محمد شکیل خورشید — مئی 26، 2021 9:25 شام
غم چھپانا چاہتا ہوں
گنگنانا چاہتا ہوں
کر چکا سیر و سیاحت
اب ٹھکانہ چاہتا ہوں
بھول کر فکریں جہاں کی
مسکرانا چاہتا ہوں
چھوڑ کر سارے بکھیڑے
بھاگ جانا چاہتا ہوں
راگ پہلی چاہتوں کا
پھر سے گانا چاہتا ہوں
جس میں وہ تھی ساتھ میرے
وہ زمانہ چاہتا ہوں
اک مکاں رکھا ہے جس کو
گھر بنانا چاہتا ہوں
ساز ہستی کی نئی اک
دھن سنانا چاہتا ہوں
سر جھکانے کو شکیل اک
آستانہ چاہتا ہوں
ایک نئی کاوش
محترم
الف عین
اور دیگر اساتذہ واحباب کی نذر
یاسر شاہ — مئی 27، 2021 2:54 صبح
السلام علیکم شکیل صاحب !
آپ نے اپنے لیے غزل میں خاصی مشکل پیدا کر دی ہے ۔ایک تو بحر مختصر پھر مصرع دو رکنی، ایک رکن ردیف کھا گئی۔ایسی قید و تنگی میں غزل کہنا بس سامنے کی باتیں موزوں کرنا ہے۔میری تو کم از کم یہی رائے ہے۔
"سیاحت" کی ی مشدد ہوتی ہے دیکھ لیجیے گا۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 27، 2021 4:43 صبح
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
فاخر رضا — مئی 27، 2021 5:19 صبح
غم چھپانا چاہتا ہوں
گنگنانا چاہتا ہوں
کر چکا سیر و سیاحت
اب ٹھکانہ چاہتا ہوں
بھول کر فکریں جہاں کی
مسکرانا چاہتا ہوں
چھوڑ کر سارے بکھیڑے
بھاگ جانا چاہتا ہوں
راگ پہلی چاہتوں کا
پھر سے گانا چاہتا ہوں
جس میں وہ تھی ساتھ میرے
وہ زمانہ چاہتا ہوں
اک مکاں رکھا ہے جس کو
گھر بنانا چاہتا ہوں
ساز ہستی کی نئی اک
دھن سنانا چاہتا ہوں
سر جھکانے کو شکیل اک
آستانہ چاہتا ہوں
ایک نئی کاوش
محترم
الف عین
اور دیگر اساتذہ واحباب کی نذر
زبردست
بہت اچھا لکھا ہے
امین شارق — مئی 27، 2021 5:34 صبح
غم چھپانا چاہتا ہوں
گنگنانا چاہتا ہوں
کر چکا سیر و سیاحت
اب ٹھکانہ چاہتا ہوں
بھول کر فکریں جہاں کی
مسکرانا چاہتا ہوں
چھوڑ کر سارے بکھیڑے
بھاگ جانا چاہتا ہوں
راگ پہلی چاہتوں کا
پھر سے گانا چاہتا ہوں
جس میں وہ تھی ساتھ میرے
وہ زمانہ چاہتا ہوں
اک مکاں رکھا ہے جس کو
گھر بنانا چاہتا ہوں
ساز ہستی کی نئی اک
دھن سنانا چاہتا ہوں
سر جھکانے کو شکیل اک
آستانہ چاہتا ہوں
ایک نئی کاوش
محترم
الف عین
اور دیگر اساتذہ واحباب کی نذر
اچھی کاوش ہے
آپ کی غزل سن کے
دل شاعرانہ چاہتا ہوں
محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:18 صبح
السلام علیکم شکیل صاحب !
آپ نے اپنے لیے غزل میں خاصی مشکل پیدا کر دی ہے ۔ایک تو بحر مختصر پھر مصرع دو رکنی، ایک رکن ردیف کھا گئی۔ایسی قید و تنگی میں غزل کہنا بس سامنے کی باتیں موزوں کرنا ہے۔میری تو کم از کم یہی رائے ہے۔
"سیاحت" کی ی مشدد ہوتی ہے دیکھ لیجیے گا۔
شکریہ یاسر بھائی!
شاعری کی تکنیکی باریکیوں کی باقاعدہ تعلیم نہ ہونے کے باعث کبھی بھی شعوری طور پر کوئی بحر منتخب کر کے شعر نہیں کہے، بس کچھ اشعار موزوں ہوجاتے ہیں تو پھر اسی پر باقی غزل پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں، یہ تو پچھلے چند سالوں میں عروض ڈاٹ کام سے استفادہ لینے کے بعد کچھ سمجھ آ جاتی ہے کہ کون سے شعر کس بحر میں ہیں۔
رہی بات سامنے کی باتیں موزوں کرنے کی تو تسلیم ہے، بس جو دلی کیفیت تھی، وہی کاغذ پر ( یا کہیئے کہ موبائل پر) اتر آئی، کوئی فلسفہ نہیں کہا۔
رہنمائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:18 صبح
محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:22 صبح
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
سر اس کند ذہن طالبِ علم کی رہنمائی فرمائیں ، اسے انتباہ سمجھوں یا سرزنش؟

محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:23 صبح
اچھی کاوش ہے
آپ کی غزل سن کے
دل شاعرانہ چاہتا ہوں
شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 27، 2021 6:26 صبح
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 27، 2021 6:26 صبح
سر اس کند ذہن طالبِ علم کی رہنمائی فرمائیں ، اسے انتباہ سمجھوں یا سرزنش؟
مذاق!
محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:36 صبح
شکریہ سر،
سرگوشی میں (شکر خدا کا ) بھی کہنا چاہتا ہوں لیکن سرگوشی کرنا نہیں آتی

(اس محفل میں)
محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 6:38 صبح
اگر اجازت ہو اور مناسب محسوس ہو تو کیا یوں کردوں
کر چکا صحرا نوردی
اب ٹھکانہ چاہتا ہوں
محمد عبدالرؤوف — مئی 27، 2021 6:43 صبح
سرگوشی میں (شکر خدا کا ) بھی کہنا چاہتا ہوں لیکن سرگوشی کرنا نہیں آتی

(اس محفل میں)
اچھی بات ہے کیونکہ سرگوشی کرنا آدابِ محفل کے خلاف ہے

محمد شکیل خورشید — مئی 27، 2021 7:24 صبح
اچھی بات ہے کیونکہ سرگوشی کرنا آدابِ محفل کے خلاف ہے
درست فرمایا سر
محمداحمد — مئی 27، 2021 7:40 صبح
اچھی بات ہے کیونکہ سرگوشی کرنا آدابِ محفل کے خلاف ہے
تاہم روایت بتاتی ہے کہ سرگوشی "آدابِ اردو محفل" کے خلاف نہیں ہے۔

محمد عبدالرؤوف — مئی 27، 2021 8:15 صبح
تاہم روایت بتاتی ہے کہ سرگوشی "آدابِ اردو محفل" کے خلاف نہیں ہے۔
یہاں پر تو صرف ادھوری سرگوشی ہی ہو سکتی ہے
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 27، 2021 8:16 صبح
تاہم روایت بتاتی ہے کہ سرگوشی "آدابِ اردو محفل" کے خلاف نہیں ہے۔
اردو ڈرامے میں بھی سرگوشی بآوازِ بلند ہی کی جاتی ہے۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 27، 2021 8:35 صبح
اچھی غزل ہے شکیل بھائی ۔۔۔ تاہم یاسر بھائی کا یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ اتنی مختصر بحر خود شاعر کے مشکلات پیدا کر دیتی ہے ۔۔۔ باقی میری ناچیز رائے میں سامنے کے مضامین تو کم و بیش سبھی کبھی نہ کبھی باندھتے ہیں ۔۔۔۔ روز مرہ و محاورہ کی بالاستیعاب رعایت رکھی جائے تو ایسا کلام برا نہیں لگتا۔
ویسے آپ ایک رکن کا اور اضافہ کر لیتے تو قتیلؔ شفائی کی زمین ہوجاتی ۔۔۔
ع۔ اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں ۔۔۔
محمداحمد — مئی 27، 2021 8:38 صبح
یہاں پر تو صرف ادھوری سرگوشی ہی ہو سکتی ہے
مکالمہ استعمال کیجے۔
