شکریہ ۔ایکس بوائے ۔ اور آداب۔
شیخ صاحب کو اگر زہر اگلتے دیکھا
آپ لہجہ بھی کہاں اُن کا بدلتے دیکھا
تهک چکے آہ شبِ ہجر کی بیزاری سے
اِن فقیروں کو مگر اور مچلتے دیکها
دیکھ رکها ہو کسی اور نے شاید ناصح
جسطرح ہم نے زمانے کو بدلتے دیکها
جو چَنا آپ میں خالی ہو اُسے ہی آخر
عقلمندوں میں گواہوں سا اُچهلتے دیکها
پوچهنا اپنے حریفوں سے بهی جا جا صاحب
خیر کا دِن بهی کبهی آپ نکلتے دیکها
عاطف بهائی میں نے بهی ایک کوشش کی ہے دیکهو کیسی ہے ؟

