جی ۔ بالکل ریحان میاں ! صرف اسی طریقے سے رجز میں فعل کا فروع لانا ممکن ہے ۔ اور جو طریقہ آپ نے استعمال کیا ہے وہ اجتہادی ہے ۔ اور ایسے ہی اجتہاد کی بات میں اوپر راحیل بھائی کے ساتھ کر آیا ہوں ۔ رمل میں تو مخبون محذوف کی لامحدود مثالیں ہیں اور فعِلن کو فاعلاتن کے فروعات میں مستند درجہ حاصل ہے ۔ لیکن اردو اور فارسی عروض میں رجز مخبون احذ کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی ہے ۔ عروض کی کوئی کتاب یہ نہیں کہتی کہ رجز مثمن سالم کے آخری رکن پر خبن اور پھر حذذ لگا کر فعل حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ مستفعلن کے جتنے فروعات عروضی کتابوں میں درج ملتے ہیں ان میں فعل شامل ہی نہیں ہے ۔ اس لئے رجز میں مخبون محذوذ صرف اجتہاد کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے ۔
درست فرما رہے ہیں، بھائی۔
اصل میں آپ کی وقت کی قلت والی بات سے بدک گیا ورنہ آپ سے گفتگو کا مزا تو آتا ہے۔ اگر آپ تھوڑا تھوڑا وقت نکال کر اسی طرح بات جاری رکھ سکیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔
اس کا وزن مستفعلن مستفعلن مستفعلن فعل ہے ۔
اگر اس کا وزن مستفعلن مستفعلن فعلن مفاعلن ہوتا (جیسا کہ یہ مفروضہ ریحان نے بھی اوپر لکھا ہے) تو اسے مخبون احذ نہیں بلکہ احذ مخبون (یا محذوذمخبون) کہا جا سکتا تھا ۔ لیکن یہ مفروضہ وزن بحر رجز میں ممکن ہی نہیں ہے ۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ حذذ کا زحاف صرف عروض اور ضرب ہی میں ممکن ہے ۔ حشو میں نہیں لگ سکتا ۔
تین باتیں پوچھنے کے لائق ہیں، بھائی۔
اول، جس وزن کو آپ نے احذ مخبون یا محذوذ مخبون قرار دیا ہے وہ محلِ نظر ہے۔ اگر عروض و ضرب میں مفاعلن آ رہا ہو تو بحر آخری رکن یعنی مستفعلن کی سین گر جانے کے بعد (مُتَفعَلُن مبدل بہ مفاعلن) رجز مخبون ہو گی۔ احذ مخبون کیسے ہو سکتی ہے؟ حذذ کا عمل تو وتدِ مجموع کے گرا دینے کا ہے۔ مگر وتد بدستور (علن کی صورت) میں موجود ہے۔
دوم، جو بحر ریحان نے استخراج کی ہے اس میں (مستفعلن مستفعلن مستفعلن فَعَل = رجز مخبون احذ) میں حذذ کا عمل عروض و ضرب ہی میں تو ہوا ہے۔ فَعَل حشوین میں نہیں بلکہ رکنِ رابع کی صورت میں موجود ہے۔ پھر آپ اسے کیوں ناجائز سمجھتے ہیں؟
سوم، بحر کی تسمیہ میں زحافات کے ناموں کا مقام یعنی تقدیم و تاخیر کا معاملہ کیا معنیٰ رکھتا ہے؟ مخبون احذ اور احذ مخبون میں کیا فرق ہے؟ یہ سوال میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں ہی کیا، ریحان میاں بھی اس معاملے میں متذبذب رہے ہیں۔ ہم دونوں ایک بار عروض کے تسمیہ (nomenclature) کے اسی نکتے کو نہ سمجھنے کے باعث دلبرداشتہ ہو کر کسی نئے نظام کی تلاش میں بھی نکل کھڑے ہونے کو تھے۔ ریحان نے حیاتیاتی تسمیہ کے طرز پر کام کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ وہ تو سستی کے باعث بچت ہو گئی ورنہ اب تک کوئی نیا گل کھلا چکے ہوتے!
اگر رجز مثمن کے عروض و ضرب میں وتد مجموع (فعل) کو جائز ثابت کرنے کے لئے کوئی نیا زحاف بھی ایجاد کرنا پڑے یا کسی موجودہ زحاف کو رجز میں قابلِ استعمال قرار دیا جانا پڑے تو اس میں کیا حرج ہے؟! عروض تو شاعری کی توضیح کرنے کے لیے ایجاد ہوا ہے ۔
صد فی صد متفق۔
کیا وجہ ہے کہ میر کی ہندی بحر اب تک مروجہ اردو عروض کے لئے ایک معمہ بنی ہوئی ہے ؟
سچی سچی بات بتاؤں؟
میرا ارادہ تھا کہ ایک تحقیقی مقالہ لکھ کر اس مسئلے کو انجام تک پہنچایا جائے۔ میں نے عروض کا سنجیدہ مطالعہ کچھ ہی عرصہ پہلے شروع کیا ہے۔ کچھ دن موسیقاروں کا مغز کھانے، کچھ پڑھنے اور کچھ غور کرنے کے بعد میرا خیال ہے کہ میں اس گرہ کو کھول چکا ہوں۔
ہندی بھی اسی لیے سیکھنی چاہی تھی مگر اس سے پہلے کہ شاگردوں کی تابِ
شکیب آزمائی جاتی، خود استاد موصوف چمپت ہو گئے۔ خیر، زبانِ ہندی تو ہماری بلا سے گئی ہندوستان، بحرِ ہندی پر دلائل و براہین کو مقالے کے چھپنے تک اٹھا رکھتے ہیں۔
راحیل بھائی اپنے پچھلے مراسلے میں وقت کی قلت کے باعث تقطیع حقیقی اور غیر حقیقی کی بابت آپ کے استفسار کا جواب نہیں دے سکا تھا ۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ بات رجز کی بحث سے بالکل الگ ہٹ کر تھی سو میں خلط مبحث سے بھی بچنا چاہتا تھا ۔ اب چاہتا ہوں کہ اس بارے میں اپنا موقف بیان کردوں ۔ بھائی میں تو کبھی غیر حقیقی تقطیع کا قائل ہی نہیں رہا ۔ تقطیع تو عروض کے مروجہ طریق پر ہی ہوگی ۔ اس مستند طریقے سے ہٹ کر تقطیع کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے ۔ رباعی والی گفتگو میں میں نے غیر حقیقی تقطیع کو ماننے کی بات سرے سے کی ہی نہیں کی تھی ۔ صرف یہ عرض کیا تھا کہ رباعی کے اتنے سارے اوزان کو یاد رکھنے کے لئے اگر کوئی شخص ایسا فارمولا بنالیتا ہے کہ جو اسے آسان لگتا ہو اور یاد رکھنے میں ممد و معاون ہو تو اس میں کیا حرج ہے ۔ جیسے سائنسی علوم میں اکثر لوگ کسی فہرست یا ترتیب کو یاد رکھنے کے لئے کوئی mnemonic بنالیتے ہیں ۔ جب کسی رباعی کو پرکھاجائے گا تو اس کی تقطیع تو اسی معروف عروضی طریقے سے رباعی کےانہی معروف اوزان پر ہوگی ۔ فارمولے والا وزن تو شاعر لوگ صرف اپنی یاد داشت کے لئے بناتے ہیں ۔ جیسے اکثر مبتدیوں کو وزن سمجھانے کے لئے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن کے بجائے دم دما دم ۔دم دمادم ۔ دم دمادم۔دم دما یا ٹک ٹکا ٹک۔ ٹک ٹکا ٹک وغیرہ سے سمجھایا جاتا ہے ۔
درست۔
راحیل بھئی میری حقیر رائے میں علم عروض کے دو بنیادی اغراض و مقاصد ہیں ۔ نمبر ایک: شعر کے وزن کو افاعیل کے پیمانوں سے ناپ کر بیان کرنا ۔ نمبر دو : اوزان کا استخراج ، درجہ بندی اور جائز و ناجائز کے اصول متعین کرنا ۔ عروض کی اصل ضرورت اور اہمیت اس دوسرے والے کام کے لئے ہے ۔ پہلا کام یعنی شعر کے وزن کو کسی پیمانے کی رو سے بیان کرنا تو اور بھی کئی طریقوں سے انجام دیا جاسکتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ عربی افاعیل کے پیمانے ہی استعمال کئے جائیں ۔ دم دمادم کی مثال میں اوپر لکھ چکا ۔ اب بہت سارے لوگ وزن کو اعداد کی مدد سے بھی بیان کرتے ہیں ۔ ڈیش اور ڈبل ڈیش کا طریقہ بھی وزن کو ظاہر کرسکتا ہے ۔ میں نے لوگوں کو وزن سمجھانے کے لئے تصویری طریقہ بھی استعمال کیا ہے ۔ سبب کو ایک دائرے اور وتد کو ایک تکون کی مدد سے ظاہر کیا ۔ اس طرح سے کاغذ پر ان اشکال کی جولڑی بنتی ہے وہ کسی مصرع میں اسباب و اوتاد کے ترتیبی نقشے کو بہت آسانی سے ذہن نشین کرادیتی ہے ۔ چنانچہ وزن کو بیان کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ مسئلہ تو اوزان کےا ستخراج اور ان کے اختلاط کا ہے ۔ اور یہیں آکر اس مین وہ اجتہاد کا عنصر بھی شاملِ بحث ہوتا ہے کہ جس کی بات مین نے پچھلے مراسلے میں کی تھی ۔ مختصرا یہ کہ شعر کے وزن کو صحیح صحیح شناخت کرنے اور اس کی درست بحر متعین کرنے سے ہی جائز و ناجائز کا پتہ چل سکتا ہے ۔
بجا۔
اصل میں سید قدرت نقوی صاحب کی ایک بات بڑی دیر سے میری سمجھ میں آئی مگر جب آئی تو حضرتِ داغؔ کی طرح بیٹھ ہی گئی۔ موصوف نے فرمایا تھا کہ عروض اور دیگر نظام ہائے آہنگ کا بنیادی فرق یہ ہے کہ عروض اطلاقی اور انطباقی ہے جبکہ پنگل اور پراسڈی (prosody) وغیرہ محض نظری اور وجدانی پیمانے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو، اور تاریخی حوالوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ، خلیل بصری رحمۃ اللہ علیہ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ موصوف نے افاعیل کی صورت میں ہمیں ٹھوس، ریاضیاتی اور تقریباً ماورائے خطا ترازو مہیا کر دیے ہیں۔ دیگر معروف نظام ہائے آہنگ میں وجدان اور موزونئِ طبع پر انحصار کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ مگر افاعیل کو مستحضر کر کے چھ سال کا بے سرا بچہ بھی موزوں کلمات لکھنے پر قادر ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عروض کی یہی اطلاقی اور انطباقی خوبی ایسی ہے جس کا فائدہ اٹھا کر اہلِ اردو عروض ڈاٹ کام جیسی ویب سائٹ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ورنہ کہاں کمپیوٹر اور کہاں اوزانِ شعر؟
پھر سونے پہ سہاگا یہ کہ خلیل نے افاعیل کو آزاد نہیں رہنے دیا کہ کوئی بھی حسبِ آہنگ ان کی صورت طے کر لے بلکہ بحور اور زحافات کی گراریوں کا ایک پورا نظام قائم کر دیا تاکہ ضرورت بھی کسی قاعدے سے پوری ہو۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ علومِ اسلامیہ کی باقی بوقلمونیاں تو ایک طرف رہیں، عروض پر اگر غور کیا جائے تو یہ علم تنہا ہی مسلمانوں کی جدتِ طبع، اصول پسندی اور سلامت روی کو ثابت کرنے کو کافی ہے۔
جہاں تک جائز و ناجائز کے اصولوں کے تعین کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عروض کو بہت سی اصلاح (reformation) کی ضرورت ہے۔ اہلِ عرب کے لیے تو یہ کافی ہے کہ تشکیل انھی کی خاطر پایا تھا۔ مگر ہمارے ہاں اس کا اطلاق بعض جگہوں پر ٹھیک نہیں ہو پاتا۔ اس سلسلے میں کام کی ضرورت ہے مگر میری پرزور سفارش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو یہ کام عربی عروض کے نظامِ کار (framework) کی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیں عربی عروض کے بنیادی سانچے سے دور جانے کی قطعاً ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم سے پہلے ایرانی یہ کام بطریقِ احسن کر چکے ہیں۔ ازروئے فطرت نقاش پر لازم ہے کہ نقشِ ثانی اول سے بہتر ہو!