فاتح — اپریل 19، 2014 1:30 شام
سپیچ لیس۔۔۔ لا جواب
بقول اعجاز صاحب
تو تو ہم بوڑھوں سے بازی لے ’گیا‘
صائمہ شاہ — اپریل 19، 2014 1:54 شام
ناعمہ
اچھی نظم ہے آپ تو شاعرہ بنتی جا رہی ہیں
ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 3:01 شام
بہت ہی عمدہ مُنی بہنا۔ خیالات اور الفاظ کی ادائیگی دونوں ہی لاجواب۔
پسندیدگی کا شکریہ بھیا

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 3:01 شام
لاجواب!!!!
جیتی رہو ناعمہ
شکریہ

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 3:04 شام
سپیچ لیس۔۔۔ لا جواب
بقول اعجاز صاحب
یعنی آپ نے بھی خود کو بوڑھوں میں شمار کر ڈالا ؟

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 3:18 شام
ناعمہ
اچھی نظم ہے آپ تو شاعرہ بنتی جا رہی ہیں
کبھی کبھی مجھے بھی شک ہوتا ہے ، لیکن ہمیشہ نہیں ہوتا
خیر آپ نے کہا ہے تو شاید ایسا ہی ہو

سید ذیشان — اپریل 19، 2014 3:39 شام
بہت عمدہ نظم!
ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 3:45 شام
بہت شکریہ

اوشو — اپریل 19، 2014 3:53 شام
عمدہ !

متلاشی — اپریل 19، 2014 4:21 شام
بہت خوب ۔۔۔۔
اللہ کرے زورَ قلم اور زیادہ
ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 5:18 شام
عمدہ !
بہت خوب ۔۔۔ ۔
اللہ کرے زورَ قلم اور زیادہ
بہت شکریہ

عائشہ عزیز — اپریل 19، 2014 5:21 شام
بجا کہا ہے !

ساقی۔ — اپریل 19، 2014 5:26 شام
واہ۔ بہت خوب ۔لاجواب۔
مگر اسی ایک راہ پر ہی
وفاؤں کے کچھ امین بھی ہیں
جو خضرِ منزل بنے کشادہ دل و نگہ سے
رواں دواں ہیں پکارتے ہیں
جو راستے کے لُٹے مسافر کو
آسرا دے کے کہہ رہے ہیں
کہ ہم ہیں سیلِ وفا کی صورت
تو مہرباں ہیں خدا کی صورت
جو دل کے اندر ترے غموں کو
سمیٹ لیں گے خدا کی صورت
ازل سے لے کر ابد تلک جو
زمین اور آسماں کے اندر
محبتوں کی جو صورتیں ہیں
خدا بھی ان میں ہی دِکھ رہا ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے
ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 5:44 شام
بجا کہا ہے !
مان لیا نا

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 5:45 شام
واہ۔ بہت خوب ۔لاجواب۔
مگر اسی ایک راہ پر ہی
وفاؤں کے کچھ امین بھی ہیں
جو خضرِ منزل بنے کشادہ دل و نگہ سے
رواں دواں ہیں پکارتے ہیں
جو راستے کے لُٹے مسافر کو
آسرا دے کے کہہ رہے ہیں
کہ ہم ہیں سیلِ وفا کی صورت
تو مہرباں ہیں خدا کی صورت
جو دل کے اندر ترے غموں کو
سمیٹ لیں گے خدا کی صورت
ازل سے لے کر ابد تلک جو
زمین اور آسماں کے اندر
محبتوں کی جو صورتیں ہیں
خدا بھی ان میں ہی دِکھ رہا ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے
پسند کرنے لئے ممنون ہوں

فاتح — اپریل 19، 2014 5:46 شام
یعنی آپ نے بھی خود کو بوڑھوں میں شمار کر ڈالا ؟
یہیں محفل پر ہی کہیں
سعود بھائی نے لکھا تھا کہ ہم تو پیدا ہی بوڑھے ہوئے تھے۔۔۔ سو ہم بھی ان کا جملہ چرا کر لکھ دیتے ہیں۔

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 5:48 شام
یہیں محفل پر ہی کہیں
سعود بھائی نے لکھا تھا کہ ہم تو پیدا ہی بوڑھے ہوئے تھے۔۔۔ سو ہم بھی ان کا جملہ چرا کر لکھ دیتے ہیں۔
آہاں
آپ کہتے ہیں تو مانے لیتے ہیں ، استاد کی بات کیسے غلط ہو سکتی ہے بھلا

عائشہ عزیز — اپریل 19، 2014 6:02 شام
مان لیا نا

ناعمہ عزیز — اپریل 19، 2014 6:18 شام
جاسمن — اپریل 19، 2014 7:14 شام
واہ ناعمہ! اِتنا خوبصورت خیال اِتنے حسین الفاظ میں،حسین ترین انداز میں۔۔۔واہ!
بہت ساری داد۔
مگر اسی ایک راہ پر ہی
وفاؤں کے کچھ امین بھی ہیں
جو خضرِ منزل بنے کشادہ دل و نگہ سے
رواں دواں ہیں پکارتے ہیں
جو راستے کے لُٹے مسافر کو
آسرا دے کے کہہ رہے ہیں
کہ ہم ہیں سیلِ وفا کی صورت
تو مہرباں ہیں خدا کی صورت
جو دل کے اندر ترے غموں کو
سمیٹ لیں گے خدا کی صورت
ازل سے لے کر ابد تلک جو
زمین اور آسماں کے اندر
محبتوں کی جو صورتیں ہیں
خدا بھی ان میں ہی دِکھ رہا ہے
خدا زمیں سے نہیں گیا ہے
خدا تمہارا بھی آسرا ہے
خدا ہمارا بھی آسرا ہے