بہت خوبصورت مضامین ہیں۔ اور خوبصورت ترین انداز بیان۔ ماشاءاللہ۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
جاسمن صاحبہ ، نگاہ کرم اور ذرہ نوازی كے لیے بے حد ممنون ہوں . جزاک اللہ !
بہت خوب ۔اچھے اشعار ہیں۔
"کوئ ہو جائے" کھٹک رہا ہے ۔
یاسر بھائی ، وعلیکم السلام . بھائی ، آپ نے حکم دیا اور خاکسار حاضر ہو گیا .
جزاک اللہ خیر 😊
اچھی بات ہے ،پہلے میں بھی اسے مونث سمجھتا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل جون ایلیا کا ایک وڈیو مشاعرہ دیکھا جس میں کہہ رہے تھے کہ مانند مذکر ہے ،اسے مونث باندھنا غلط ہے۔واللہ اعلم باالصواب
مکرمی عرفان صاحبب : کچھ عرصے قبل یہاں :ضرورت شعری: پر گفتگو ہورہی تھی۔ اس موضوع پر مفصل گفتگو کی ضرورت ہے سو وہ ہوتی رہے گی۔ محمد احمد صاحب نے اس لڑی میں ایک جگہ اس جانب اشارہ کیا ہے اور میں ان سے متفق ہوں کہ اس شعر میں:
محترمی آپ کسی اور سمت چلے گئے۔
محترم سرور صاحب ، رائے کا شکریہ !
اَرشَد صاحب ، نگاہ کرم اور رائے کا شکریہ ! میں آپ کا موقف پوری طرح سمجھ نہیں سکا . اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ لفظ مانند کی جنس کا تعین جملے کا فاعل کرتا ہے ، تو میری ناچیز رائے میں واقعہ یہ نہیں ہے . اگر ایسا ہوتا تو قاسمی صاحب ، جن کا اَدَبی مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، کہتے کہ ’(میں) زندگی شمع كے مانند جلاتا ہوں .‘ ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ لفظ مانند کی جنس وہ لفظ طے کرتا ہے جس سے تشبیہ دی جائے . لیکن مثالوں سے یہ دعویٰ بھی صحیح ثابت نہیں ہوتا . مزید تفصیل كے لیے یاسر بھائی کو میرا جواب ملاحظہ فرمائیے .
یاسر بھائی ، مجھے یاد ہے کہ ایک محفل میں یہ دعویٰ پیش کیا گیا تھا کہ لفظ مانند کی جنس وہ لفظ طے کرتا ہے جس سے تشبیہ دی جائے . لیکن واقعہ یہ ہے کہ شعرا نے مذکر اور مونث دونوں طرح كے الفاظ كے ساتھ ’كے‘ اور ’کی‘ باندھا ہے . مونث الفاظ كے ساتھ ’کی‘ کی مثال میں پہلے ہی دے چکا ہوں . اب مذکر كے ساتھ ’کی‘ کی مثال دیکھیے .
جناب - کچھ کنفیوژن ضرور ہے - آپ لکھ رہے ہیں
ارشد صاحب ، وضاحت کا شکریہ ! لیکن افسوس کہ آپ کی بات صاف ہونے کی بجائے میرے لیے اور الجھ گئی ہے .