تمام ہی کلام متاثر ہے ظہیر صاحب۔ کچھ مقامات پر میری توجہ کچھ اٹک سی گئی ،لیکن بہر حال داد کسی طرح کم نہ کر سکی ۔ فاتح کا مشورہ صائب و مثبت ہے اور شاید تجربات پر مبنی بھی ۔ہر غزل کا ایک دھاگا ہو تو بہتر ہو گا۔ البتہ ایک اوردھاگا سب کو جمع بھی کرلے تو حرج نہیں ۔۔۔۔ ہماری داد اس لطف کی طرح قبول کیجئے جو آپ نے کلام سے پہنچایا۔۔۔
؎کسی نرالے سے گاہک کے انتظار میں دل
دکان ِ درد پہ رکھے ہوئے پرانا ہوا
کوئی بتائے مجھے کاروان ِ عمر ِ رواں
کہاں سے آیا ، کدھر ٹھہرا ، کب روانہ ہوا
؎ہوئی نہ جراٗت ِ طوفِ حریم ِ عشق ہمیں
بس ایک سنگِ ملامت انا کو مار آئے
وصالِ یار حقیقت ہے گر تو ختم نہ ہو
اگر یہ خواب ہے کوئی تو باربار آئے
؎لائی ہے بادِ سحر راکھ ، دھواں اور شبنم
اُس نے پھر خط مجھے لکھ لکھ کے جلائے ہونگے
بہت سی داد قبول کیجئے