برسوں بعد اُس سے ملا تو مل کے میں بھی رودیا
××××
تلاشِ ذات کی منزل تو اک ٹھکانہ ہے
سفر کے بعد مجھے لوٹ کر بھی آنا ہے
اکثر مطلعے اتنے اچھے ہیں کہ پوری غزل کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔صرف چکھائیں نہیں، ہمیں سیر ہونا ہے
بابا-جی — نومبر 8، 2020 9:00 صبح
شاعِر ہو تو ایسا ہو، یا پھِر نہ ہو۔
سحر کائنات — نومبر 8، 2020 4:11 شام
کمال کے اشعار
جاسمن — نومبر 8، 2020 4:45 شام
زبردست اشعار۔
ایک شعر اپنی مکمل حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں تو ایسے بھی اچھے لگ رہے ہیں۔:)
جاسمن — نومبر 8، 2020 4:46 شام
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے
یہ تو ابن انشاء کی شاعری جیسا لگ رہا ہے۔
مقبول — نومبر 8، 2020 5:14 شام
اشعارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران یہ چند مطلع برآمد ہوئے ہیں جو کسی غزل کا سرنامہ نہ بن سکے ۔ یہ ٹوٹے پھوٹے اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔ شاید ایک آدھ آپ کو پسند آجائے ۔ :):):)

اک بات کہہ رہے ہیں شاعر سبھی غزل کے
اک شعر ہورہا ہے مصرعے بدل بدل کے
××××
مجھ کو شریکِ غم بنا ، اپنا شریکِ حال رکھ
اتنا بھی خود غرض نہ بن ، کچھ تو مرا خیال رکھ
××××
توفیقِ دعا دے تو اثر ساتھ میں دینا
دربازیِ بخشش کی خبر ساتھ میں دینا
××××
ہر تہمتِ غرور و تکبر سے پاک ہیں
ہم اہلِ انکسار کے قدموں کی خاک ہیں
××××
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے
×××××
اک شخص جو گزرا ہوا قصہ ہے زندگی کا
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
×××××
کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
×××××
بولوں تو ساری دنیا اُسے جان جائے گی
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
×××××
مال و متاع ِ درد میں سمجھو نہ کم ہمیں
میراث میں ملے ہیں یہ نسلوں کے غم ہمیں
×××××
ہم سے بڑھ کر تو کو ئی خاک میں کھویا بھی نہ تھا
پھر بھی وہ کاٹ رہے ہیں کہ جو بویا بھی نہ تھا
×××××
رستے طویل ہو گئے یا گھٹ گیا ہے دن
اب تک سفر نہیں کٹا اور کٹ گیا ہے دن
××××
میں کہیں ، یاد کہیں ، خواب کہیں ہے میرا
جو نظر آتا ہے میرا ،وہ نہیں ہے میرا
×××××
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
چراغِ راہ ضمانت نہیں اجالے کی
××××
کبھی آنکھوں سے کوئی خواب بچھڑ جاتا ہے
صبح کی آس میں مہتاب بچھڑ جاتا ہے
×××××
اب کوئی در ، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
ویسے ممکن تو نہیں پھر بھی میں کر دیکھوں گا
××××
شب سرائے میں پہنچ کر مجھے رخصت دے گا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا
××××
ہر سفر اب مجھے ہجرت کا سفر لگتا ہے
گھر کو جاتے ہوئے رستے سے بھی ڈر لگتا ہے
××××
اب تو یہ فیصلہ ہوجائے کدھر جانا ہے
ابھی رستوں میں بھٹکنا ہے کہ گھر جانا ہے
غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مرجانا ہے
××××
سنا ہے پھر سے محبت کے ا متحاں ہونگے
جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہونگے
××××
تہماری زلف کے سائے میں چاند رات کریں
ہماری عید یہی ہے کہ تم سے بات کریں
تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ
گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
××××
گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
×××××
دل جہاں کھویا ، وہیں پندارِ غم بھی کھودیا
برسوں بعد اُس سے ملا تو مل کے میں بھی رودیا
××××
تلاشِ ذات کی منزل تو اک ٹھکانہ ہے
سفر کے بعد مجھے لوٹ کر بھی آنا ہے
ایک سے بڑھ کر ایک۔ بہت داد
ظہیراحمدظہیر — نومبر 10، 2020 10:04 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ شاد و آباد رہیں۔ اور بہت شکریہ عنایت فرمانے پر۔
ظہیر بھائی! میں تو کہتا ہوں آپ کو مکمل غزل لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہر شعر خود میں ایک جامع بیان ہے۔
بہت شکریہ احمد محمد بھائی ! نوازش!
واہ واہ ظہیر بھائی۔ بہت خوب مطلع ہیں،
اور کیا بات ہے کہ!
آداب، آداب! بہت شکریہ بھائی ۔ بہت دنوں بعد آپ سے مخاطبت کا شرف حاصل ہورہا ہے ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے ۔
بہت اعلیٰ معیار ہے سر
خدا آپ کو سلامت رکھے
بہت شکریہ فاخر بھائی ۔ خوبصورتی تو دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے ۔
اکثر مطلعے اتنے اچھے ہیں کہ پوری غزل کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔صرف چکھائیں نہیں، ہمیں سیر ہونا ہے
بہت شکریہ ، بڑی نوازش! افسوس یہ مطلع غزل نہ بن پائے ۔ ایک آدھ اشعار ہوئے لیکن پھر نہ وہ کیفیت رہی اور نہ وہ فضا ۔ سو ان مطالع کو اسی طرح مفرد ابیات کی شکل میں رہنے دیا ۔
شاعِر ہو تو ایسا ہو، یا پھِر نہ ہو۔
پہلی والی بات سے تو نہیں البتہ نہ ہونے والی بات سے ایک سوایک فیصد متفق ہوں ۔ :):):)
نہیں تو ، بخدا میرے اپنے ہیں ۔ :):):)
اظہارِ تحسین کے لئے ممنون ہوں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
زبردست اشعار۔
ایک شعر اپنی مکمل حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں تو ایسے بھی اچھے لگ رہے ہیں۔:)
بہت شکریہ خواہرم ! آپ تو ہمیشہ ہی قدر افزائی کرتی ہیں ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ، شاد و آباد رکھے! آمین
یہ تو ابن انشاء کی شاعری جیسا لگ رہا ہے۔
ابن انشاء کو نو عمری میں بہت پڑھا ۔ لاشعوری طور پر کہیں نہ کہیں رنگ جھلک جاتا ہے ۔ ایک دور میں ابنِ انشاء کے ہم عصر جمیل الدین عالی کی طرز پر دوہے بھی لکھے تھے ۔ اس میں دوہے کا رنگ بھی نمایاں ہے ۔
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
تار بھی کیسا انہونا جو ساگر کے اُس پار بندھا ہے
ایک سے بڑھ کر ایک۔ بہت داد
بہت بہت شکریہ مقبول بھائی ! اللہ آپ کو خوش رکھے!
عاطف ملک — نومبر 11، 2020 1:43 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔۔۔۔۔۔ہر مطلع کی الگ الگ داد بنتی ہے۔
ماشااللہ
پہلی والی بات سے تو نہیں البتہ نہ ہونے والی بات سے ایک سوایک فیصد متفق ہوں
ہم بھی اس دوسری والی بات سے متفق ہیں۔۔۔۔
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
قرۃالعین اعوان — نومبر 11، 2020 3:01 شام
کیا کہنے!
خوب اشعار ہیں ظہیر بھیا!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 14، 2020 5:27 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی۔۔۔۔۔۔ہر مطلع کی الگ الگ داد بنتی ہے۔
ماشااللہ
بہت بہت شکریہ عاطف بھائی ! بہت ممنون ہوں قدر افزائی پر ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 14، 2020 5:29 صبح
کیا کہنے!
خوب اشعار ہیں ظہیر بھیا!
بہت شکریہ خواہرم ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
آپ کے دستخط میں جو شعر درج ہے وہ بہت اچھا ہے ۔ یہ کس کا شعر ہے؟
نیرنگ خیال — نومبر 14، 2020 5:36 صبح
ہر سفر اب مجھے ہجرت کا سفر لگتا ہے
گھر کو جاتے ہوئے رستے سے بھی ڈر لگتا ہے
واہ۔۔۔۔
اب تو یہ فیصلہ ہوجائے کدھر جانا ہے
ابھی رستوں میں بھٹکنا ہے کہ گھر جانا ہے
کیا بات ہے۔۔۔
تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ
گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
ہائے۔۔۔ کمال کر دیا۔۔۔
گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
واہ واہ۔۔۔
کیا بات ہے ظہیر بھائی۔ ایک سے ایک ہے۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ بہت ہی خوبصورت
قرۃالعین اعوان — نومبر 15، 2020 11:11 صبح
بہت شکریہ خواہرم ! بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے!
آپ کے دستخط میں جو شعر درج ہے وہ بہت اچھا ہے ۔ یہ کس کا شعر ہے؟
یہ شعر ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمہ اللہ کا ہے، ان کے مجموعہ کلام صہبائے سخن کو پڑھتے ہوئے منتخب کیا تھا۔
آپ کو پسند آیا، خوشی ہوئی۔
محمداحمد — جنوری 23، 2021 11:49 صبح
بہت ہی خوب ظہیر بھائی!
یہ پوسٹ میں نے سر سری دیکھی تھی لیکن پھر تبصرہ نہیں کر پایا۔
آج پھر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک سے ایک مطلع اور غزل کے طلو ع ہونے کے انتظار میں ہے۔
بہت سی داد قبول کیجے۔ :)
نظر میں روشنی رکھنا کسی حوالے کی
چراغِ راہ ضمانت نہیں اجالے کی

کمال!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%B3%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9%D9%88%DA%BA-%D9%BE%DB%81-%DB%81%DB%92-%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94-%DB%94.99522/page-2