دل میں شوقِ سفر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔غزل

ش زاد — اکتوبر 13، 2010 3:54 شام
آپ پر بھی سلامتی ہو
عمران شناور — اکتوبر 18، 2010 8:58 صبح
بہت عمدہ۔ نہایت خوبصورت اشعار ہیں۔ بہت شکریہ
ایس فصیح ربانی — اکتوبر 18، 2010 5:05 شام
ش زاد صاحب!
بہت خوب، بہت اچھی،بھرپور غزل ھے
بہت سی داد قبول کیجیے
ایم اے راجا — اکتوبر 21، 2010 4:30 شام
بہت خوب ش زاد صاحب
مغزل — نومبر 16، 2010 6:40 صبح
زندہ رہنے پہ ہی ملیں گے میاں
اپنے اپ کو تو کہہ ھی سکتے ہیں حضرت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معتبر
اور بندے کو حاضر ہی رکھیئےاور ملاقات کی بابت بتلایئے؟؟؟
شیخ یونس — مئی 25، 2016 3:32 شام
ذوق سلامت رکھے اللہ تعالٰی آپکے
محمد تابش صدیقی — مئی 25، 2016 3:51 شام
دل میں شوقِ سفر نہیں ہوتا !
تو فلک سے گُزر نہیں ہوتا !
ہر صدا دل سے تو نِکلتی ہے
اُس پہ پھِر کیوں اثر نہیں ہوتا؟
دل کی خواہش کہ کوئی دستک دے
دل کے آنگن میں در نہیں ہوتا
ہر کسی سے نہ میرا پوچھا کر
ہر کوئی با خبر نہیں ہوتا
پیار کے راستے پہ ساتھ چلو
مجھ سے تنہا سفر نہیں ہوتا
جو زمانے میں بانٹ دے خُود کو
اُس کو چوری کا ڈر نہیں ہوتا
یہ جو اپنی خُودی کو بیچتے ہیں
ان کے شانوں پہ سر نہیں ہوتا

ش زاد
واہ، بہت عمدہ۔
ایک ایک شعر لا جواب۔
عباد اللہ — مئی 25، 2016 3:59 شام
واہ واہ بہترین غزل ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D9%88%D9%82%D9%90-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.16052/page-2