سیہ نظم: کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟!

مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 9:53 صبح
کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟
ہم نے اس بار خزاں میں دیکھا
مل گئے خاک میں ارماں کتنے
دیکھتے دیکھتے اس دل کی طرح
ہو گئے خالی گلستاں کتنے
کل تک اس گھر میں خوشی کا تھا سماں
مدتوں بعد خبر آئی تھی
دولہا بننے کو تھا نوشاہ کوئی
آخری ساعتِ تنہائی تھی
دوسرے گھر میں دلہن تھی تیار
دوست اک آئی تھی، اور گاتی تھی
تیرے محبوب نے رشتہ بھیجا
اور وہ کچھ سوچ کہ شرماتی تھی
دونوں خوشحال تھے اور ہنستے تھے
خوب دیتے تھے مبارک بادیں
دیکھو ہم ملنے کو ہیں آخر کار!
کتنی ہی خوب ہیں یہ تقدیریں
لیکن اے کاتب تقدیر، بتا!
کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟
زندگی دی تھی تو پھر چھینی کیوں؟
کیا اسی میں تھی تری بیباکی؟
اور یہ دو دن جو خوشی کے دیے تھے
کیا ضرورت تھی بھلا ان سب کی؟
تو مجھے پہلے ہی اٹھوا لیتا
"ہاں!" کو جنبش ہی نہ ہوتی لب کی
وہ جو ہنستی تھی سو وہ سو ہی گئی
اب میں بے خواب ہوں اور روتا ہوں
غسل دے آیا ہوں اشکوں سے اسے
قبر کی تختی کو اب دھوتا ہوں
ہائے! جاناں یہ تمہاری قسمت
وصل کا تجھ کو بڑا ارماں تھا
روز کہتی تھی کہ رشتہ بھیجو
پر میں بے بس تھا، میں بے ساماں تھا
پھر وہ دن جبکہ کہا تھا میں نے
آج رشتہ مرا آجائے گا
کتنا خوش ہو کہ کہا تھا تم نے
دیکھو! اب کتنا مزہ آئے گا
وائے ہو گردشِ دوراں تجھ پر
رحم آیا نہ تجھے ہم پہ ذرا!
اس کے ہاتھوں پہ لگی تھی مہندی
سر پہ سجنے کو تھا میرے سہرا
جاڑے سے قبل اسے سرد کیا
ہائے کیوں بادِ خزاں ایسی چلی؟
اب کبھی مڑ کے نہیں دیکھے گی
اب مری جان جہاں ایسی چلی
مہدی نقوی حجازؔ
صد حیف!
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:00 صبح
انسلاکیہ:
محمد علم اللہ — اگست 15، 2013 10:00 صبح
بہت خوب
ڈھیروں داد
بھائی جان کیا یہ سچا واقعہ ہے ِ؟؟
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:03 صبح
بہت خوب
ڈھیروں داد
بھائی جان کیا یہ سچا واقعہ ہے ِ؟؟
بہت آداب۔
جی یہ حادثہ کل ہی پیش آیا۔
محمد علم اللہ — اگست 15، 2013 10:05 صبح
انا للہ وانا الیہ راجعون
نایاب — اگست 15، 2013 10:17 صبح
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ اپنا رحم فرمائے آمین
بہت دکھ بھری خبر ہے بلاشبہ
"حسرت ان غنچوں پہ جو بنا کھلے مرجھا گئے "
بہت آداب۔
جی یہ حادثہ کل ہی پیش آیا۔
محمد علم اللہ — اگست 15، 2013 10:18 صبح
ٹیگ نامہ
نیرنگ خیال — اگست 15، 2013 10:18 صبح
مہدی پہلے میں بہت سی داد دینے لگا تھا اس تخیل کو۔۔۔
لیکن زیریں مراسلوں سے معلوم ہوا کہ کوئی حقیقی واقعہ بیان کیا ہے تم نے۔۔۔۔ ملال بڑھ گیا۔۔۔
بیاں پر تمہاری دسترس قابل تحسین ہے۔ شاد رہو۔
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:21 صبح
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ اپنا رحم فرمائے آمین
بہت دکھ بھری خبر ہے بلاشبہ
"حسرت ان غنچوں پہ جو بنا کھلے مرجھا گئے "
آمین۔
نیک تمناؤں کے لیے سپاس گزار ہوں!
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:22 صبح
مہدی پہلے میں بہت سی داد دینے لگا تھا اس تخیل کو۔۔۔
لیکن زیریں مراسلوں سے معلوم ہوا کہ کوئی حقیقی واقعہ بیان کیا ہے تم نے۔۔۔ ۔ ملال بڑھ گیا۔۔۔
بیاں پر تمہاری دسترس قابل تحسین ہے۔ شاد رہو۔
آپ نا آسودہ نہ ہوں جناب۔ یہ تقدیری کھیل ہیں۔ خدا خوش رکھے۔
نیرنگ خیال — اگست 15، 2013 10:24 صبح
آپ نا آسودہ نہ ہوں جناب۔ یہ تقدیری کھیل ہیں۔ خدا خوش رکھے۔
تقدیر پر کس کا زور ہے۔۔۔
بقول احمد جاوید صاحب
تقدیر وہ بھنور ہے جو دریا کو کھاجاتا ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 15، 2013 10:28 صبح
کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟
ہم نے اس بار خزاں میں دیکھا
مل گئے خاک میں ارماں کتنے
دیکھتے دیکھتے اس دل کی طرح
ہو گئے خالی گلستاں کتنے
کل تک اس گھر میں خوشی کا تھا سماں
مدتوں بعد خبر آئی تھی
دولہا بننے کو تھا نوشاہ کوئی
آخری ساعتِ تنہائی تھی
دوسرے گھر میں دلہن تھی تیار
دوست اک آئی تھی، اور گاتی تھی
تیرے محبوب نے رشتہ بھیجا
اور وہ کچھ سوچ کہ شرماتی تھی
دونوں خوشحال تھے اور ہنستے تھے
خوب دیتے تھے مبارک بادیں
دیکھو ہم ملنے کو ہیں آخر کار!
کتنی ہی خوب ہیں یہ تقدیریں
لیکن اے کاتب تقدیر، بتا!
کیا خطا تھی مری محبوبہ کی؟
زندگی دی تھی تو پھر چھینی کیوں؟
کیا اسی میں تھی تری بیباکی؟
اور یہ دو دن جو خوشی کے دیے تھے
کیا ضرورت تھی بھلا ان سب کی؟
تو مجھے پہلے ہی اٹھوا لیتا
"ہاں!" کو جنبش ہی نہ ہوتی لب کی
وہ جو ہنستی تھی سو وہ سو ہی گئی
اب میں بے خواب ہوں اور روتا ہوں
غسل دے آیا ہوں اشکوں سے اسے
قبر کی تختی کو اب دھوتا ہوں
ہائے! جاناں یہ تمہاری قسمت
وصل کا تجھ کو بڑا ارماں تھا
روز کہتی تھی کہ رشتہ بھیجو
پر میں بے بس تھا، میں بے ساماں تھا
پھر وہ دن جبکہ کہا تھا میں نے
آج رشتہ مرا آجائے گا
کتنا خوش ہو کہ کہا تھا تم نے
دیکھو! اب کتنا مزہ آئے گا
وائے ہو گردشِ دوراں تجھ پر
رحم آیا نہ تجھے ہم پہ ذرا!
اس کے ہاتھوں پہ لگی تھی مہندی
سر پہ سجنے کو تھا میرے سہرا
جاڑے سے قبل اسے سرد کیا
ہائے کیوں بادِ خزاں ایسی چلی؟
اب کبھی مڑ کے نہیں دیکھے گی
اب مری جان جہاں ایسی چلی
مہدی نقوی حجازؔ
صد حیف!

صد حیف!!!! :cry:
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:29 صبح
آہ!
مزمل شیخ بسمل — اگست 15، 2013 10:35 صبح

معذرت کہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کھلتے ہوئے غنچوں کے مرجھانے پر جو مرگ کا عالم طاری ہوتا ہے اس سے میں خوب واقف ہوں۔
فاتح — اگست 15، 2013 10:36 صبح
انا للہ و انا الیہ راجعون
صبر
حسان خان — اگست 15، 2013 10:40 صبح
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ملال آور خبر ہے برادرِ عزیز۔
محمداحمد — اگست 15، 2013 10:45 صبح
مہدی بھیا ! بہت ہی افسوس ہوا ۔ یہ غمناک خبر جان کر۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
جمال احسانی یاد آ گئے:

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جاکہ کہیں دن سنورنے والے تھے
اللہ صبر دے آپ سب کو۔
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:51 صبح
معذرت کہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کھلتے ہوئے غنچوں کے مرجھانے پر جو مرگ کا عالم طاری ہوتا ہے اس سے میں خوب واقف ہوں۔
تسلیت کا شکریہ
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:51 صبح
انا للہ و انا الیہ راجعون
صبر
شکریہ
مہدی نقوی حجاز — اگست 15، 2013 10:52 صبح
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ملال آور خبر ہے برادرِ عزیز۔
اللہ مالک ہے برادرم
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DB%8C%DB%81-%D9%86%D8%B8%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AE%D8%B7%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%9F.66747/