آوازِ دوست — جنوری 2، 2017 4:55 صبح
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
واہ واہ!!! عمر صاحب آپ تو چھُپے شاعر نکلے۔ زبردست

آوازِ دوست — جنوری 2، 2017 4:56 صبح
اچھی شاعری ہے ۔دیوان مکمل کیجئے گا

آوازِ دوست — جنوری 2، 2017 4:57 صبح
خُدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
محمداحمد — جنوری 2، 2017 5:33 صبح
واہ واہ
خوبصورت غزل ہے عمر بھائی!
ماشاءاللہ۔ بہت سی داد!
ڈاکٹرعامر شہزاد — جنوری 2، 2017 5:37 صبح
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
واہ واہ بہت خوب عمر بھیا ۔۔ زبردست کلام ۔۔ ڈھیروں داد
عمر سیف — جنوری 2، 2017 2:00 شام
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
واہ واہ!!! عمر صاحب آپ تو چھُپے شاعر نکلے۔ زبردست

اچھی شاعری ہے ۔دیوان مکمل کیجئے گا

QUOTE="آوازِ دوست, post: 1861397, member: 9336"]خُدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔[/QUOTE]
بہت شکریہ
واہ واہ
خوبصورت غزل ہے عمر بھائی!
ماشاءاللہ۔ بہت سی داد!
احمد بھائی ❤❤
واہ واہ بہت خوب عمر بھیا ۔۔ زبردست کلام ۔۔ ڈھیروں داد
بہت شکریہ عامر بھائی
ظہیراحمدظہیر — جنوری 11، 2017 6:13 شام
بہت خوب عمر سیف!! بہت اچھے!!
بیدل حیدری کی یہ غزل مجھے ہمیشہ سے پسند رہی ہے اور یاد بھی ہے ۔ آپ نے اچھے اشعار نکالے ہیں ان کی زمین میں !
عمر سیف — جنوری 14، 2017 9:32 صبح
بہت خوب عمر سیف!! بہت اچھے!!
بیدل حیدری کی یہ غزل مجھے ہمیشہ سے پسند رہی ہے اور یاد بھی ہے ۔ آپ نے اچھے اشعار نکالے ہیں ان کی زمین میں !
شکریہ ظہیر بھائی
محمد فہد — جنوری 14، 2017 4:36 شام
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
بہت خوب
عمر سیف — جنوری 15، 2017 4:22 صبح
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
بہت خوب
شکریہ
عمر سیف — جون 9، 2017 9:31 شام
اس غزل کے آخری دو اشعار میں تبدیلی اور دو اضافی اشعار کے ساتھ غزل دوبارہ پیشِ خدمت ہے۔
اضافی اور تبدیلی جن اشعار میں ہے وہ ہائی لائٹ کردئیے ہیں۔
سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا
اُترا جو اک نقاب تو دُوجا پہن لیا
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں کر لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھنے لگا مگر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
امبر نے آفتاب کا گہنا اُتار کر
اپنے گلے میں چاند کا ہالہ پہن لیا
حیرت سے آئینہ بھی عُمر پوچھنے لگا
تُو نے یہ آج کونسا چہرہ پہن لیا؟
عُمر سیف
محمد عدنان اکبری نقیبی — جون 10، 2017 5:39 صبح
بہت عمدہ بھائی ۔
لئیق احمد — جون 10، 2017 7:19 صبح
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
بہت خوب
عمر سیف — جون 10، 2017 8:14 صبح
عمر سیف — جون 10، 2017 8:15 صبح
بہت شکریہ لئیق بھائی
پر اس شعر میں کیوں اس کو تبدیل کرکے کیوں کر کر دیا ہے
اسد اقبال — جون 13، 2017 8:30 صبح
بہت خوب عمر سیف بھائی
محمد بلال اعظم — جون 25، 2017 10:56 صبح
اس غزل کے آخری دو اشعار میں تبدیلی اور دو اضافی اشعار کے ساتھ غزل دوبارہ پیشِ خدمت ہے۔
اضافی اور تبدیلی جن اشعار میں ہے وہ ہائی لائٹ کردئیے ہیں۔
سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا
اُترا جو اک نقاب تو دُوجا پہن لیا
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں کر لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھنے لگا مگر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
امبر نے آفتاب کا گہنا اُتار کر
اپنے گلے میں چاند کا ہالہ پہن لیا
حیرت سے آئینہ بھی عُمر پوچھنے لگا
تُو نے یہ آج کونسا چہرہ پہن لیا؟
عُمر سیف
عمر بھائی
مزہ آ گیا
بہت عمدہ
یہ شاید آپ کی ابتدائی غزلوں میں سے ایک تھی مگر اس قدر عمدہ کہ کیا کہیے۔
داد
بہت سی داد

عمر سیف — جون 25، 2017 9:33 شام
عمر بھائی
مزہ آ گیا
بہت عمدہ
یہ شاید آپ کی ابتدائی غزلوں میں سے ایک تھی مگر اس قدر عمدہ کہ کیا کہیے۔
داد
بہت سی داد
بہت شکریہ منے۔
طاہر راجپوت ملتان — جون 26، 2017 6:29 شام
خووب جی داد قبول کیجیے
اعلی شوخیہ ردیف
عمر سیف — جون 26، 2017 6:49 شام
خووب جی داد قبول کیجیے
اعلی شوخیہ ردیف
شکریہ