عذاب جبر کے ٹوٹے ہیں جان پر اکثر:از: منیر انور

عمر سیف — جون 17، 2013 7:16 شام
بہت خوب۔ لا جواب ۔
احسن مرزا — جون 19، 2013 1:59 شام
اب التفات کے عنواں بدل گئے ورنہ
سجی ہیں محفلیں میرے مکان پر اکثر
ہمارا کیا ہے کہ ہم وہ ستم ظریف ہیں جو
یقین کرتے رہے ہیں گمان پر اکثر
وااااہ بیحد عمدہ اشعار کہے جناب۔ ڈھیروں ڈھیر داد اس تخلیق پر۔ آباد رہئے!
منیر انور — جون 22، 2013 5:37 صبح
بہت عمدہ کلام ہے جناب۔ بہت داد قبول فرمائیے۔ واہ کیا کہنے ۔

ممنون ہوں جناب خلیل الرحمٰن
منیر انور — جون 22، 2013 5:39 صبح
اب التفات کے عنواں بدل گئے ورنہ
سجی ہیں محفلیں میرے مکان پر اکثر
ہمارا کیا ہے کہ ہم وہ ستم ظریف ہیں جو
یقین کرتے رہے ہیں گمان پر اکثر
وااااہ بیحد عمدہ اشعار کہے جناب۔ ڈھیروں ڈھیر داد اس تخلیق پر۔ آباد رہئے!

شکریہ احسن مرزا صاحب
منیر انور — جون 22، 2013 5:40 صبح
واؤووووووووووووووو کیا خوب چبھتی غزل ہے احساس کے پردے پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم وہ ستم ظریف ہیں جو
یقین کرتے رہے ہیں گمان پر اکثر

بہت شکریہ جناب نایاب ،،،،،،،،، آپ کی لائبریری میں " روپ کا کندن " دستیاب نہیں ہے شاید :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 5، 2018 7:48 صبح
ہمارا کیا ہے کہ ہم وہ ستم ظریف ہیں
جویقین کرتے رہے ہیں گمان پر اکثر​
واہ واہ ! کیا بات ہے ،
منیر انور صاحب آپ بہت عمدہ اور پر ذوق سخنور ہیں ۔اللہ کریم آپ کو سلامت رکھیں، آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8-%D8%AC%D8%A8%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%B9%D9%88%D9%B9%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%A7%D9%86-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DA%A9%D8%AB%D8%B1-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1.61134/page-2