یاسر بھائی ، جواب کا شکریہ ! بھائی ، اِس سے قبل کہ میں کچھ اور عرض کروں ، ایک وعدہ کیجئے کہ آئندہ مجھے بزرگوں میں شمار نہیں کرینگے . مجھے اپنی امیج کی فکر نہیں ،

مقامِ بُزُرْگی کا پاس ہے ، جس كے لائق میں قطعی نہیں ہوں . اور رہا سیکھنے کا امر تو وہ تو میرے لیے ہمیشہ جاری رہتا ہے اور انشا اللہ رہیگا ، خواه ذریعہ کوئی بھی ہو .
جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء -علوی بھائی آپ کی باتیں دل کو بھاتی ہیں -میں آپ کو بزرگوں میں نہیں بلکہ ایک بے تکلف بڑے بھائی کی طرح سمجھوں گا،یوں ان شاء اللہ گفت و شنید سے سیکھنے سکھانے کا سلسلہ چل نکلے گا-
یاسر بھائی ، میں اِخْتِصار کی کوشش میں اکثر اپنی بات واضح نہیں کر پاتا . مجھے ’دو لفظی‘ كے وجود پر شک نہیں تھا . لیکن مسئلہ وہی تھا جو ظہیر بھائی نے فرمایا ہے . آپ نے ’ دو لفظی‘ کو بغیر موصوف كے بطور فاعل استعمال کیا ہے ، اور یہ مجھے عجیب لگا .
آپ کا نکتہ بالکل واضح ہے اور ڈھنگ سے ادا ہوا ہے کہ غلط قرار دے کر "court is adjourned" نہیں کہا گیا بلکہ یوں کہہ کر کہ
صحیح معنوں میں اس شعر کا پاس کیا گیا ہے
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے "نکتہ چینوں"کو
"نکتہ چینوں" اس لیے کہا کہ میرا دل آبگینہ تو ہے نہیں بلکہ سرتاپا نکتہ چین ہوں اور اوروں کی نکتہ چینی کے لیے ہر دم تیّار رہتا ہوں ،ایسے میں کوئی میری بھی رعایت کر لے تو اضافی شکریے کا حقدار ہوا -
اب آتے ہیں بحث(کہ جو بری چیز نہیں ) کی طرف یعنی آپ کا مدّعا بالکلیہ وہی ہے جو ظہیر صاحب دامت برکاتہم کا ہے کہ دو لفظی ہی نہیں "دو حرفی" صفت بھی بغیر موصوف کے استعمال نہیں ہو سکتی -
دو لفظی کو بطور اسم استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صفت ہے اور تجنیس سے ماورا ہے۔ اس کے بعد کسی موصوف کا آنا ضروری ہے مثلاً دو لفظی جواب ، دو لفظی بیان ، دو لفظی تحریر وغیرہ۔ بالکل انہی معنوں میں دو حرفی اور دو سطری کے الفاظ بھی مستعمل ہیں اور یہ دونوں بھی صفت ہیں ، اسم نہیں ہیں۔ ان الفاظ کے بعد بھی کسی موصوف کا آنا ضروری ہے ۔
یعنی دلیل سے اگر" دو حرفی" کااستعمال بغیر موصوف ثابت ہو گیا تو "دو لفظی" کا بھی اس قبیل کا استعمال ثابت ہو جائے گا -
لغت کا حوالہ تو یہ رہا
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دو' کے بعد عربی زبان سے مشتق اسم 'حرف' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً ١٨٨٦ء سے "مخزن المحاورات" میں مستعمل ملتا ہے۔
urdulughat.info
اس حوالے کے آخر میں اردو میں "دو حرفی" کے استعمال کی مثال موصوف کے بغیر درج ہے :
١ - [ کنایتا ] شراب، دارو، مے۔
"آج تو دو حرفی پلواؤ۔" ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ٤٧٣ )
چنانچہ میرے شعر کو دیکھیے :
دو لفظی بھی ان کے ہاں کی ساری کتب پر بھاری ہے
جب سے پڑھا "وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر" صبر میں کیف سا طاری ہے
یہاں دو لفظی اشارہ ہے اس جزو آیت کی طرف جو دوسرے مصرع میں موجود ہے یعنی :"وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر"
اب ڈاکٹر اقبال مرحوم کا ایک فارسی شعر دیکھیے :
نہاں اندر دو حرفی سِرِّ کار است
مقامِ عشق منبر نیست ، دار است
یہاں دو حرفی کنایہ ہے "انا الحق " کی طرف اور بغیر موصوف کے مستعمل ہے -
واللہ اعلم بالصواب