احمد بھائی بات آپ کی بالکل درست ہے۔ شاعری کے لئے باقاعدہ عروض کا آنا ضروری ہے ہی نہیں۔ وزن اور ’’موسیقیت‘‘ تو شاعر کی طبیعت میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔( نذر حسین ناز صاحب بھی اپنی بات سے یہی ثابت کررہے ہیں ۔) خاص طور پر عروضی اصطلاحات اور باریک نکات کا جاننا تو کسی کے لئے بھی بالکل ضروری نہیں ہے۔ بس کام چلاؤ معلومات ہونی چاہئیں۔ ہاں کسی کو عروض کا شوق ہونا اور بات ہے اور اس مین کوئی ہرج بھی نہیں۔
بجا فرمایا آپ نے۔
احمد بھائی آپ کے سوال کے بارے میں مختصرًا عرض کرتا ہوں۔ اگر ذرا سا ادھر ادھر نکل جاؤں تو پیشگی معذرت ۔ چاہتا ہوں کہ اسی بہانے کچھ اور لوگوں کا بھی بھلا ہوجائے۔
آٹھ بنیادی افاعیل (ارکان) کے علاوہ تمام دیگر ارکان جو مختلف بحروں میں نظر آتے ہیں وہ انہی بنیادی افاعیل میں (زحافات اور علتوں کے ذریعے) ردوبدل کرکے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ مثلاً فعلن۔ اب یہ فعلن ان آٹھ بنیادی افاعیل میں سے ایک نہیں ہے لیکن اکثر بحور میں نظرآتا ہے۔ چنانچہ فعلن ایک زحاف یا مزاحف رکن ہے۔
تسکینِ اوسط کا قاعدہ یہ ہے کہ جب بحر میں کسی جگہ تین متواتر متحرک حروف آجائیں تو وسطی حرف کی حرکت ختم کرکے اسے ساکن بنادیا جاتا ہے ۔ یہ تین متواتر متحرک حروف ایک واحد رکن کے اندر بھی موجود ہوسکتے ہیں جیسے فعِلاتن میں ف، ع اور ل ۔ اور یہ تین حروف دو متصل ارکان کے درمیان بھی موجود ہوسکتے ہیں جیسے فعلُ فعولُ میں ل ، ف اور ع۔
تسکینِ اوسط کے استعمال کے بعد ارکان کی ہیئت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ یعنی فعِلاتن سے ’’فع۔لا۔تن‘‘ بن جائے گا۔ چونکہ فع۔لا۔تن عروضی طور پر معروف وزن نہیں ہے اس لئے آسانی کی خاطر اسے ایک ہموزن معروف رکن مفعولن سے بدل دیا جاتا ہے۔ نتیجتًا تسکین اوسط کے استعمال کے بعد فعِلاتن ایک مختلف وزن مفعولن میں تبدیل ہوگیا۔
اسی طرح فعلُ فعولُ فعولُ فعولُ ۔۔۔ ۔۔ میں تسکین اوسط کے بعد وزن فع۔لف ۔عو۔لف ۔عو۔لف۔عو۔لف حاصل ہوگا۔ چونکہ یہ عولف عولف غیر معروف ہیں اس لئے انہیں معروف ہموزن رکن فعلن سے بدل کر فعلن فعلن فعلن فعلن ۔۔۔۔۔ حاصل ہوگا۔
تسکین اوسط کے استعمال کی بھی کچھ شرائط ہیں۔ تفصیلات مین جائے بغیر:
۱۔تسکین اوسط کا قاعدہ تقریبًا ہر بحر میں استعمال ہوسکتا ہے۔
۲۔ تسکین اوسط ہر مصرع میں ایک یا ایک سے زیادہ ارکان پر حسبِ مرضی استعمال کیاسکتا ہےبشرطیکہ اس کے استعمال سے بنیادی بحر تبدیل نہ ہو۔
۳۔ میر کی ہندی بحر فعلُ فعول میں اس کا استعمال بہت ہی عام ہے اور اکثر پورے پورے مصرع فعلن فعلن کے وزن پر ہوتے ہین جیسا کہ ناز صاحب کی اس نظم میں ۔
بہت شکریہ کہ آپ نے اتنی تفصیل سے سمجھایا!
کچھ کچھ بات سمجھ آگئی، مزید دو چارد دفعہ پڑھنے پر اور سمجھ آ جائے گی۔
دراصل شاعری کے آہنگ جتنے دل آویز اور پُر کشش ہوتے ہیں۔ عروض کے لئے استعمال کی جانے والی اصطلاحات اتنی ہی خشک اور نامانوس ہوتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو عروض کی بنیاد عربی عروض پر ہے سو اصطلاحات بھی عربی ہیں۔ اور یہ بھی کہ تکنیکی باریکیاں بہرحال پیچیدہ اور گنجلک ہو ہی جاتی ہیں۔ تاہم ہم عروض سے خائف ہرگز نہیں ہیں اور جانتے ہیں کہ :
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی۔

احمد بھائی اگر مزید تفصیلات کی خواہش ہو توعروض کی کسی باقاعدہ کتاب سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے یا پھر حکم کیجئے تو میں کچھ اور وضاحت کی کوشش کرتا ہوں۔
یوں تو خاکسار نے عروض کی ایک دو کتابیں پڑھیں ہیں لیکن دو تین ہفتوں میں ہی ساری موٹی موٹی اصطلاحات ذہن کے پردے سے ایسے محو ہوجاتی ہیں کہ جیسے کبھی تھیں ہی نہیں۔ عروض سے بہت زیادہ الجھنے کی کوشش اس لئے بھی نہیں کی کہ یہاں محفل میں ہمارے محترم اساتذہ
اعجاز عبید صاحب اور
محمد وارث صاحب کی رہنمائی قدم قدم پر میسر ہوتی ہے سو ہم جہاں جہاں چوکتے ہیں وہاں وہاں ان مشفق اساتذہ کی رہنمائی ہمارے لئے مشعلِ راہ کا کام کرتی ہے۔
اب عروض سے متعلق آپ کی تحریریں بھی پڑھنے کی کوشش کریں گے شاید ہمیں بھی کچھ نہ کچھ افاقہ ہو جائے۔
