عمر ساری تری چاہت میں بتانی پڑ جائے

آصف شفیع — ستمبر 9، 2008 9:51 صبح
ایک اور غزل احباب کی خدمت میں حاضر ہے:
عمر ساری تری چاہت میں بِتانی پڑ جائے
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آگ بجھانی پڑ جائے
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
کیا تماشا ہو اگر منصفِ اعلی کو بھی
درِ انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے
کاش پھر مجھ سے وہ پوچھیں مری وحشت کا سبب
کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
(از کتاب: "کوئی پھول دل میں کھلا نہیں"- 2003)
ابوشامل — ستمبر 9، 2008 10:10 صبح
کیا تماشا ہو اگر منصفِ اعلی کو بھی
درِ انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
آصف شفیع صاحب بہت اعلی غزل ہے۔ سبحان اللہ
لیکن اوپر کے دو اشعار تو وطن عزیز کی کہانیاں بیان کررہے ہیں :)
فرخ منظور — ستمبر 9، 2008 10:56 صبح
اچھی غزل ہے آصف صاحب- بہت شکریہ قبلہ!
محمد وارث — ستمبر 9، 2008 11:44 صبح
واہ واہ سبحان اللہ، بہت اچھی غزل ہے آصف صاحب، لا جواب، بہت خوب!
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
واہ واہ واہ!
ایم اے راجا — ستمبر 9، 2008 6:08 شام
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
کیا تماشا ہو اگر منصفِ اعلی کو بھی
درِ انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے
واہ واہ، لاجواب بہت خوب۔
الف عین — ستمبر 11، 2008 6:25 صبح
بہت خوب آصف!!
ماشاء اللہ بہت عمدہ غزل ہے۔ داد قبول کریں۔
فاروقی — ستمبر 11، 2008 6:47 صبح
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
واہ واہ .......کیا شعر ہیں
آصف شفیع — ستمبر 11، 2008 8:43 صبح
بہت خوب آصف!!
ماشاء اللہ بہت عمدہ غزل ہے۔ داد قبول کریں۔
سر! بہت شکریہ
محمداحمد — ستمبر 11، 2008 10:43 صبح
واہ آصف صاحب
بہت عمدہ غزل ہے پڑھ کر لطف آیا! داد حاضرِ خدمت ہے قبول کیجے۔
نوید صادق — ستمبر 12، 2008 4:32 صبح
ایک اور غزل احباب کی خدمت میں حاضر ہے:
عمر ساری تری چاہت میں بِتانی پڑ جائے
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آگ بجھانی پڑ جائے
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
کیا تماشا ہو اگر منصفِ اعلی کو بھی
درِ انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے
کاش پھر مجھ سے وہ پوچھیں مری وحشت کا سبب
کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
(از کتاب: "کوئی پھول دل میں کھلا نہیں"- 2003)

آصف ! بہت خوب!
یہ غزل میرے لئے تو نئی نہیں۔ لیکن لطف آیا۔ نئی غزلوں کا انتظار رہے گا۔
مظفرمحسن — ستمبر 17، 2008 10:38 صبح
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:02 شام
آصف شفیع صاحب بہت اعلی غزل ہے۔ سبحان اللہ
لیکن اوپر کے دو اشعار تو وطن عزیز کی کہانیاں بیان کررہے ہیں :)

بہت شکریہ۔ یہ شعر بھی تو حسبِ حال ہے( امریکہ کے حوالے سے)۔ بلکہ موجودہ صورت حال کی مکمل عکاسی کر رہا ہے۔
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:05 شام
اچھی غزل ہے آصف صاحب- بہت شکریہ قبلہ!

قبلہ ! نوازش ۔ شکریہ۔
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:06 شام
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ مظفر صاحب
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:09 شام
واہ واہ سبحان اللہ، بہت اچھی غزل ہے آصف صاحب، لا جواب، بہت خوب!
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
واہ واہ واہ!

داد دینے کا بہت شکریہ۔
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:11 شام
میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو
اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے!!
کیا تماشا ہو اگر منصفِ اعلی کو بھی
درِ انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے
واہ واہ، لاجواب بہت خوب۔

بہت نوازش راجہ صاحب!
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:21 شام
میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں
یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے
دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصف
زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
واہ واہ .......کیا شعر ہیں

آپ کو شعر پسند آئے۔ بہت شکریہ۔
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:23 شام
واہ آصف صاحب
بہت عمدہ غزل ہے پڑھ کر لطف آیا! داد حاضرِ خدمت ہے قبول کیجے۔

آپ کی داد کا بہت شکریہ۔ نوازش
آصف شفیع — ستمبر 17، 2008 12:25 شام
آصف ! بہت خوب!
یہ غزل میرے لئے تو نئی نہیں۔ لیکن لطف آیا۔ نئی غزلوں کا انتظار رہے گا۔

نوید صاحب، آجکل کچھ خاص نہیں لکھا جا رہا۔ آپ نے کچھ کہا ہو تو عنایت کیجیے۔
عاشق چانگ — ستمبر 25، 2008 8:17 شام
بہت خوبصورت
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%BE%DA%91-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.14875/