عید الاضحی کے روز ۔۔۔میری ایک اور تازہ غزل -ماہ نے تجھ کو لب ِ بام سنبھلتے دیکھا

سید عاطف علی — اکتوبر 9، 2014 11:24 صبح
شکریہ ۔ایکس بوائے ۔ اور آداب۔
عظیم — اکتوبر 9، 2014 11:46 صبح

شیخ صاحب کو اگر زہر اگلتے دیکھا
آپ لہجہ بھی کہاں اُن کا بدلتے دیکھا
تهک چکے آہ شبِ ہجر کی بیزاری سے
اِن فقیروں کو مگر اور مچلتے دیکها
دیکھ رکها ہو کسی اور نے شاید ناصح
جسطرح ہم نے زمانے کو بدلتے دیکها
جو چَنا آپ میں خالی ہو اُسے ہی آخر
عقلمندوں میں گواہوں سا اُچهلتے دیکها
پوچهنا اپنے حریفوں سے بهی جا جا صاحب
خیر کا دِن بهی کبهی آپ نکلتے دیکها
عاطف بهائی میں نے بهی ایک کوشش کی ہے دیکهو کیسی ہے ؟
سید عاطف علی — اکتوبر 9، 2014 2:50 شام
عاطف بهائی میں نے بهی ایک کوشش کی ہے دیکهو کیسی ہے ؟
شکریہ عظیم ۔
قیصرانی — اکتوبر 9، 2014 2:56 شام
عید کے دن آٹھویں غزل۔۔۔ نو کمنٹس ایٹ آل :(
سید عاطف علی — اکتوبر 9، 2014 3:37 شام
عید کے دن آٹھویں غزل۔۔۔ نو کمنٹس ایٹ آل :(
بھئی مطلب یہ کہ آٹھویں غزل عید کے دن مکمل ہوئی۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 9، 2014 7:59 شام
اُس نے ہم کو جو گلی میں یوں پھسلتے دیکھا
اُس کے غصّے کو ہنسی میں بھی بدلتے دیکھا
عید کے روز غزل ہم نے کہی ، اُس کے بعد
’’جب بھی دیکھا اُسے بس زہر اگلتے دیکھا‘‘
شیخ و واعظ ہوں کہ ناصح ہوں سبھی کو ہم نے
اُس حسینہ کی گلی سے ہی نکلتے دیکھا
اتنی پیاری سے غزل کہہ تو چکے ہیں عاطف
جس زمیں میں کئی لوگوں کو پھسلتے دیکھا
قافیے تنگ ہوئے اور ردیفیں نہ ملیں
ہم نے لوگوں کو یہاں بحر بدلتے دیکھا
عظیم — اکتوبر 9، 2014 8:55 شام
اُس نے ہم کو جو گلی میں یوں پھسلتے دیکھا
اُس کے غصّے کو ہنسی میں بھی بدلتے دیکھا
عید کے روز غزل ہم نے کہی ، اُس کے بعد
’’جب بھی دیکھا اُسے بس زہر اگلتے دیکھا‘‘
شیخ و واعظ ہوں کہ ناصح ہوں سبھی کو ہم نے
اُس حسینہ کی گلی سے ہی نکلتے دیکھا
اتنی پیاری سے غزل کہہ تو چکے ہیں عاطف
جس زمیں میں کئی لوگوں کو پھسلتے دیکھا
قافیے تنگ ہوئے اور ردیفیں نہ ملیں
ہم نے لوگوں کو یہاں بحر بدلتے دیکھا

سر کا کهپ جانا جوانی میں بهلا لگتا ہے
اچهے اچهوں کی یہاں دال نہ گلتے دیکها​
قیصرانی — اکتوبر 10، 2014 10:35 صبح
بھئی مطلب یہ کہ آٹھویں غزل عید کے دن مکمل ہوئی۔
میں سمجھا کہ عید کے دن آٹھ غزلیں۔۔۔ :)
سید عاطف علی — اکتوبر 10، 2014 2:02 شام
میں سمجھا کہ عید کے دن آٹھ غزلیں۔۔۔ :)
نام ِ ٖ خدا۔قیصرانی بھائی۔ :eek:ایک دن اور یہ غزلیات کا اَٹّھا۔:wasntme:
اللہ بخشے غلام ہمدانی(المعروف مصحفی) صاحب کے بارے میں کہیں (غالباً تذکرہ "آب ِحیات "مولفہ محمد حسین آزاد)پڑھا تھا کہ مشاعرے سے قبل رات اپنی زود گوئی کا مظاہرہ یوں فرمایا کرتے تھے کہ آتھ دس غزلیں کہہ لیتے تھے اور ان میں سے سب سے اچھی منتخب کر کے باقی بیچ دیتے تھے۔واللہ اعلم ۔:LOL:
قیصرانی — اکتوبر 10، 2014 2:06 شام
نام ِ ٖ خدا۔قیصرانی بھائی۔ :eek:ایک دن اور یہ غزلیات کا اَٹّھا۔:wasntme:
اللہ بخشے غلام ہمدانی(المعروف مصحفی) صاحب کے بارے میں کہیں (غالباً تذکرہ "آب ِحیات "مولفہ محمد حسین آزاد)پڑھا تھا کہ مشاعرے سے قبل رات اپنی زود گوئی کا مظاہرہ یوں فرمایا کرتے تھے کہ آتھ دس غزلیں کہہ لیتے تھے اور ان میں سے سب سے اچھی منتخب کر کے باقی بیچ دیتے تھے۔واللہ اعلم ۔:LOL:
زبردست۔ یعنی انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں :bighug:
سید عاطف علی — اکتوبر 10، 2014 2:57 شام
زبردست۔ یعنی انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں :bighug:
ایک بار پھر نامِ خدا بلکہ ذرا اور زور و شور سے ۔
"میں کہاں اور یہ وبال کہاں" ۔ہم تو اپنی ایک غزل کو ذائقہ پیدا کر نے کےلیے ہفتوں بلکہ مہینوں پکاتے ہیں پھر بھی "کارے ندارد" ۔:)
عظیم — اکتوبر 10، 2014 3:21 شام
ایک بار پھر نامِ خدا بلکہ ذرا اور زور و شور سے ۔
"میں کہاں اور یہ وبال کہاں" ۔ہم تو اپنی ایک غزل کو ذائقہ پیدا کر نے کےلیے ہفتوں بلکہ مہینوں پکاتے ہیں پھر بھی "کارے ندارد" ۔:)

عاطف بهائی ہو نہ ہو اس شوق کا اپنا ہی مزا ہے -
سید عاطف علی — اکتوبر 10، 2014 4:10 شام
اُس نے ہم کو جو گلی میں یوں پھسلتے دیکھا
اُس کے غصّے کو ہنسی میں بھی بدلتے دیکھا
عید کے روز غزل ہم نے کہی ، اُس کے بعد
’’جب بھی دیکھا اُسے بس زہر اگلتے دیکھا‘‘
شیخ و واعظ ہوں کہ ناصح ہوں سبھی کو ہم نے
اُس حسینہ کی گلی سے ہی نکلتے دیکھا
اتنی پیاری سے غزل کہہ تو چکے ہیں عاطف
جس زمیں میں کئی لوگوں کو پھسلتے دیکھا
قافیے تنگ ہوئے اور ردیفیں نہ ملیں
ہم نے لوگوں کو یہاں بحر بدلتے دیکھا
خلیل بھائی ۔پھڑکتی ہے آپکی " رگِ ظرافت "تو ہو تی ہے رواں اور۔کیاکہنے۔
آپ بھی بنا اسباب ہمیں مغرور کر نے کا سامان کیے دیتے ہیں جناب۔:)
جاسمن — جولائی 9، 2020 3:54 صبح
واہ بھئی واہ! بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B6%D8%AD%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%DB%94%DB%94%DB%94%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D9%86%DB%92-%D8%AA%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D9%84%D8%A8-%D9%90-%D8%A8%D8%A7%D9%85-%D8%B3%D9%86%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%AA%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7.78002/page-2