عید-1443ھ- کے دن میری ایک غزل۔ عشق نے پوچھا امتحان میں کیا!

شمشاد — مئی 23، 2022 9:18 شام
سید بادشاہ عنوان درست کر لیں، یہ 1443 ہجری ہے، 1444 نہیں۔
سید عاطف علی — مئی 24، 2022 5:22 صبح
شکریہ شمشاد بھائی ۔ ❤️
نیرنگ خیال — مئی 27، 2022 9:46 صبح
دل کی دنیا کا کر دیا سودا
بیچنے کو بچا دکان میں کیا
واہ۔۔۔ بہت عمدہ غزل ۔۔۔
ویسے داد تو مجھے اگلی عید پر دینی چاہیے تھی۔۔۔ پر پھر یہ دھڑکا لگا کہ یہ نہ ہو اس عید کی طرح اگلی عید پر بھی حاضری نہ دے سکوں۔۔۔
سید عاطف علی بھائی! بہت عمدہ۔۔۔ زبردست
سید عاطف علی — مئی 27، 2022 12:17 شام
اچھی غزل ہے عاطف بھائی!
آداب و تشکر محمد احمد بھائی ۔
سید عاطف علی — مئی 27، 2022 6:13 شام
۔ پر پھر یہ دھڑکا لگا کہ یہ نہ ہو اس عید کی طرح اگلی عید پر بھی حاضری نہ دے سکوں
بہت شکریہ اور آداب ۔ نین جی۔ لیکن عید سے عید تک غیر حاضری کا خدشہ کیوں اور کس حساب سے ؟
کہیں تو آپ کی حاضری کے لیے ایک قصیدہ لکھ ڈالیں ؟
نیرنگ خیال — مئی 28، 2022 5:42 صبح
بہت شکریہ اور آداب ۔ نین جی۔ لیکن عید سے عید تک غیر حاضری کا خدشہ کیوں اور کس حساب سے ؟
کہیں تو آپ کی حاضری کے لیے ایک قصیدہ لکھ ڈالیں ؟
بس ایسے ہی۔۔۔ بغیر کسی خدشے اور حساب کے۔۔۔
ہوہوہوہوہو۔۔۔ میں صرف قصیدہ گوئی پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ کا خاکہ لکھوں گا اگر قلم کبھی رواں ہوا۔۔۔
سید عاطف علی — ستمبر 1، 2022 5:59 صبح
ہوہوہوہوہو۔۔۔ میں صرف قصیدہ گوئی پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ کا خاکہ لکھوں گا اگر قلم کبھی رواں ہوا۔۔۔
یا اللہ خیر ۔مجھ پر اور نین جی کے قلم پر رحم ہو ۔
سیما علی — ستمبر 1، 2022 6:07 صبح
ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا!
بہت عمدہ
🌸🌸🌸🌸🌸
یاسر شاہ — ستمبر 3، 2022 4:40 صبح
واہ سید صاحب ماشاء اللہ خوب غزل ہے۔
گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا
واہ۔
کوئلہ ایک بس سلگتا ہے
اور باقی ہے خاکدان میں کیا
خوب۔پہلے مصرع کوکچھ مزید چست کرنے کی ایک ترکیب:
کوئلہ اک پڑا سلگتا ہے
عید کے دن تو خود گلے لگ جاؤ
ہم کہیں اپنی اب زبان سے کیا ؟
گو ردیف بدل گئی۔شعر خوب ہے ۔
اور غزل کےمطلع پہ درد یاد آگئے ۔ان کا یہ شعر تو میرے ساتھ ہی رہتا ہے،وقت بے وقت گنگناتا ہی رہتا ہوں :
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے ،آن میں کچھ ہے
سید عاطف علی — اکتوبر 14، 2022 6:34 شام
چند ایک روز قبل ایک ،مشاعرے میں پڑھ ڈالی تو دو ایک اشعار اور شامل ہو گئے ۔
آن میں کیا ہے اور آن میں کیا
اس نے میرے کہا یہ کان میں کیا
سسکیوں کی صدا ہے اک، دل میں
کوئی بستا ہے اس مکان میں کیا
اڑ گئیں حسرتیں دھواں بن کے
کچھ بچا بھی ہے نیم جان میں کیا
دل کی دنیا کا کر دیا سودا
بیچنے کو بچا دکان میں کیا
گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا
خالی ترکش ہے سامنے ہے غزال
آخری تیر تھا کمان میں کیا
کوئلہ اک پڑا سلگتا ہے
اور باقی ہے خاکدان میں کیا
کہہ دے آخر ، نہ بڑبڑا اتنا
پھر وہی بات آئی دھیان میں کیا
تیرے آگے ہوئے ہیں صف آراء
شرم ہے آزری بتان میں کیا
خم ابرو جو گھاؤ ڈالے ہے
اتنا دم ہے کڑی کمان میں کیا
ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا
سیما علی — اکتوبر 14، 2022 7:09 شام
خم ابرو جو گھاؤ ڈالے ہیں
اتنا دم ہے کڑی کمان میں کیا
ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا
واہ واہ
بہت بہترین !!!
سلامت رہیے
بہت ڈھیر ساری دعائیں 🥰🥰🥰🥰🥰
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 15، 2022 3:50 صبح
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں ، عاطف بھائی! بے ساختگی جھلک رہی ہے !
اور اسی بے ساختگی میں آپ بھی "نہ"کی جگہ " نا" باندھ گئے مقطع میں ۔ :)
ویسے یہ بدعت اب عام ہی ہورہی ہے ۔ سو ممکن ہے قبولِ عام پاجائے ۔
سید عاطف علی — جنوری 22، 2023 7:49 صبح
ویسے یہ بدعت اب عام ہی ہورہی ہے ۔ سو ممکن ہے قبولِ عام پاجائے ۔
ظہیر بھائی مع شکر ،،،
پہلے یہ بدعت حسنہ بنے گی پھر سنت عادیہ ہو جائے گی ۔
صابرہ امین — جنوری 22، 2023 7:24 شام
چند ایک روز قبل ایک ،مشاعرے میں پڑھ ڈالی تو دو ایک اشعار اور شامل ہو گئے ۔
آن میں کیا ہے اور آن میں کیا
اس نے میرے کہا یہ کان میں کیا
سسکیوں کی صدا ہے اک، دل میں
کوئی بستا ہے اس مکان میں کیا
اڑ گئیں حسرتیں دھواں بن کے
کچھ بچا بھی ہے نیم جان میں کیا
دل کی دنیا کا کر دیا سودا
بیچنے کو بچا دکان میں کیا
گہہ ترنم ، گہے تبسم ہے
یہ قصیدہ ہے اس کی شان میں کیا
خالی ترکش ہے سامنے ہے غزال
آخری تیر تھا کمان میں کیا
کوئلہ اک پڑا سلگتا ہے
اور باقی ہے خاکدان میں کیا
کہہ دے آخر ، نہ بڑبڑا اتنا
پھر وہی بات آئی دھیان میں کیا
تیرے آگے ہوئے ہیں صف آراء
شرم ہے آزری بتان میں کیا
خم ابرو جو گھاؤ ڈالے ہیں
اتنا دم ہے کڑی کمان میں کیا
ہاں یا نا، کچھ نہ کہہ سکا عاطف
عشق نے پوچھا امتحان میں کیا
بہت خوب سید عاطف علی بھائی ۔ ۔ خوبصورت اشعار ۔ ۔ ڈھیروں داد
سیما علی — اپریل 9، 2024 5:37 شام
خالی دیواریں پوچھتی ہیں شکیل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
بہت اعلیٰ !!!!
شکیل بھائی
سیما علی — اپریل 9، 2024 5:43 شام
سسکیوں کی صدا ہے اک، دل میں
کوئی بستا ہے اس مکان میں کیا
دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
سیما علی — اپریل 10، 2024 10:19 صبح
تیرے آگے ہوئے ہیں صف آراء
شرم ہے آزری بتان میں کیا
واہ واہ !!!
🌟🌟🌟🌟🌟
سیما علی — اپریل 10، 2024 10:20 صبح
خم ابرو جو گھاؤ ڈالے ہے
اتنا دم ہے کڑی کمان میں کیا
بہترین !!!!
بے حد کمال ؀
خم ابرو جو گھاؤ ڈالے ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%DB%8C%D8%AF-1443%DA%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D9%86-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%86%DB%92-%D9%BE%D9%88%DA%86%DA%BE%D8%A7-%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7.118409/page-2