جیا راؤ — مئی 30، 2008 2:01 شام
[align=center]عشق محبت افسانے ہیں
پر دیوانے کب جانے ہیں
ہم کیوں مہ کش ہو بیٹھے ہیں
تیری انکھیاں مہ خانے ہیں
آس وفا کی رکھنے والے
عقل و خرد سے بیگانے ہیں
رات، چکور، سمندر سارے
تیرے ہی تو دیوانے ہیں
یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں
جذبے، خواب اور عہد ہمارے
اپنی موت ہی مر جانے ہیں
غم کیسا ہے، کیا ہے، کیوں ہے
تم سے بہتر ہم جانے ہیں
اب اس ملک کے شاہیں سارے
تاج محل کے دیوانے ہیں
لیلیٰ، سوہنی، سسی، شیریں
پچھلے دور کے افسانے ہیں
شعراء، ادباء جیا نہ جانے
ناداں ہیں یا فرزانے ہیں
ّّّ[/align]
ابن سعید — مئی 30، 2008 2:05 شام
بہت عمدہ جیہ اپیا۔ چھوٹی بحر لاجواب کلام۔

محسن حجازی — مئی 30، 2008 2:29 شام
یہ آمد کب ہوئی خاتون؟ بہت دبلی پتلی لیکن دراز قد غزل ہے۔

فرخ منظور — مئی 30، 2008 3:03 شام
اچھی غزل ہے جیہ صاحبہ لیکن کچھ عروض کی غلطیاں محسوس ہورہی ہیں - استادان سے تصحیح کروا لی جائے تو بہتر ہوگا -
محمد وارث — مئی 30، 2008 5:52 شام
واہ واہ سبحان اللہ، لا جواب غزل ہے جیا راؤ صاحبہ۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں لیکن یہ تو بہت ہی اچھے لگے، واہ واہ واہ۔۔۔۔۔۔۔
عشق محبت افسانے ہیں
پر دیوانے کب جانے ہیں
یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں
جذبے، خواب اور عہد ہمارے
اپنی موت ہی مر جانے ہیں
لیلیٰ، سوہنی، سسی، شیریں
پچھلے دور کے افسانے ہیں
شعراء، ادباء جیا نہ جانے
ناداں ہیں یا فرزانے ہیں
مکمل وزن میں غزل ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک انتہائی خوبصورت لیکن مشکل بحر ہے اور آپ نے انتہائی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔محسن نقوی مرحوم کی لاجواب اور شہرہ آفاق غزل "اتنی مدّت بعد ملے ہو" اسی بحر میں ہے۔
محسن حجازی — مئی 31، 2008 9:05 صبح
ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے شعرا حضرت چوک میں تازہ غزل چسپاں کر کے کھسک لیتے ہیں اور کسی محفوظ مقام پر جا کر ہونے والی سنگ باری کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

محمداحمد — مئی 31، 2008 9:18 صبح
لیلیٰ، سوہنی، سسی، شیریں
پچھلے دور کے افسانے ہیں
جیا صاحبہ
بہت عمدہ غزل کہی ہے آپ نے پڑھ کر لطف آیا۔ ناچیز کی جانب سے نذرانہ ء تحسین حاضرِ خدمت ہے قبول کیجے۔۔۔
ایک عرض کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ درج ذیل شعر میں شمع و پروانے کے ما بین "و" اضافی محسوس ہو رہا ہے ۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے، آپ اپنے طور پر دیکھ لیجے گا۔۔۔
یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے (آمین)
مخلص
محمد احمد
جیا راؤ — مئی 31، 2008 9:29 صبح
بہت عمدہ جیہ اپیا۔ چھوٹی بحر لاجواب کلام۔
شکریہ ابنِ سعید

آپ نے اپیا کہا بہت اچھا لگا شاید پہلی بار کسی نے ایسے کہا ہے۔

جیا راؤ — مئی 31، 2008 9:37 صبح
جیا راؤ — مئی 31، 2008 9:58 صبح
اچھی غزل ہے جیہ صاحبہ لیکن کچھ عروض کی غلطیاں محسوس ہورہی ہیں - استادان سے تصحیح کروا لی جائے تو بہتر ہوگا -
ہم چونکہ عروض سے ہی نا بلد ہیں اس لئے غلطیوں کی نشاندہی کا انتظار رہے گا
جیا راؤ — مئی 31، 2008 10:04 صبح
واہ واہ سبحان اللہ، لا جواب غزل ہے جیا راؤ صاحبہ۔ سبھی اشعار بہت اچھے ہیں لیکن یہ تو بہت ہی اچھے لگے، واہ واہ واہ۔۔۔۔۔۔۔
مکمل وزن میں غزل ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک انتہائی خوبصورت لیکن مشکل بحر ہے اور آپ نے انتہائی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔
محسن نقوی مرحوم کی لاجواب اور شہرہ آفاق غزل "اتنی مدّت بعد ملے ہو" اسی بحر میں ہے۔
شکریہ وارث صاحب۔
آپ کی رائے جان کر بہت اچھا لگا
جیا راؤ — مئی 31، 2008 10:10 صبح
ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے شعرا حضرت چوک میں تازہ غزل چسپاں کر کے کھسک لیتے ہیں اور کسی محفوظ مقام پر جا کر ہونے والی سنگ باری کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
ہا ہا ہا ہا
تخلیق پر سنگ باری ہو رہی ہو تو حساس شاعر اور کر بھی کیا سکتے ہیں !
جیا راؤ — مئی 31، 2008 10:19 صبح
لیلیٰ، سوہنی، سسی، شیریں
پچھلے دور کے افسانے ہیں
جیا صاحبہ
بہت عمدہ غزل کہی ہے آپ نے پڑھ کر لطف آیا۔ ناچیز کی جانب سے نذرانہ ء تحسین حاضرِ خدمت ہے قبول کیجے۔۔۔
ایک عرض کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ درج ذیل شعر میں شمع و پروانے کے ما بین "و" اضافی محسوس ہو رہا ہے ۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے، آپ اپنے طور پر دیکھ لیجے گا۔۔۔
یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں
اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے (آمین)
مخلص
محمد احمد
شکریہ احمد صاحب۔
اگر واؤ ہٹایئں تو "شمع" کو تشدید کے ساتھ پڑھنا پڑے گا مگر "شمع" پر تشدید تو نہیں آتی نا
اب یہ وارث صاحب یا الف عین جی ہی بتا سکیں گے۔ 
محمد وارث — مئی 31، 2008 11:31 صبح
شکریہ احمد صاحب۔
اگر واؤ ہٹایئں تو "شمع" کو تشدید کے ساتھ پڑھنا پڑے گا مگر "شمع" پر تشدید تو نہیں آتی نا
اب یہ وارث صاحب یا الف عین جی ہی بتا سکیں گے۔
اول
آپ کی بات بالکل صحیح ہے، شمع میں میم پر تشدید بالتحقیق نہیں ہے، شمع کے دو تلفظ ٹکسالی ہیں، شَمَع بروزن سَبَب یا شَمع بروزن درد، غالب کے بہت زیادہ اشعار میں دوسرا وزن ہی بندھا ہے۔آپ کا شعر وزن میں تبھی آئے گا جب شمع و پروانے کو "شم عو پروانے" پڑھیں گے لہذا آپ کا شعر بالکل وزن میں ہے۔دوم
دیگر اضافتوں کی طرح، اضافت "واؤ" کا وزن بھی شاعر کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ اسے شمار کرے یا نہ شمار کرے۔ بالفرضِ محال اگر 'شمع' کو میم کی تشدید کے ساتھ بھی پڑھیں یعنی "شم ما" تو شعر پھر بھی وزن میں رہتا ہے کہ پھر واؤ کی آواز یعنی "و" وزن میں شمار نہیں ہوگی۔ یہ بات صرف مثال کے طور پر لکھی ہے وگرنہ "شمع" میم کی تشدید کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔اضافت "و" کا وزن شمار نہ کرنے کی ایک خوبصورت مثال، فیض احمد فیض کے اس خوبصورت شعر میں دیکھی جا سکتی ہے:گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلےاس شعر میں "کاروبار" میں واؤ بولنے میں ضرور "او" کی آواز دے رہا ہے لیکن اسکا وزن شمار نہیں ہو رہا وگرنہ شعر بے وزن ہوگا۔والسلام
الف عین — مئی 31، 2008 11:57 صبح
در اصل شمع و پروانہ اس لئے کھٹک رہا ہے کہ پروانہ فارسی کا ہونے پر بھی ہندی جیسا لگنے لگا ہے۔ لیکن شاید غالب نے بھی کہیں پروانہ و شمع باندھا ہے۔
شمع کا تلفظ میں بر وزن فعل ہی درست مانتا ہوں، شما کے طور پر غلط۔ شمع و پروانا اس لحاظ سے درست ہے اگر چہ اکثع گفتگو اور شاعری میں بھی محض شمع پروانہ استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے عجیب سا یہاں لگا۔
البتہ
ہم کیوں مہ کش ہو بیٹھے ہیں
تیری انکھیاں مہ خانے ہیں
اس میں ایک تو ’مے خانے‘ کا محل ہے۔ پھر اکھیاں اچھا نہیں لگ رہا یہاں۔۔ آنکھیں ہی کیوں نہ کہا جائے جیا؟
اور
غم کیسا ہے، کیا ہے، کیوں ہے
تم سے بہتر ہم جانے ہیں
مجھے کچھ شک ہو رہا ہے کہ ’جانتے ہیں“ کے مطلب میں کیا اس کو ’جانیں ہیں‘ ہونا چاہئے؟ کیوں وارث؟
محمد وارث — مئی 31، 2008 12:19 شام
شکریہ اعجاز صاحب۔ویسے شمع و پروانہ یعنی اضافت کے ساتھ مستعمل ہے، اقبال کی ایک نظم کا نام ہی 'شمع و پروانہ' ہے۔'جانیں ہیں' تو شاید اسلیئے نہیں لکھا شاعرہ نے کہ قافیہ بگڑ جاتا
ویسے میر کا مصرع ہے "جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے'۔
زھرا علوی — مئی 31، 2008 12:25 شام
زھرا علوی — مئی 31، 2008 12:30 شام
"یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں"
اس پر ویسے تو کافی بحث ہو چکی ہے
لیکن ڈرتے ڈرتے میں بھی ایک صلاح دے رہی ہوں
کیا یہ ایسے بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
"یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا شمع و پروانے ہیں"
یونس رضا — مئی 31، 2008 12:42 شام
ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے شعرا حضرت چوک میں تازہ غزل چسپاں کر کے کھسک لیتے ہیں اور کسی محفوظ مقام پر جا کر ہونے والی سنگ باری کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
حجازی کبھی کبھی تو کمال کر دیتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نہیں چوکتے ہو سنگ باری کرنے سے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ مشاہدہ تو ہم بھی سنگ باری کا کر رہے ہین
ویسے غزل لا جواب ہے

محمد وارث — مئی 31، 2008 12:46 شام
"یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا پھر شمع و پروانے ہیں"
اس پر ویسے تو کافی بحث ہو چکی ہے
لیکن ڈرتے ڈرتے میں بھی ایک صلاح دے رہی ہوں
کیا یہ ایسے بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
"یا یہ تم ہو یا یہ ہم ہیں
یا شمع و پروانے ہیں"
زھرا صاحبہ آپ کی اصلاح قبول کرنے کی صوابدید تو شاعرہ صاحبہ کی ہے، فقط یہ عرض کرونگا کہ اس طرح وزن بگڑ جائے گا۔
والسلام