رانا — مئی 19، 2016 4:25 شام
ان دونوں مصرعوں میں عمل تسبیغ واقع ہو رہا ہے۔
اللہ رحم کرے۔۔۔آپ شاعروں میں کوئی تسہیل تسبیغ کا نسخہ وغیرہ نہیں ہوتا؟؟
(فراز) — مئی 19، 2016 6:12 شام
ابن رضا — مئی 19، 2016 7:10 شام
خوب غزل ہے جناب، لاجواب
نوشاب — مئی 19، 2016 7:17 شام
لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟
بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
اٹھ جائیں تو ہم اہلِ پندار کدھر جائیں؟
مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟
یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
لالے تو گئے صاحب! گلزار کدھر جائیں؟
اندھوں کو بتا دینا، باہر بھی اندھیرے ہیں
بے فائدہ کیا گھومیں؟ بے کار کدھر جائیں؟
کس اینٹ پہ سر پٹکیں؟ کس در پہ کریں گریہ؟
راحیل ؔ بتا، تیرے غم خوار کدھر جائیں؟
راحیلؔ فاروق
مشمولہ: زار
اس نظم میں شاعر کہنا کیا چاہتا ہے؟
اتنی مایوسی ،اتنی مایوسی آخر اتنی مایوسی کیوں؟؟
سید عاطف علی — مئی 19، 2016 7:42 شام
سعید بھائی ۔ گنگنانے والے تو بے بحری شاعری کو بھی بحری آہنگ دے لیتے ہیں ۔آپ اپنے موسیقائی مزاج کو ذرا شوکت علی صاحب کی طرح کھلا چھوڑ کر دیکھیں۔ مثلا ََ۔(یارب دل مسلم کو

۔۔۔) ۔
فاتح بھائی درست کہہ رہے ہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 20، 2016 10:53 شام
کیا بات ہے راحیل بھائی !! اتنے خوبصورت ، اتنے مترنم اور اتنے سارے سوالات ایک ساتھ!!!
کیا اچھی غزل ہے !! سلامت رہیں!
محمد فہد — مئی 22، 2016 7:06 شام
بہت خوبصورت اظہارِجذبات محبت ۔۔۔۔ماشااللہ۔۔
کاشف اسرار احمد — مئی 23، 2016 7:20 شام
ماشا اللہ۔
خوب غزل ہے راحیل بھائی۔
کیا کہنے !
عاطف ملک — اپریل 15، 2017 10:30 صبح
سروش — اپریل 15، 2017 10:40 صبح
لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟
کس اینٹ پہ سر پٹکیں؟ کس در پہ کریں گریہ؟
راحیل ؔ بتا، تیرے غم خوار کدھر جائیں؟
بہت اعلیٰ ۔ جناب کے انداز بیاں کا جواب نہیں ۔