ارشد صاحب ، مجھے علم نہیں تھا کہ یہاں ترتیب بھی ملحوظ خاطر ہے . چند دیگر مثالیں پیش ہیں :
شاگرد امیر حمزۂ صاحب قراں کے ہیں
کیونکر بھلا نہ قلعۂ اشرار توڑیئے (انشا اللہ خاں انشا)
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے (شیخ ابراہیم ذوقؔ)
بے راہ نہ کیونکر ہوں بھلا رہرو منزل
جب راہنما راہ پہ چلنے نہیں دیتے (پرنم الہ آبادی)
علوی صاحب یہ بحث اب ختم ہو چکی ہے - اور اس پر اختتام ہوا کہ یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تو کر -

بات یہ ہے کہ میں اب مزید اسکی تفصیل میں کیا جاوؒں - دیکھیئے اتنا لکھ دیتا ہوں کہ مذکورہ مصرع تھا - ترے مٹنے پہ کیوں کر وہ بھلا رنجور نہ ہوگا -
آپ اس میں سے بھلا نکال دیں تو بچے گا - ترے مٹنے پہ کیونکر وہ رنجور نہ ہوگا - یعنی جملے پہ کوئ فرق نہیں پڑا - آپ نے ابھی جو مصرعے پیش کیئے ہیں ان میں سے بھلا نکالیے تو مصرع پہ فرق پڑ جائیگا - وجہ ہے الفاط کی نشست اور الفاظ سے پہلے کے حرف ربط وغیرہ -
جو راحل صاحب کا مصرع ہے اس میں جو مٹنے کے بعد پہ آیا ہے اس کے بعد جملہ ان دونوں لفظوں کیونکر اور بھلا میں سے صرف ایک کا متقاضی ہے -
سر آگے آپ کی مرضی ہے بقول ایک فلمی گانے کے ؎ یہ بھی ٹھیک تو وہ بھی ٹھیک ہے اپنا اپنا نظریہ ؎
آ پ میری بات سے بالکل نہ اتفاق کریں آپ کو حق ہے - مگر بس اب اسکو یہیں تک رہنے دیں -