علوی صاحب ، میں تکلف سے کام نہیں لیتا ، احتیاط برتتا ہوں کہ ٹھیس نہ لگ جائے کہیں آبگینوں کو ۔ جواب در جواب مراسلوں اور بحثا بحثی سے بچنا چاہتا ہوں کہ اس کا فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ وقت الگ ضائع ہوتا ہے۔ سو اسی لئے پہلے ہی معذرت اور درگزر کی درخواست کردیتا ہوں۔

دراصل انٹرنیٹ پر بات چیت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بعض اوقات آپ کے الفاظ اور پیرایۂ اظہار مخاطب تک اس طرح نہیں پہنچتے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔ روبرو گفتگو میں تو اسّی نوے فیصد کمیونیکیشن لہجے کے اتار چڑھاؤ اور حرکات و سکنات سے ہوتی ہے جو ظاہر ہے کہ انٹر نیٹ گفتگو میں ممکن نہیں۔ میرے نزدیک کسی کی دل آزاری یا فسادِ خلق سے پرہیز علمی و ادبی نکتہ آرائی سے زیادہ اہم ہے۔ خیر ۔
جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ بو کی تین نہیں بلکہ درجنوں قسمیں ممکن ہیں جن میں سے کچھ کا ذکر میں نے اپنے پچھلے مراسلے میں کردیا تھا۔ (ایک مشہور شعر کے مطابق چمن سے صرف بوئے گل ہی نہیں بلکہ بوئے کباب بھی آسکتی ہے۔



) نکتہ یہی تھا کہ نہ صرف نذرِ بو میں معنوی تعقید کا ایک ممکنہ پہلو بھی ہے بلکہ نذرِ بو کی ترکیب نامکمل اور مبہم بھی لگتی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لئے یہ دو مثالیں دیکھئے گا۔
ہوائے صبحِ گلستاں میں ہے جو بوئے خزاں
نہ جانے غنچۂ تازہ پہ رات کیا گزری
جمالِ گلشنِ ہستی کا اعتبار نہ کر
گلوں سے اٹھتی ہوئی موجِ بوئے مرگ بھی دیکھ
یعنی چمن ، ہوا ، گل ، کانٹے وغیرہ کے سیاق و سباق میں بو سے مراد خوشبو ہونا ضروری نہیں ہے۔ بو کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔ چونکہ آپ نے اپنی نثری تشریح میں بو سے مراد بوئے گل کہا تھا تو میں نے اسی تناظر میں بوئے گل کی تجویز دینے کی جرات کی تاکہ آپ کی بات براہِ راست ہوجائے ۔ لیکن درحقیقت آپ کے شعر میں بوئے گل سے زیادہ بوئے بہار کا محل ہے ۔ یعنی ہوا جس طرح پھو ل تک بوئے بہار لے کر آتی ہے اسی طرح کانٹے تک بھی لائی تھی لیکن پھول کے برعکس کانٹے نے نذرِ بوئے بہار کو قبول نہیں کیا، کم نصیب اور تنگ دامن نکلا ۔
بہرحال ، آخر میں پھر ایک دفعہ سخن گستری کے لئے معذرت طلب ہوں ۔

علوی صاحب، امید ہے کہ آپ کی اگلی غزل جلد ہی پڑھنے کو ملے گی ۔