ابن رضا — اپریل 27، 2016 11:00 صبح
محمد وارث — اپریل 27، 2016 11:13 صبح
کیا خوب کلام ہے محترم، لاجواب۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔
ابن رضا — اپریل 27، 2016 2:39 شام
کیا خوب کلام ہے محترم، لاجواب۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔
بہت ممنون ہوں سر۔ توجہ اور داد کے لیے بہت شکریہ. سلامت رہیے
الف عین — اپریل 27، 2016 3:36 شام
ماشاء اللہ اچھی حمد ہے۔
فاتح — اپریل 27، 2016 4:17 شام
واہ واہ کیا کہنے ۔ خوبصورت اشعار ہیں
عباد اللہ — اپریل 27، 2016 4:25 شام
وااہ وااہ بہت عمدہ
محمد امین صدیق — اپریل 27، 2016 5:13 شام
زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے
میں تغافل میں جو تھا، شوقِ لقا سے پہلے
میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک
تھام لیتا ہے اُسے لغزشِ پا سے پہلے
کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے
میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے
جب بھی گھیرا ہے مجھے گردشِ حالات نے، وہ
مُلتفت مجھ پہ ہُوا رنج و بلا سے پہلے
پیش کرتا ہوں جو اشکوں کا میں نذرانہ اُسے
بخش دیتا ہے مجھے آہ و بکا سے پہلے
اُس کے دربار میں پہنچا تو یہ احساس ہوا
میں شناسا ہی نہ تھا جُود و سخا سے، پہلے
لَوٹنا پڑتا نہ در در سے مجھے خالی ہاتھ
مانگ لیتا جو رضا اپنے خدا سے، پہلے
واہ ،ابن رضا بھائی ،کیا کہنے !
مابدولت نے جس مصرعے کو بھی لیکر داد دینی چاہی تو اگلے مصرعے کو زیادہ اثرانگیز پایا۔
ابن رضا — اپریل 27، 2016 5:52 شام
سر حوصلہ افزائی کے لیے بہت ممنون ہوں. سلامت رہیے
ابن رضا — اپریل 27، 2016 5:54 شام
واہ واہ کیا کہنے ۔ خوبصورت اشعار ہیں
آپ سے قد آور سخن ور و سخن شناس سے داد محنت وصولی کی سندہے. بہت نوازش. سلامت رہیے
ابن رضا — اپریل 27، 2016 5:54 شام
بہت شکریہ عباد اللہ. خوش رہیے
عباد اللہ — اپریل 27، 2016 5:56 شام
بہت شکریہ عباد اللہ. خوش رہیے
سلامت رہیں
ابن رضا — اپریل 27، 2016 5:57 شام
واہ ،ابن رضا بھائی ،کیا کہنے !
مابدولت نے جس مصرعے کو بھی لیکر داد دینی چاہی تو اگلے مصرعے کو زیادہ اثرانگیز پایا۔
آپ کی محبت اور حسنِ ظن کے لیے ممنون ہوں
محمد امین صدیق بھائی. خوش رہیے
سلمان دانش جی — اپریل 27، 2016 6:01 شام
واہ رضا صاحب ایک دم سندر ۔
اشعار اچھے ہیں لیکن مطلع کچھ ہلکا ہے ، دوسرے مصرع میں "جو تھا" کچھ جچ نہیں رہا
ابن رضا — اپریل 27، 2016 6:26 شام
واہ رضا صاحب ایک دم سندر ۔
اشعار اچھے ہیں لیکن مطلع کچھ ہلکا ہے ، دوسرے مصرع میں "جو تھا" کچھ جچ نہیں رہا
پسند آوری کے لیے ممنون ہوں
مطلعِ کے مصرع ثانی کی کمزوری کا اعلان میں گذشتہ ایک مراسلے میں کر چکا ہوں ابھی زیرِ غور ہے. مناسب پیش رفت پر تدوین کردی جائے گی. خوش رہیے
سعیدالرحمن سعید — اپریل 27، 2016 7:14 شام
بہت خوب رضا بھائی۔ آج کل فل فارم میں ہیں۔ اشعار کی آگ اگل رہے ہیں اور سخن کے پھول عطا کر رہے ہیں
سلمان دانش جی — اپریل 27، 2016 9:05 شام
واہ رضا صاحب۔ مصرع کمال نکھر گیا۔ اتفاق سے یہی ایک واحد "رہا " ہی بار بار میرے بھی ذہن میں گھوم رہا تھا۔
حمیرا عدنان — اپریل 27، 2016 9:35 شام
سبحان اللہ بہت خوب ابن رضا بھائی
اوشو — اپریل 28، 2016 3:24 صبح
سبحان اللہ
خوبصورت کلام جناب
ایک ایک شعر لاجواب
داد قبول فرمائیے محترم
شاد آباد رہیں
صفی حیدر — اپریل 28، 2016 4:03 صبح
لاجواب اشعار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — اپریل 28، 2016 6:23 صبح
سبحان اللہ ابن رضا بھائی !
کیا ہی خوبصورت کلام ہےا ور کیا لاجواب افکار ہیں۔
ہر ہر شعر اپنی مثال آپ ہے۔
اس خوبصورت کلام پر خاکسار کی جانب سے ڈھیروں داد اور مبارکباد!
اللہ اپنا لطف و کرم فرمائے آپ پر۔